Jamaat-e-Islami Pakistan |

پردہ مومن عورت کا امتیاز ہے؛تحریر: فرحین ریحان



  1. جب کبھی غیرت انسان کا سوال آتا ہے.
    بنت زہرا تیرے پردے کا خیال آتا ہے
    آج کی مز ین دنیا صر ف حقوق لینے کا سبق دیتی ہے جبکہ بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ دنیا، فرائض کی دنیا ہے.جب اللہ کا حکم آ جاتا ہے تو اس کا نفاذ سب سے پہلے اپنی ذات پر اور پھر معاشرے پر ہوتا ہے مگر (معذرت کے ساتھ) ہمارے معاشرے کا مزاج ایسا ہوتا جا رہا ہے جیسے اللہ تعالی نے (نعوذ باللہ) ہم سے درخواست کی ہے ۔حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن و حدیث کے ذریعے ہمیں حکم دیا ہے اب اس بات کی حکمت ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے من وعن عمل ''واجب'' ہے. پردہ نظر کا ہوتا ہے اس سوچ نے آج آدھی انسانیت کو برہنہ کر دیا.۔
    قرآن کی سورت القصص کی آیت نمبر 25 میں اللہ تعالی نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کا ذکر کیا ہے اس آیت کا مفہوم ہے کہ'' شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی'' دنیا ''پردہ'' کی تعریف کرے مگر قرآن کی اس ایک آیت کا مقابلہ نہیں کرتی کر سکتی یہی عورت کی پہچان اس میں اس کی عزت اور اسی میں اس کی زینت ہے. اللہ تعالی نے پردہ کو عورت کے لئے پسند فرمایا ہے اور جس کو اللہ تعالی نے ہمارے لیے ضروری قرار دیا اس حکم میں کجی کیسے ہو سکتی ہے؟ وہ رب جو ستر ما ¶ں سے زیادہ چاہتا ہے، وہ رب جو ہمیں نوازنے کے بہانے ڈھونڈتا ہے، ہے وہ رب جس نے ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا دیا۔
    جب حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا اللہ تعالی نے تخلیق کیا تو وہ کافی عرصے تک پڑا رہا. لیکن حضرت حوا علیہ السلام کا پتلا کب بنایا؟ کب ان کو وجود ملا؟ یہ پتہ نہ چل سکا اسی طرح اللہ تعالی نے قرآن مجید میں حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ کا ذکر کیا، بہن کا تذکرہ کیا، حضرت آسیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا تزکرہ فرمایا مگر نام کا بھی پردہ رکھا. جب پردے کا حکم نازل ہوا تو تمام صحابیہ رضی اللہ عنہا نے فوراً لبیک کہا جو جہاں تھیں وہیں پر قرار پکڑا اپنے اپنے گھروں سے جو چیز پردہ کے لئے میسر تھی منگوائی اور پھر اس کے بعد پورے پردے کے ساتھ اپنے گھروں میں تشریف لے گئیں.
    آج کچھ خواتین معاشرے میں آزادی کا نعرہ لگا کر ہمارے معاشرے کو ''مادر پدر آزاد معاشرہ'' بنانا چاہتی ہیں. وہ جو کہتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کرتی ہے کسی ایک نے ایک نعرہ لگایا ''میرا جسم میری مرضی'' پھر سب نے دیکھا کہ ہمارے سروں پر ایک نہ نظر آنے والا وائرس مسلط ہوگیا!!! کیا مرد اور کیا عورت سب نے اپنے گھروں میں قرار پکڑا اور جو نقاب سے گھبراتی تھیں 24 گھنٹے ماسک لگا کر رہنے لگیں.
    اللہ تعالی نے عورت کے لیے پردے ہی میں عزت و وقار رکھا ہے. ہیرے کی قدر جوہری ہی جانتا ہے اسی طرح عورت بھی مکمل حجاب میں ہی پسندیدہ ہے. ہماری زندگی مطمع نظر محض یہ ساٹھ، ستر سال کی زندگی نہیں بلکہ مرنے کے بعد آخرت اور ہمیشہ کی ''جنت'' کی'' زندگی'' ہے. اور اس زندگی کا حاصل اللہ کی رضا مندی میں ہے. پردہ ''حقوق اللہ'' میں سے ہے اس کو کسی مخلوق کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا ہے. قرآن مجید کی 12 سے زیادہ آیات اور80 سے زائد احادیث سے پردہ کا حکم ثابت ہے. خواتین کے ''جہنم'' میں جانے کی بڑی وجہ'' بے پردگی'' ہے. آج سارے معاشرے میں اس ''گناہ کبیرہ'' کو چھوٹا سمجھا جا رہا ہے۔ اس بے شرمی کا سیلاب ہماری نسلوں کو فحاشی وعریانیت کی طرف لے جا رہا ہے. دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے. بے پردگی کی وجہ سے بہت سے لوگ حرام میں مبتلا ہو ئے. اس نظر کی خرابی کی وجہ سے مال، صحت، وقت سب ضائع ہو گیا. حیا کا تعلق خاتون کے جسم، آواز، لباس اور ان کی خاص متعلقہ چیزوں سے ہے. حتیٰ کہ اپنے محارم کے سامنے بھی احتیاط لازم ہے. ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا '' جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں '' آج کے پر فتن دور میں ہم عورتیں پردہ کر کے خود کو اور اپنی نسل کو گناہ کی زندگی سے بچا سکتے ہیں. جو چیز جتنی بڑی ہوتی ہے اس کی قیمت بھی دینی پڑتی ہے اور جنت ہمارے ''جان ومال'' کے ساتھ ''گروی'' ہے توآئیے تمام تر ذمہ داری وہمت کے ساتھ بے پردگی کے عذاب کو اپنے معاشرے سے ختم کر یں اور ہمیشہ یہ دعا کریں ''یااللہ ہمارے ان گناہوں کو معاف فرما دے جن سے ہماری حیا کم ہوگئی ہے اور یا اللہ اس حیا کو پورا بڑھا دیجئے اور ان گناہوں سے بحر وبر کی مخلوق پر جو اثرات پڑ رہے ہیں ان سے مجھے بھی بچا لیجیے اور سب مخلوقات کو بھی بچا لیجیے.۔آمین

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس