Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ۔۔۔1 تا 5 ۔۔ نام‘ نصب العین اور شرائط و فرائض رکنیت


نام‘ نصب العین اور شرائط و فرائض رکنیت
 

دفعہ۱:اس جماعت کا نام ’’جماعت اسلامی پاکستان‘‘ اور اس دستور کا نام ’’دستور جماعت اسلامی پاکستان‘‘ ہوگا۔
دفعہ ۲: یہ دستور یکم جون ۱۹۵۷ء مطابق ۲ ذی القعدہ ۱۳۷۶ھ سے نافذ العمل ہوگا۔ ۱؎
دفعہ۳:  جماعت اسلامی پاکستان کا بنیادی عقیدہ لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ ہو گا۔ یعنی یہ کہ صرف اللہ ہی ایک الٰہ ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں‘ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
تشریح:  اس عقیدے کے پہلے جزو یعنی اللہ کے واحد الٰہ ہونے اور کسی دوسرے کے الٰہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ زمین اورآسمان میں ہے، سب کا خالق، پروردگار، مالک اور تکوینی و تشریعی حاکم صرف اللہ ہے، ان میں سے کسی حیثیت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔
اس حقیقت کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ:
(۱) انسان اللہ کے سوا کسی کو ولی و کار ساز، حاجت روا اور مشکل کشا، فریاد رس اور حامی و ناصر نہ سمجھے، کیونکہ کسی دوسرے کے پاس کوئی اقتدار ہی نہیں ہے۔
(۲) اللہ کے سوا کسی کو نفع و نقصان پہنچانے والا نہ سمجھے، کسی سے تقویٰ اور خوف نہ کرے، کسی پر توکل نہ کرے، کسی سے امیدیں وابستہ نہ کرے کیونکہ تمام اختیارات کا مالک وہی اکیلا ہے۔
(۳) اللہ کے سوا کسی سے دعا نہ مانگے‘ کسی کی پناہ نہ ڈھونڈے‘ کسی کو مدد کے لیے نہ پکارے۔ کسی کو خدائی انتظامات میں ایسا دخیل اور زور آور بھی نہ سمجھے کہ اس کی سفارش قضائے الٰہی کو ٹال سکتی ہو‘ کیونکہ اللہ کی سلطنت میں سب بے اختیار رعیت ہیں‘ خواہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء۔
(۴) اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہ جھکائے‘ کسی کی پرستش نہ کرے‘ کسی کو نذر نہ دے اور کسی کے ساتھ وہ معاملہ نہ کرے جو مشرکین اپنے معبودوں کے ساتھ کرتے رہے ہیں‘ کیونکہ تنہا ایک اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے۔
(۵) اللہ کے سوا کسی کو بادشاہ‘ مالک الملک اور مقتدر اعلیٰ تسلیم نہ کرے‘ کسی کو بہ ا ختیارِ خود حکم دینے اور منع کرنے کا مجاز نہ سمجھے‘ کسی کو مستقل بالذات شارع اور قانون ساز نہ مانے اور ان تمام اطاعتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دے جو اللہ کی اطاعت کے تحت اور اس کے قانون کی پابندی میں نہ ہوں‘ کیونکہ اپنے ملک کا ایک ہی جائز مالک اور اپنی خلق کا ایک ہی جائز حاکم اللہ ہے ۔اس کے سوا کسی کو مالکیت اور حاکمیت کا حق نہیں پہنچتا۔

نیز اس عقیدے کو قبول کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ:
(۶) انسان اپنی آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہو جائے‘ اپنی خواہشاتِ نفس کی بندگی چھوڑ دے اور اللہ کا بندہ بن کر رہے جس کو اس نے الٰہ تسلیم کیا ہے۔
(۷) اپنے آپ کو کسی چیز کا مالک و مختار نہ سمجھے‘ بلکہ ہر چیز حتیٰ کہ اپنی جان‘ اپنے اعضاء اور اپنی ذہنی اور جسمانی قوتوں کو بھی اللہ کی مِلک اور اس کی طرف سے امانت سمجھے۔
(۸) اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذمہ دار اور جواب دہ سمجھے اور اپنی قوتوں کے استعمال اور اپنے برتائو اور تصرفات میں ہمیشہ اس حقیقت کو ملحوظ رکھے کہ اسے قیامت کے روز اللہ کو ان سب چیزوں کا حساب دینا ہے۔
(۹)      اپنی پسند کا معیار اللہ کی پسند کو اور اپنی ناپسندیدگی کا معیار اللہ کی ناپسندیدگی کو بنائے۔
(۱۰) اللہ کی رضا اور اس کے قرب کو اپنی تمام سعی و جہد کا مقصود اور اپنی پوری زندگی کا محور ٹھہرائے۔
(۱۱) اپنے لیے اخلاق میں‘ برتائو میں‘ معاشرت اور تمدن میں‘ معیشت اور سیاست میں‘ غرض زندگی کے ہر معاملے میں صرف اللہ کی ہدایت کو ہدایت تسلیم کرے اور ہر اس طریقے اور ضابطے کو رد کردے جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہو۔

اس عقیدے کے دوسرے جزو یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے رسول اللہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سلطان کائنات کی طرف سے روئے زمین پر بسنے والے انسانوں کو جس آخری نبیؐ کے ذریعےسے مستند ہدایت نامہ اور ضابطہ قانون بھیجا گیا اور جس کو اس ضابطے کے مطابق کام کرکے ایک مکمل نمونہ قائم کردینے پر ما مور کیا گیا‘ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس امر واقعی کو جاننے اور تسلیم کرنے سے لازم آتا ہے کہ:
(۱)انسان ہر اس تعلیم اور ہر اس ہدایت کو بے چون و چرا قبول کرے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔
(۲) اس کو کسی حکم کی تعمیل پر آمادہ کرنے کے لیے اور کسی طریقے کی پیروی سے روک دینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہو کہ اس چیز کا حکم یا اس چیز کی ممانعت رسولؐ اللہ سے ثابت ہے۔ اس کے سوا کسی دوسری دلیل پر اس کی اطاعت موقوف نہ ہو۔
(۳) رسولؐ اللہ کے سوا کسی کی مستقل بالذات پیشوائی و رہنمائی تسلیم نہ کرے۔ دوسرے انسانوں کی پیروی کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے تحت ہو‘ نہ کہ ان سے آزاد۔
(۴) اپنی زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کی کتاب اور اس کے رسولؐ کی سنت کو حجت اور سند اور مرجع قرار دے‘ جو خیال یا عقیدہ یا طریقہ کتاب و سنت کے مطابق ہو اسے اختیار کرے، جو اس کے خلاف ہو اُسے ترک کردے، اور جو مسئلہ بھی حل طلب ہواُسے حل کرنے کے لیے اسی سرچشمۂ ہدایت کی طرف رجوع کرے۔
(۵) تمام عصبیتیں اپنے دل سے نکال دے خواہ وہ شخصی ہوں یا خاندانی‘ یا قبائلی و نسلی‘ یا قومی و وطنی‘ یا فرقی و گروہی۔ کسی کی محبت یا عقیدت میں ایسا گرفتار نہ ہو کہ رسولؐ اللہ کے لائے ہوے حق کی محبت و عقیدت پر وہ غالب آجائے یا اس کی مدِ مقابل بن جائے۔
(۶) رسولؐ اللہ کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے‘ کسی کو تنقید سے بالاتر نہ سمجھے‘ کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو‘ ہر ایک کو اللہ کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجے میں ہو‘ اس کو اسی درجے میں رکھے۔
(۷) محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی دوسرے انسان کا یہ منصب تسلیم نہ کرے کہ اس کو ماننے یا نہ ماننے پر آدمی کے کفر و ایمان کا فیصلہ ہو۔
دفعہ۴: جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت ِ الٰہیہ یا اسلامی نظام زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاح اخروی کا حصول ہوگا۔
تشریح: ’’الدین‘‘، ’’حکومت الٰہیہ‘‘ اور ’’اسلامی نظام زندگی‘‘ تینوں اس جماعت کی اصطلاح میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے جس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ’’اقامتِ دین‘‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اسی مفہوم کو یہ جماعت اپنی زبان میں ’’حکومت ِ الٰہیہ‘‘ یا ’’اسلامی نظامِ زندگی‘‘ کے قیام سے ادا کرتی ہے۔ ان تینوں کا مطلب اس کے نزدیک ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی کے جس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے اس میں وہ برضا و رغبت اسی طرح اللہ کی تشریعی حکومت تسلیم کرے جس طرح دائرۂ جبر میں کائنات کا ذرہ ذرہ چار و ناچار اس کی تکوینی حکومت تسلیم کر رہا ہے۔ اللہ کی اس تشریعی حکومت کے آگے سر جھکانے سے جو طریقِ زندگی رونما ہوتا ہے وہی ’’الدین‘‘ ہے‘ وہی ’’حکومت الٰہیہ‘‘ ہے اور وہی ’’اسلامی نظام زندگی ‘‘ہے۔
اقامت دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں ہے بلکہ پورے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے‘ نماز‘ روزہ اور حج و زکوٰۃ سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں ہے۔ پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کاکام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے‘ ہر مومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا‘ اہل ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اگرچہ مومن کا اصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے‘ مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصبُ العین اقامت دین اور حقیقی نصبُ العین وہ رضائے الٰہی ہے جواقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہو گی۔
دفعہ۵: جماعت کا مستقل طریق کار یہ ہوگا کہ:
(۱)وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ اللہ اور رسولؐ کی ہدایت کیا ہے۔ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش ِ نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجائش ہوگی۔
(۲)اپنے مقصد اور نصبُ العین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔
(۳)جماعت اپنے پیشِ نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔ یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیا جائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔
(۴)جماعت اپنے نصبُ العین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس