Jamaat-e-Islami Pakistan |

دفعہ۔۔۔11تا 15 ۔۔ نظامِ جماعت کی نوعیت اور اس کے چلانے والوں کے اوصاف


نظامِ جماعت کی نوعیت اور اس کے چلانے والوں کے اوصاف
 

دفعہ ۱۱: جماعت اسلامی پاکستان کا نظام شورائی ہوگا اور تنظیمی لحاظ سے مرکزی اور مختلف علاقائی نظاموں پر مشتمل ہوگا۔
 تشریح:  نظام کے شورائی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس جماعت میں امیر اور اہل شوریٰ کا عزل و نصب، ارکانِ جماعت کی رائے سے ہوگا اور جماعت کے سارے کام اسلامی احکام کے مطابق مشورے سے چلائے جائیں گے۔
دفعہ۱۲: اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کاتعین اس کے حسب و نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہوگا جو وہ اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اُس کے اس تعلق کا ثبوت اُس کی ان نفسی، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا، جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں کرے گا۔
تشریح:  اس دفعہ کا مقصود ارکان جماعت کے سامنے وہ اصولی معیار پیش کرنا ہے جس کے لحاظ سے وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جانچیں اور پرکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ اس جماعت کے نظام میں کس قسم کے لوگوں کو آگے اور کس قسم کے لوگوں کو پیچھے رہنا چاہیے۔ جہاں تک رکنیت کے حقوق کا تعلق ہے، اس میں تمام ارکانِ جماعت مساوی ہیں‘ لیکن جہاں تک اخلاقی فضل و شرف کا اور نظامِ جماعت میں رہنمائی و پیش روی اور ذمہ دارانہ مناصب کے استحقاق کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کسی کی خاندانی وجاہت‘ یا شہرت و نا موری‘ یا دولت و ثروت‘ یا علمی اسناد کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ اس بنیاد پر ہوگا کہ کون اللہ اور رسولؐ کے احکام کا زیادہ پابندہے‘ دین کے فہم اور اس کے مطابق عمل میں زیادہ بڑھا ہوا ہے‘ تحریک اسلامی کے کام کو چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے اور اس جماعت کے نصب العین کی خاطر وقت‘ محنت‘ اور مال کی بے دریغ قربانی کرنے والا ہے۔
جو لوگ دفعہ ۶کے مطابق رکنیت کی لازمی شرطیں پوری کر دیں‘ مگر نہ تو دفعہ ۸ کے مطابق اپنی تکمیل کی کوئی خاص کوشش کریں‘ نہ جماعت کے کاموں میں کسی خاص سرگرمی کا اظہار کریں اور نہ اپنی حیثیت کے مطابق مال‘ وقت اور قوت اس نصب العین کی راہ میں صرف کریں جس کے لیے یہ جماعت جدوجہد کر رہی ہے‘ وہ رکن جماعت تو رہ سکتے ہیں مگر اس کے اہل نہیں ہوسکتے کہ اس جماعت کے نظام میں ان کو پیش روی کا مقام دیا جائے یا ذمہ داری کے مناصب سونپے جائیں۔ ایسے کسی شخص کو اگر اس کی دوسری حیثیات کا لحاظ کرکے یہ مرتبہ دیا جائے گا تو وہ اس دستور کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
دفعہ ۱۳: امیر (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کے انتخاب و تقرر میں حسب ذیل اوصاف کو مدنظر رکھا جائے گا:
(۱)    یہ کہ نہ وہ امارت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہو جو یہ پتا دیتی ہو کہ وہ امارت کا خود خواہشمند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔
(۲)یہ کہ ارکان جماعت اس کے تقویٰ‘ علم کتاب و سنت‘ امانت و دیانت‘ دینی بصیرت‘ تحریک اسلامی کے فہم‘ اصابت رائے‘ تدبر‘ قوت فیصلہ‘ اللہ کی راہ میں ثبات و استقامت اور نظم جماعت کو چلانے کی اہلیت پر اعتماد رکھتے ہوں۔
(۳)یہ کہ صوبے و حلقے کی امارت کی صورت میں کم از کم دو سال سے اور علاقائی یا ضلعی امارت کی صورت میں کم از کم ایک سال سے جماعت کارکن ہو‘ الاّیہ کہ امیر جماعت اس کو اس شرط سے مستثنیٰ کرنے کی ضرورت سمجھے۔
دفعہ ۱۴: مجلسِ شوریٰ (خواہ وہ مرکزی ہو یا ماتحت) کی رکنیت کے لیے کسی شخص کے انتخاب میں حسب ذیل اوصاف کو مدنظر رکھا جائے گا۔
(۱)    یہ کہ نہ وہ مجلس کی رکنیت کا خود امیدوار ہو اور نہ اس سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی ہو جو یہ پتا دیتی ہو کہ وہ رکنیت کا خواہش مند یا اس کے لیے کوشاں ہے۔
(۲)یہ کہ وہ علم و تقویٰ‘ امانت و دیانت‘ فہم و بصیرت‘ اللہ کی راہ میں ثبات و استقامت اور دعوت کے سلسلے میں خدمات کے لحاظ سے قابل اعتماد اور عام ارکان سے ممتاز ہو۔
٭…٭…٭


مرکزی نظام
 اجتماعِ ارکان‘ امیر جماعت‘ مرکزی مجلسِ شوریٰ ‘
مجلس عاملہ‘ قیّمِ جماعت‘ ناظمین مرکزی شعبہ جات


 

دفعہ ۱۵: جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی نظام حسب ذیل اجزا پر مشتمل ہوگا:
(۱)    جماعت اسلامی پاکستان کے ارکان کا اجتماع عام( دفعہ۱۶)
(۲)امیر جماعت (دفعہ ۱۷) اور اس کے مقرر کردہ نائب امراء (اگر کوئی ہوں) (دفعہ۱۹- ۴- ج)
(۳)مرکزی مجلس ِ شوریٰ (دفعہ ۲۱)
(۴)مرکزی مجلس عاملہ (دفعہ۱۹-۴-  ا،۳۴)
(۵)قیّم جماعت (دفعہ ۳۵)
(۶)مرکزی شعبوں کے ناظمین (دفعہ۱۹-۴-ح،۳۷)
(۷)الیکشن کمیشن (دفعہ ۳۷۔ ا)
(۸) الیکشن ٹریبونل (دفعہ ۳۷۔ب)
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس