Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ۔۔۔17


2۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان

1۔ جماعت اسلامی پاکستان کا ایک امیر ہوگا، جس کی حیثیت ”امیر المومنین“ (باصطلاحِ معروف) کی نہ ہوگی بلکہ صرف اس جماعت کے امیر کی ہوگی۔ جماعت کے ارکان اس کی اطاعت فی المعروف کے پابند ہوں گے۔

2۔ جماعت کی دعوت اپنے عقیدہ اور نصب العین کی طرف ہوگی، نہ کہ اپنے امیر کی شخصیت اورامارت کی طرف۔

3۔ امیر جماعت کا تقرر ارکانِ جماعت بلا واسطہ انتخاب کے ذریعے سے کریں گے اوراس انتخاب میں آراء کی مجرد اکثریت فیصلہ کن ہوگی۔

3۔الف۔ امیر جماعت کی مدتِ امارت ختم ہونے سے کم از کم تین مہینے پہلے مجلس شوریٰ انتخاب امارت کا انتظام کرنے کے لے ایک ناظمِ انتخاب مقرر کرے گی اور اس انتخاب کے لیے ضروری قواعد بنائے گی۔

4۔ امیر جماعت کا انتخاب بیک وقت پانچ سال کے لیے ہوگا اور ارکانِ جماعت چاہیں تو ایک ہی شخص کو بار بار منتخب کرسکیں گے۔

5۔ ضروری ہوگا کہ ایک امیر کی مدت ختم ہونے سے پہلے امارت کا نیا انتخاب ہوجائے۔ لیکن اگر کسی وجہ سے ایسا نہ ہوسکے تو نئے امیر کے منتخب ہوکر اس ذمہ داری کو سنبھالنے تک پہلا امیر اس منصب پر فائز رہے گا۔ مگر یہ مدت تین ماہ سے زیادہ دراز نہ ہوسکے گی۔

6۔ اگر کسی وقت امارت کا منصب امیر کے استعفیٰ، معزولی یا کسی اور وجہ سے خالی ہوجائے اور ارکانِ جماعت سے نئے امیر کا فوری انتخاب کروانا ممکن نہ ہو تو جماعت کی مرکزی مجلسِ شوریٰ عارضی طور پر ایک امیر کا انتخاب کرے گی۔ اس انتخاب میں ارکانِ شوریٰ کی مجرد اکثریت فیصلہ کن ہوگی۔ یہ عارضی انتظام زیادہ سے زیادہ چھ مہینے کے لیے ہوگا اور اس مدت کے گزرنے سے پہلے ضروری ہوگا کہ ارکانِ جماعت سے نئے امیر کا انتخاب کرالیا جائے۔

اگر کسی وقت امیر جماعت کے لیے عارضی طور پر اپنے فرائض سے سبکدوش ہونا ناگزیر ہو جائے تو وہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں سے کسی کو اپنا قائم مقام مقرر کردے گا۔ مگر اس تقرر کی میعاد ایک سال سے زائد نہ ہوگی اور چھ ماہ سے زائد ہونے کی صورت میں اس کے لیے مرکزی مجلسِ شوریٰ کی توثیق ضروری ہوگی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس