Jamaat-e-Islami Pakistan |

کرونا وائرس اور موجودہ تعلیمی منظرنامہ

  1. وفاقی وزارتِ تعلیم نے بین الصوبائی تعلیمی مشاورت کے بعد ملک بھر کے سکولز کو یکم ستمبر سے کھولنے کی سفارش کی ہے جس کے بعد این سی اوسی(NCOC)نے۵۱ستمبر سے سختs’SOPکے ساتھ سکول کھولنے کومشروط کر دیاہے گویا پاکستان میں موجودہ تعلیمی تعطل 6ماہ وسیع ہوگیا ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے سرد علاقوں کا تعلیمی نقصان لگ بھگ9ماہ پر محیط ہے جہاں یہ ادارے نومبر یا دسمبر2019ءسے ہی بند ہیں۔اس میں ایک اور خدشہ بھی موجود ہے کہ مذکورہ سرد علاقوں میں حالیہ اجازت کے بعد تعلیمی سرگرمیاں بمشکل دو یا تین ماہ جاری رہ سکیں گی۔اسلئے کہ شدید سرد علاقوں میں اس کے بعد بچوں کا سکول جانا ناممکن ہوتا ہے۔یہ ساری صورتحال والدین،اساتذہ اور ا ±ن لوگوں کیلئے شدید تفکّر کا باعث ہے جو تعلیمی منظر نامے پر نظر رکھے ہوئے ہیں،جن بین الاقوامی اداروں یا تنظیموں نے COVD-19کے پس منظر میں تعلیمی حالات کا جائزہ لیا ہے ان کے ذریعے حالیہ شہادتوں سے یہ پتہ چلا ہے کہ سکولوں کی بندش سے ہونے والے طویل مدتی(Long Term) نقصانات اپنے حجم میں بہت بڑے اور زیادہ ہو سکتے ہیں اور یہ ان کم مدتی(Short Term) نقصانات کو بہت ہی پیچھے چھوڑ جائیں گے جن کا تجربہ سکولوں کی بندش کے دوران اِس وقت ہورہا ہے۔2005ئ کے زلزلے کے اثرات و نتائج کے مطالعے سے پتہ چلا تھاکہ بچوں کو جن علاقوں میں تین مہینے سکول سے دور رہنا پڑا تو زلزلے کے چار سال بعد بھی بچے اپنے ان اسباق سے کم ازکم ڈیڑھ سال پیچھے تھے،نصاب کے جس حصے پر انہیں زلزلے کے بغیر بھی ہونا چاہیے تھا۔اس کی جو بہت زیادہ امکانی وضاحت کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں بچے پہلے ہی نصاب میں مطلوب سطح تک پہنچنے سے پیچھے تھے جب وہ سکول میں واپس آئے تو دوبارہ آنے کے بعد بھی ان کے پیچھے رہ جانے کے عمل میں مزید تنزلی جاری رہی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کچھ نہ کیا گیا تو کوویڈ19- کی وجہ سے سکولوں کی بندش تعلیم کا بہت زیادہ نقصان کر سکتی ہے۔خاص طور پر ا ±س صورت میں نقصانات کے بڑھنے کا تسلسل اسی طرح جاری رہا جیسا کہ پاکستان کے حوالے ہونے والے سروے اور جائزے وغیرہ سے پتہ چلا ہے کہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اگر نقصانات کی شدت کوکم کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی تو اس سے کس قدر فرق پڑ سکتا ہے؟اندازہ کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک میں سکولوں کی تین ماہ کی بندش بھی پورے سال سے زیادہ تعلیمی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے کیونکہ بچوں کے سکول واپس آنے کے بعد بھی نقصانات بڑھتے رہتے ہیں۔اگرچہ صورتحال تشویش ناک ہے لیکن ابھی حالات کی خرابی کا حجم،ماہرین کے نزدیک اس قدر نہیں بڑھا کہ اسے گرفت میں نہ لیا جاسکے۔مگر اصلاح ِاحوال کی کوئی بھی کوشش اسی صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے جب اسکے لیے بنائی گئی حکمت عملی پر فوری اور ابھی کے ابھی عمل درآمد شروع کر دیا جائے۔
    کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں جائزہ لیا گیا ہے کہ اگر سکولوں کی بندش سے پیدا ہونے والے نقصانات کا فوری ازالہ نہ کیا گیا توتیسرے گریڈ سے لے کر دسویں گریڈ تک کی تعلیم پر بہت ب ±رے اثرات مرتب ہونگے۔جو بین الاقوامی ادارے اور تنظیمیں تعلیم کے شعبے میں پہلے ہی سے پاکستان کی مدد کر رہی ہیں وہ کرونا کے باعث بدترین حالات میں مزید مدد کرنا چاہ رہی ہیں۔اگرچہ ا ±ن کا اپنا ایک مخصوص نقطہ نظر،ترجیحات اور ایجنڈا ہوتا ہے لیکن وہ بحث اور غورو حوض کا ایک الگ موضوع ہے، ا ±نکے مفادات اور اپنے نفع و نقصان کے حوالے سے یہ اہمیت رکھتا ہے کہ ا ±ن کا جائزہ لیا جائے تاہم ان بدلے ہوئے حالات میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے ا ±ن کے پاس فوری نوعیت کے اقدامات کی حکمت عملی بھی فوری عمل درآمد کے تقاضے لیے ہوئے ہے۔سکولوں کی طویل بندش اس میں بھی رکاوٹ بن سکتی ہے۔مئی2020ءمیں گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن(GPE)نے پاکستان کو 20ملین ڈالر کی گرانٹ دی جس کے ذریعے وہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تعلیم کے معاملے میں بحران سے نمٹنے میں مدد دینا چاہتی ہے۔ورلڈ بینک اس گرانٹ کا ایجنٹ ہے اور ا ±سی کے ذریعے عمل درآمد ہوگا۔
    کرونا وائرس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پاکستان میں 40ملین طلبہ کی تعلیم کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔GPEکی 20ملین کی گرانٹ پروگرام کے مطابق فوقیت کے ساتھ دور دراز کے علاقوں میں خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی۔جہاں ٹیکنالوجی کی رسائی محدود ہے یا بالکل نہیں ہے۔اس پروگرام سے 11ملین طلبہ اور اساتذہ فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ خاص طور پر توجہ کا مرکز خواتین ہوں گی۔جن کی تعداد50فیصد تک ہو سکتی ہے کیونکہ پاکستان جیسے ممالک کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کی رائے یہ ہے کہ یہاں خواتین کی تعلیم پر بھر پور توجہ نہیں دی جاتی۔22ملین سے زائد تعداد ایسے بچوں کی بتائی جا رہی ہے جن کی عمر5سے16سال کے درمیان ہے اور وہ کرونا وائرس کی وباﺅ سے پہلے ہی سکول سے باہر تھے۔اب اس تعداد کو بعض اوقات 19ملین بھی بتایا جا تاہے اورسکولز سے محروم بچوں کے حوالے سے پاکستان کو دنیا بھر کے ممالک میں دوسرے نمبر پر بتایا جاتا ہے۔اب جبکہ پہلے ہی یہ حال ہے تو سکول کے بچوں کی تعلیم کا معیار سمیت دیگر حوالوں سے ہونے والا نقصان موجودہ نقصان میں مزید اضافے کی وجہ بن جائے گا۔
    GPEاپنے اس پروگرام کے ذریعے ایک متبادل طریقہ کار کے طور پر فاصلاتی تعلیم(Distance Education)کو عام کرنا چاہتی ہے۔پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس طرح ان کی رسائی میں وہ 19ملین بچے بھی آجائیں گے جو کرونا وائرس سے پہلے ہی سکول سے باہر تھے۔بلوچستان کے پس ماندہ علاقوں کو بھی اس پروگرام کے دائرہ کار میں رکھا گیا ہے۔بلوچستان کے ان دور دراز علاقوں (Remote Areas) میں بچوں کے ہوم سکولنگ کے پروگرام پر تجربات ہونگے۔دیگر صوبوں میں بھی ٹیلی ایجوکیشن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیم کو عام کرنے اور ہر بچے کی دسترس میں لانے کے عزم کا اظہار کیا جار ہا ہے۔GPEنے یونیسیف(UNICEF)کے لئے ایک لاکھ چالیس ہزار ڈالر پہلے ہی سسٹم لیول کی بہتری کیلئے مخصوص کر رکھے ہیں تاکہ COVID-19سے نمٹنے کیلئے سکولوں کو دوبارہ کھولنے اورتعلیم کے تسلسل کو یقینی بنانے اقدامات کیے جا سکیں۔اسیGPEپروگرام کے ذریعے تعلیمی مواد کی تیاری اور فراہمی میں بھی مدددی جائے گی۔خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے بچوں کیلئے اس تعلیمی مواد میں کتابیں،گھر میں بیٹھ کر کام کرنے کی اسائنمنٹ شامل ہونگی اور ہوم سکولنگ میں والدین کو متعلقہ وسائل کی فراہمی میں مدد دی جائے گی۔غریب گھرانوں کے بچوں کوTABLETSاور انٹرنیٹ،ہاٹ سپاٹ کے لئے ڈیوائسز فراہم کی جائیں گی۔وزارت تعلیم،ٹیلی کام کمپنیزکے ساتھ تعاون کو بہتر بنائے گی تاکہ صوبوں میں انٹرنیٹ کی رسائی کو کم خرچ میں ممکن بنایا جا سکے۔سکولوں کو دوبارہ کھولنے کیلئے محفوظ طریقے،گائیڈ لائنز اور پروٹوکول ڈیزائن کیے جائیں گے۔سکولوں کو صفائی(Sanitization)اور حفظانِ صحت(Hygeins)سے متعلق بنیادی سازوسامان فراہم کیا جائے گا تاکہ پروٹوکول کے پیمانے پورے کئے جا سکیں۔تعلیم میں وباءکی وجہ سے جو تعطّ ±ل یا انتشار پیدا ہوا ہے اس تعلیمی خلیج کو بھرنے کیلئے اساتذہ کو پیشہ ورانہ مواقع ڈیزائن کرنے اور ڈیلیوری بہتر بنانے میں مدد دی جائے گی۔تعلیمی نقصان کو پورا کرنے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئےRemedial Education،تعلیم کی تشخیص(Assessments)کی عملی شکلوں کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔GPEکے اس تعلیمی اصلاحی پروگرام میں بظاہر کوئی ایسی چیز نظر نہیں آرہی جسے اس کی عملی شکل میں دیکھے بغیر رد کیا جا سکتا ہو۔ایسے پروگرامز کو رد کرنے کا ہمارے حکمرانوں کے پاس شاید اختیار بھی نہیں ہے اور جب پیسے ملنے کا امکان ہو تو یہ اختیار رضاکارانہ طور پر ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے۔اگر فراہم کیئے جانے والے تعلیمی مواد پر اس حوالے سے نظر رکھی جائے کہ یہ ہمارے بچوں کیلئے ضرر رساں نہ ہو تو بظاہر اس پروگرام میں ایسے مواقع موجود ہیں جو فاصلاتی تعلیم(Remote/ Distance Education)کے حوالے سے ہمارے تعلیمی مستقبل اور جدتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی شکل یہی ہے کہ ہم فاصلاتی تعلیم کے حوالے سے اپنے انفراسٹرکچر کو ایک مرتبہ مضبوطی سے قائم کر لیں۔20ملین ڈالر کی رقم یا اسی نوعیت کچھ دیگر دستیاب یا متوقع رقوم بہت کافی نہیں ہو سکتیں کیونکہ فاصلاتی تعلیم کا انفراسٹرکچر قائم کرنا ان تعلیمی منصوبوں کا محض ایک حصہ ہے ہماری مالی شراکت کے بغیر ایسے انفراسٹرکچر کا بھرپور قیام ممکن نہیں اگرچہ بہت سے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز کا اجراءکر دیا گیا ہے لیکن پاکستان میں ایسے تعلیمی اداروں کی اکثریت ہے جہاں فاصلاتی تعلیم(Distance Education)کا انتظام ہی موجود نہیں ہے۔چند یونیورسٹیوں یا سکولوں کے پاس ورچوئل تعلیم کی مناسب سہولیات ہونگی،کچھ کے پاس جزوی سطح پر ہیں۔بہت سے اساتذہ کے پاس تو اس حوالے سے کوئی ٹریننگ ہی نہیں ہے۔تعلیم کیلئے مخصوص کیے جانے والے وفاقی اور صوبائی بجٹ اگرایمانداری کے ساتھ فاصلاتی تعلیم کا انفراسٹرکچر کھڑا کرنے کی مد میں خرچ کئے جائیں تو یہ قومی وسائل کا وہ بہترین مصرف ہوگا کہ اس تعلیمی سرمایہ کاری کا بہترین منافع ہم کئی شکلوں میں حاصل کرسکتے ہیں اور اسے یقینا تعلیمی مستقبل کا تحفظ قرار دیا جا سکتا ہے۔
    تعلیم کی اہمیت،طلبہ کی صحت کی حساسیّت،کرونا کے باعث تیزی سے سکڑتے ہوئے نجی شعبہ میں بے روزگاری کے پیشِ نظر حکومت کو جس درجے میں اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا،ہماری نظر میں اس کا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان نجی تعلیمی اداروں بالخصوص سکولز کے ساتھ نہ صرف بامقصد مذاکرات (Engagement)کا اہتمام کرے بلکہ ان کے ساتھ مل کر اس تعلیمی نقصان کو جنگی بنیادوں پر کم(Minimize)کرنے کی کوشش کرے جو پہلے بھی نامساعد حالات سے دو چار ہونے کے باوجود تعلیم کے حوالے سے حکومتی جوابدہی کو اپنا شانہ فراہم کئے ہوئے ہیں۔


     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس