Jamaat-e-Islami Pakistan |

آہ! منور حسن بھی چلے گئے

  1. ”نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں“ ہماری تو نصف صدی سے بھی زائد پچپن سال کی داستان ہے۔ سچ ہے یہ دنیا مسافر خانہ ہے۔یہاں جو بھی آیا اسے چلے جانا ہے۔ خوش نصیب ہے وہ مسافر جو ہلکی پھلکی زندگی گزارے۔ اپنے ساتھ بھاری بھر کم بوجھ اٹھائے بغیر اپنی منزل سے ہمکنار ہو جائے۔ یہ خوش نصیب لوگ ہر دور میں دنیا میں پائے جاتے ہیں، مگر بہت قلیل ۔ جو محاورہ ہے ”آٹے میں نمک“ یہ عظیم لوگ اس سے بھی کم ہوتے ہیں۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ اے اہل دنیا! ان اللہ والوں کی بدولت تمھیں رزق دیا جاتا ہے اور انھی کی بدولت باران رحمت نازل ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے نام کی قسم کھا لیں تو اللہ اسے جھوٹا نہیں ہونے دیتا۔
    عالمی شہرت رکھنے والی اس شخصیت نے دنیا کو کبھی اپنے دل میں بسنے نہیں دیا۔ وہ دنیا کا راکب تھا مرکب نہیں۔ پانچ مرلے کے مکان میں پورے سکون اور مکمل اطمینانِ قلب کے ساتھ زندگی کے شب و روز بسر کیے۔ اس مکان سے پہلے اپنا خاندانی گھر سب بہن بھائیوں نے مشورے سے فروخت کر دیا اور اپنے اپنے گھر تعمیر کر لیے۔ مردِدرویش سید منور حسن، نعمت اللہ خان کے مکان کے ایک چھوٹے سے حصے میں سالہا سال مقیم رہے۔ اس کے بعد اپنا گھر بنانے کا موقع آیا۔ وہ اگر چاہتے تو بہت دولت جمع کر سکتے تھے، مگر وہ حدیث کے مطابق اللہ کے ساتھ سودا کر چکے تھے۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے ”جان لو اللہ کا سودا بڑا مہنگا ہے اور جان لو کہ اس سودے کے بدلے میں اللہ کی طرف سے جنت ملتی ہے۔“ آج سید منور حسن جیسی کوئی شخصیت مجھے نظر نہیں آتی۔ وہ اپنی مثال آپ تھے۔ کبھی صلے کی تمنا نہیں رکھتے تھے نہ ہی کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ڈرتے تھے۔ حق بات ڈنکے کی چوٹ کہتے اور پھر اس پر ڈٹ جاتے۔ باطل کے ساتھ مصلحت اور ظلم کے سامنے مداھنت ان کی لغت ہی میں نہیں تھی۔ دارا و سکندر ان کے سامنے کیا تھے؟ وہ تو اللہ کے ہاتھ اپنا سب کچھ بیچ چکے تھے۔
    دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اَولیٰ
    ہو جس کی فقیری میں بُوئے اسداللٰہی
    سید منور حسن دہلی کے ایک علمی سید گھرانے میں اگست 1941ءمیں پیدا ہوئے۔ آپ کی ایک بہن اور تین بھائی تھے۔ (بڑے بھائی سید شفیق حسن کراچی میں رہتے ہیں۔ دوسرے نمبر پر بھائی مشتاق حسن تھے جو فوت ہو چکے ہیں۔ تیسرے نمبر ارشاد حسن ہیں جو امریکہ میں مقیم ہیں) منور بھائی اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے دہلی سے کراچی آ گیا۔ یہیں سید منور حسن کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہا۔ جامعہ کراچی سے سوشیالوجی اور علوم اسلامیہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ اپنی سرگرمیوں کا آغاز دور طالب علمی میں نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے کیا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں 1959ءمیں اس طلبہ تنظیم کے کل پاکستان صدر منتخب ہوئے۔ اللہ کو اپنے اس بندے کے بارے میںکچھ اور ہی منظور تھا۔ بائیں بازو کی سیاست اور سرگرمیوں سے جلد ہی یہ نفیس طبع نوجوان بےزار ہو گیا۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوانوں کے حسنِ خلق نے سوچنے پر مجبور کیا۔ پھر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں تک رسائی ہوئی تو بلاتردداپنا راستہ بدل لیا۔ کشتیاں جلا کر آنے والا یہ مسافر پھر زندگی بھر اسی راستے پر قائدانہ کردار کے ساتھ رواں دواں رہا۔ سید منور حسن اسلامی جمعیت طلبہ میں آئے تو اپنی ذہانت و قابلیت اور للہیت و صلاحیت کے نتیجے میں بہت جلد قیادت کی منزلیں طے کرتے چلے گئے۔ پہلے کراچی یونیورسٹی کے ناظم، پھر کراچی شہر کے ناظم اور اس کے بعد تین سال تک کل پاکستان ناظم اعلیٰ کے منصب پر فائز رہے۔
    اسلامی جمعیت طلبہ سے فارغ ہونے کے بعد فوری طور پر جماعت کے رکن بنے اور کراچی جماعت کے نائب قیم، قیم، نائب امیر اور پھر امیر منتخب ہوئے۔ کراچی جماعت جو ان کے سابقین چودھری غلام محمد، پروفیسر غفور احمد، حکیم صادق حسین، محمود اعظم فاروقی جیسی عظیم شخصیتوں کی محنت شاقہ سے مضبوط بنیادوں پر کھڑی تھی، اسے مزید بلندیوں تک پہنچایا۔ اس عرصے میں مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ کے رکن بھی رہے۔ مرکز جماعت میں بطور نائب قیم ان کی ذمہ داری 1992ءمیں لگی، پھر 1993ءسے 2009ءتک مرکزی سیکرٹری جنرل رہے۔ 2009ءسے 2014تک امیر جماعت کی ذمہ داری ادا کی۔ سید منور حسن نے جماعت کی طرف سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں کئی بار حصہ لیا، مگر ایک ہی بار 1977ءکے انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کا اعزاز سید منور حسن کو ملا۔
    سید منور حسن نے عملی زندگی کا آغاز علمی سرگرمیوں سے کیا۔ ادارہ معارف اسلامی کراچی میں بطور ڈائریکٹر سالہا سال تک نہایت کامیابی سے ذمہ داری ادا کی۔ سید منور حسن کی شادی قدرے تاخیر سے ہوئی۔ ان کی اہلیہ آپا سیدہ عائشہ منور بھی تحریک اسلامی سے وابستہ اور حلقہ خواتین میں کئی سال تک جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی قیمہ (ناظمہ) کی ذمہ داریاں ادا کرتی رہیں۔ آپ خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی میں 2002ءمیںمنتخب ہوئیں۔ اللہ نے اس صالح جوڑے کو کئی بچے عطا فرمائے، مگر وہ پیدائش کے تھوڑے عرصے بعد فوت ہو جاتے رہے۔ ایک بیٹا عزیزم طلحہ اور بیٹی عزیزہ سیدہ فاطمہ منور کو رب رحمان و رحیم نے زندگی دی اور وہ اللہ کے فضل سے ان کے جانشین ہیں۔
    سید منور حسن سے پچپن سال کا ذاتی اور تحریکی تعلق رہا ہے۔ 1965ءمیں جب کہ وہ ناظم اعلیٰ تھے پہلی بار لاہور میں ملاقات ہوئی اور پھر زندگی بھر اس میں کبھی کوئی رخنہ پیدا نہیں ہوا۔ اتنے طویل عرصے تک کئی مجالس میں آرا کا اختلاف بھی رہا اور اتفاق بھی، مگر اللہ گواہ ہے اس مردِدرویش کے ساتھ باہمی محبت میں کسی تلخی اور رنجش کا شائبہ تک نہیں مل سکتا۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں، یہ اس مرددرویش کی خوبی تھی۔ وہ نہایت محبت کرنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ کبھی کبھار اپنی جیب سے معمولی تحفہ دیتے، تو دل اتنا خوش ہوتا کہ بیان نہیں کر سکتا۔ مثلاً کبھی جرابوں کا جوڑا اور کبھی جیبی رومال، کبھی کوئی سویٹر اور کبھی کوئی بنیان۔ اسی طرح میں بھی اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی ہدیہ پیش کرتا، تو بخوشی قبول فرماتے۔ منصورہ میں قیام کے دوران کبھی کبھارہم انھیں اپنے گھر بلاتے تو دعوت شیراز بخوشی قبول فرماتے۔ وہ دورِ جوانی ہی سے بہت کم خوراک کھانے کے عادی تھے۔ راتوں کو جاگنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔
    کراچی میں جن دنوں نعمت اللہ صاحب کے گھر میں مقیم تھے، کئی بار اصرار کے ساتھ مجھے اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس دور میں اکیلے ہوتے تھے اور اپنے ہاتھ سے چائے بنا کر ناشتہ کراتے تھے۔ اس درویشانہ ناشتے میں بہت لذیذ کیک رس ہوتے تھے، جن کا لطف آج بھی محسوس ہوتا ہے۔ طویل تعلق کی وجہ سے بہت سی یادداشتیں ہیں جو ان شاءاللہ قلم بند کروں گا۔ اس وقت تو قلم برداشتہ، قلب حزین کے ساتھ یہ بکھری بکھری باتیں لکھ دی ہیں۔ میںیہ بات بہت سوچ سمجھ کر زبان و قلم سے نکال رہا ہوں، میرا دل گواہی دیتا ہے (اور دل سے دعا بھی نکلتی ہے) کہ سید منور حسن اللہ کے ان خوش نصیب بندوں میں ہوں گے جن کے ساتھ رب رحمان و رحیم کی طرف سے حساب یسیر کا معاملہ کیا جائے گا۔ آج دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعزیت کررہے ہیں۔ یہ نقصان پوری عالمی اسلامی تحریک محسوس کر رہی ہے۔ شعر میں تصرف کے ساتھ عرض ہے۔
    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے ”جہاں“ کو ویران کر گیا!
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس