Jamaat-e-Islami Pakistan |

حیا عورت کی پہچان؛ تحریر: خدیجہ عمیر

  1. نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس میں حیا نہیں وہ جو جی چاہے وہ کرے۔ افسوس اب ہر طرف بے حیائی پھیل چکی ہے۔حیا کا مفہوم لوگ بھول چکے ہیں۔دور کیا جائیں اپنے رسموں و رواج میں حیا نام کی کوئی چیز نہیں۔دل خون کے آ نسو روتا ہے۔کسی کو کہیں تو وہ آ پ کو دین میں سخت کے فتوے لگا دیتا ہے۔واقعی نبی پاک کی بات صحیح ثابت ہو رہی ہے۔لوگ برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ گئے ہیں۔پاکستان جو اسلام کے نام پر لیا تھا اس کے جنازے نکل چکے ہیں۔حیا ایمان کی شاخ ہے۔حیا ایمان کا حصہ ہے۔ہم نے ایمان بیچ دیے ہیں۔مغربی تہذیب کے ہاتھوں اور فخر محسوس کرتے ہیں ان کی تہذیب اپنا کر۔باپ،بھائی،بیٹوں کے غیرت کے جنازے نکل چکے ہیں۔اللہ اب ہم سب کو ہدایت دے۔بیٹیوں کے دوپٹے جو شرم و حیاءکا نشان تھے۔ ختم ہو چکے ہیں۔ آ نکھوں میں حیا ختم ہو گئی ہے۔اگرکسی سے بات کی جائے تو کہیں گے کہ آ نکھوں میں حیا ہونی چاہئے۔
    اسلام میں جب پردے کا حکم آ یا تو دنیا کی سب سے زیادہ حیا دار بیبیوں نے سب سے زیادہ حیا دار مردوں سے پردہ کیا۔اللہ کرے وہ وقت جلد آ ئے کہ ہماری بیٹیاں حیا کی چادر میں آئیں۔قرآن وسنت کو اپنا نصب العین بنانے سے ہم انشاءاللہ دنیا و .آ خرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔
    جس طرح قرآن مجید میں سورة احزاب میں ہے
    ”ٹک کر رہو اپنے گھروں میں اور سج دھج نہ دیکھاتی پھرو دورجاہلیت کی طرح “نماز قائم کرو اور زکوٰة دو۔اللہ تو بس چاہتا ہے تم کو گندگی سے دور رکھے اور تم کو پاک کر دے۔اللّہ تعالیٰ کرے کہ ہم عورتیں اس آ یت سے سبق حاصل کریں۔
    عورت کی پہچان اور اس کا زیور شرم و حیا میں چھپا ہے۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس