Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دفعہ۔۔۔12 (جماعت فرق مراتب کامعیار)


اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا تعین اس کے حسب و نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہوگا جو وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اس کے اس تعلق کا ثبوت اس کی ان نفسی ، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں کرے گا۔

تشریح: اس دفعہ کا مقصود ارکانِ جماعت کے سامنے وہ اصولی معیار پیش کرنا ہے جس کے لحاظ سے وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جانچیں اور پرکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ اس جماعت کے نظام میں کس قسم کے لوگوں کو آگے اور کس قسم کے لوگوں کو پیچھے رہنا چاہیے۔ جہاں تک رکنیت کے حقوق کا تعلق ہے، اس میں تمام ارکانِ جماعت مساوی ہیں، لیکن جہاں تک اخلاقی فضل و شرف کا اور نظامِ جماعت میں رہنمائی وپیش روی اور ذمہ دارانہ مناصب کے استحقاق کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کسی کی خاندانی وجاہت، یا شہرت و ناموری، یادولت و ثرت، یاعلمی اسناد کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ اس بنیا دپر ہوگا کہ کون اللہ اور رسول کے احکام کا زیادہ پابند ہے، دین کے فہم اور اس کے مطابق عمل میں زیادہ بڑھا ہوا ہے، تحریکِ اسلامی کے کام کو چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے اور اس جماعت کے نصب العین کی خاطر وقت، محنت، ذہانت اور مال کی بے دریغ قربانی کرنے والا ہے۔

جولوگ دفعہ 6 کے مطابق رکنیت کی لازمی شرطیں پوری کردیں، مگر نہ تو دفعہ8 کے مطابق اپنی تکمیل کی کوئی خاص کوشش کریں، نہ جماعت کے کاموں میں کسی خاص سرگرمی کا اظہار کریں اور نہ اپنی حیثیت کے مطابق مال، وقت اور قوت اس نصب العین کی راہ میں صرف کریں جس کے لیے یہ جماعت جدوجہد کر رہی ہے، وہ رکن جماعت تو رہ سکتے ہیں مگر اس کے اہل نہیں ہوسکتے کہ اس جماعت کے نظام میں ان کو پیش روی کا مقام دیا جائے یا ذمہ داری کے مناصب سونپے جائیں۔ ایسے کسی شخص کواگراس کی دوسری حیثیات کا لحاظ کر کے یہ مرتبہ دیا جائے گا تو وہ اس دستور کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس