Jamaat-e-Islami Pakistan |

دفعہ۔۔۔21 تا 25 ۔۔ مجلس شوریٰ کی ترتیب،افتتاحی اجلاس،میعاد،معمول کا اجلاس، غیر معمولی اجلاس


دفعہ۲۱ :  مجلس شوریٰ کی ترکیب   (۱)(  ا )  مجلس شوریٰ کے منتخب ارکان کی تعداد اسی (۸۰) ہوگی جن میں سے ستر (۷۰) مردوں کی اور دس (۱۰) خواتین کی نشستیں ہوں گی۔ مردوں کی نشستوں پر مرد ارکان اور خواتین کی نشستوں پر خواتین ارکان کے براہ راست ووٹ سے انتخاب ہوگا۔
 (ب) ہر انتخاب سے پہلے انتخابی کمیشن مرد ارکان اور خواتین ارکان کی تعداد کو تنظیمی صوبوں کے ارکان کے تناسب سے علیحدہ علیحدہ تقسیم کرکے مردوں اور خواتین کے مناسب حلقہ ہائے انتخاب کا تعین اس طرح کرے گا کہ کوئی صوبہ مرد و خواتین کی کم از کم ایک ایک نشست سے محروم نہیں رہے گا۔
        (۲)امیر جماعت اس مجلس کا صدر ہوگا اور تقسیم آراء کے موقع پر آراء کے مساوی ہونے کی صورت میں اسے ترجیحی رائے (Casting Vote) دینے کا حق ہوگا۔
        (۳)( ا) قیّم جماعت بر بنائے عہدہ مجلس کا رکن اور معتمد ہوگا۔
(ب) نائب امراء (اگر کوئی ہوں) بربنائے عہدہ مجلس کے رکن ہوں گے۔
(ج) امرائے صوبہ بربنائے عہدہ مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے رکن ہوںگے۔
(د) قیمہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین بربنائے عہدہ مرکزی مجلس شوریٰ کی رکن ہوں گی۔
(۴)اگر مرکزی مجلس ِ شوریٰ کی کوئی نشست خالی ہو جائے تو اس کو تین ماہ کے اندر پُر کرنا ضروری ہوگا۔
(۵)مرکزی شعبوں کے ناظمین مجلس ِ شوریٰ کے اجلاسوں میں شریک ہوسکیں گے اور بحث میں حصہ لینے کے مجاز ہوں گے مگر ووٹ دینے کے مجاز نہ ہوں گے الاّیہ کہ مجلس ِ شوریٰ کے منتخب شدہ رکن ہوں۔
(۶)مرکزی عملے کے ارکان مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے انتخاب کے لیے اس انتخابی حلقے کے ووٹروں میں شامل ہوں گے جس کی حدود میں وہ رہتے ہوں مگر مرکزی شعبوں کے ناظمین صرف ووٹ دینے کے مجاز ہوں گے‘ ان کو مجلس ِ شوریٰ کا رکن منتخب نہ کیا جاسکے گا۔
دفعہ ۲۲: افتتاحی اجلاس :۔  مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد دوماہ کے اندر اندر امیر جماعت اس مجلس کا افتتاحی اجلاس طلب کرے گا جس میں تمام ارکانِ مجلس فرداً فرداً امیر جماعت کے روبرو رکنیت شوریٰ کا حلف اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر ۲ میں درج ہے۔ اس کے بعد امیر جماعت انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے‘ نیز جماعت کے موجود الوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔
  دفعہ ۲۳:میعاد:۔    (۱) مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان کا انتخاب تین سال کے لیے ہوگا‘ لیکن اگر اس میعاد کے دوران میں جماعت کے حالات میں کسی تغیر یا کسی اور معقول وجہ سے امیر جماعت مجلس ِ شوریٰ کے نئے انتخاب کی ضرورت محسوس کرے تو وہ مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے اس کا فیصلہ کرسکتا ہے۔
(۲)اگر کبھی غیر معمولی حالات کی وجہ سے نئی مجلس ِ شوریٰ کا بروقت انتخاب مشکل ہو جائے تو امیر جماعت کو اختیار ہوگا کہ جماعت کے تنظیمی صوبوں‘ حلقوں اور اضلاع کے امراء (جو بھی موجود ہوں) کے مشورے سے موجود الوقت مجلس ِ شوریٰ کی میعاد میں ایک سال تک اضافہ کردے۔
دفعہ 24:  معمول کا اجلاس:۔   (۱) مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا سال میں معمولاً ایک اجلاس ہوگا جو عام حالات میں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ہوگا۔ اس میں جماعت کے کام کی رپورٹ‘ میزانیہ اور مرکزی بیت المال کے ایک سال قبل کے حسابات کی آڈٹ رپورٹ پیش ہوگی۔ جماعت کے سال بھر کے کام کا جائزہ لیا جائے گا۔ اور آئندہ سال کے لیے پروگرام مرتب کیا جائے گا۔ مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس کو مجلس کا معمول کااجلاس کہا جائے گا۔
(۲)مرکزی مجلس شوریٰکے  معمول کے دو اجلاسوں میں پندرہ ماہ سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہوگا۔
دفعہ ۲۵: غیرمعمولی اجلاس  (۱)مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس امیرِجماعت ہر وقت طلب کرسکے گا۔
 (۲)مرکزی مجلس ِ شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس حسب ذیل صورتوں میں لازماً طلب کیا جائے گا۔
(ا)    جب کہ اس مجلس کے کم ازکم ایک چوتھائی ارکان، اس کے انعقاد کا امیرجماعت سے تحریری مطالبہ کریں تو مجلس شوریٰ کا اجلاس 30روز کے اند ر منعقد ہونالازمی ہوگا۔
(ب) جب کہ امیر جماعت کا منصب خالی ہو جائے اور کوئی نائب‘ قائم مقام یا عارضی امیر موجود نہ ہو… اس صورت میں جماعت کا مرکزی شعبہ تنظیم اس کو طلب کرنے کا مجاز ہو گا۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس