Jamaat-e-Islami Pakistan |

رمضان المبارک: نیکیوں کا موسم بہار (تحریر : امیر العظیم ۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان )

  1. سب زمانے اور سارے دن رات اللہ کے ہیں لیکن جو ایام اللہ تبارک وتعالیٰ نے خود مقدس قرار دیے ہیں ان میں رمضان المبارک سرفہرست ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :”یہ ہمارا مہینہ ہے“ ، اسی لیے توان دنوں میںاللہ کی رحمت کی گھٹائیں خوب برستی ہیں۔ ایک فرض نماز کاثواب ستر گنا اور ایک روپیہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا تو سات سوتک اجرو ثواب کا مستحق ٹھہرتاہے۔“ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ یہ مہینہ تمام مہینوں سے افضل واعلیٰ ہے جب یہ آتا ہے تو رحمت اور برکت لے کر آتا ہے اور جب جاتا ہے تو بخشش دے کر جاتا ہے اس ماہ مبارک میں اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ شیطان کو جکڑ دو تاکہ کوئی اس کے وسوسوں کا شکار ہو کر، برکتوں سے محروم نہ ہو جائے۔لیکن اگر کوئی بندہ اس کے باوجود اپنے نفس پر ضبط نہ کرپائے اوراپنی مغفرت نہ کرا سکے تو اس سے بڑھ کر اس کی بدقسمتی اور کیا ہو گی۔
    امسال رمضان المبارک ایسے حالات میں سایہ فگن ہو رہاہے کہ پوری دنیامیںکروناوائرس کا ایک خوف ہے لاکھوں انسان اس سے متاثر ہوئے اور ہزاروں لقمہ ¿ اجل بن گئے۔ کروڑوں کے کاروبار کا نقصان ہوا۔اس کرونا وائرس کی بدولت ساری دنیا کوبھولا ہوا سبق تازہ ہوگیا ہے کہ یہ دنیا کچھ بھی نہیں ہے ساری انسانی ترقیاں بے بس ہوگئی ہیں۔ تحفظ کی ساری تدابیر بیکارہوگئیں ہیں۔ معیار زندگی میں جو سب سے بلندتر تھے وہ موت کاترنوالہ بن رہے ہیں۔ انسان کی زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں ہے۔ پس التجائیں اور دعائیں ہیں ، جواپنے رب سے مانگ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان تک پہنچادے۔ ”اَللّٰھُمَّ بَلِّغ ±نَا رَمَضَانَ “ اور رمضان کی ساعتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے !
    ایک صاحب دانش نے کہا کہ لوگ ماضی کی فکر میں پڑے رہتے ہیں یا مستقبل کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں۔ اپنے آپ کو بھول کر دوسروں کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ سوچ و بچا رکے اس اتار چڑھاﺅ میں لمحہ موجود ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ اپنے حال کو درست کرنے کی بجائے ماضی اور مستقبل کی فکر میں پڑے رہنا نادانی ہے۔ آئیے اس ماہ مبارک میں اپنے حال کو درست کرنے کے لیے رجوع الی القرآن کی تدبیرکریں۔
    رمضان اور قرآن ۔
    قرآن پاک کو اس مہینہ سے خاص مناسبت ہے۔﴾ شَھ ±رُ رَمَضَانَ الَّذِی ±ٓ اُن ±زِلَ فِی ±ہِ ال ±قُر ±اٰن﴿(البقرة۲:۵۸۱) ”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیاگیا۔ “ رسول کریم ﷺرمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کا دورہ کیاکرتے تھے ۔صحابہ کرام ؓکے زمانے سے یہ عمل چلا آ رہاہے کہ تراویح میں قرآن کریم سنایاجاتا ہے۔
    فرمان رسول اللہ ﷺ ہے کہ روزہ اور قرآن بندہ ¿ مومن کے لیے قیامت کے دن سفارش کریں گے۔روزہ اللہ سے کہے گا کہ اے میرے رب! میں نے اس کو کھانے پینے اور جنسی خواہشات کی تکمیل سے روکے رکھاتھالہٰذا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔اسی طرح قرآن کہے گا کہ اے اللہ !میں نے تیرے اس بندے کو رات سونے سے روکے رکھا تھا لہٰذا تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما اور ان دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ قرآن کوایسے پڑھا جائے کہ نہ صرف یہ ہمارے اندر جذب ہوبلکہ اس کے ساتھ قلب و روح کا تعلق گہرا ہوجائے اور دل و دماغ و جسم سب تلاوت میں شریک ہوجائیں ۔ تلاوت قرآن کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ قرآن کے پڑھنے کا حق ادا کیاجائے اور اسے سوچ سمجھ کر،تجوید و قرا ¿ت سے پڑھا جائے ، اس پر عمل کیاجائے ، اس کا ابلاغ کیاجائے اور دوسروں کو بھی پڑھنے اور عمل کرنے کی ترغیب دی جائے۔
    نماز با جماعت کا خصوصی اہتمام :
    انسانی زندگی میں اجتماعیت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے بھی ایک مقصد تمام بنی نوع انسان کو ملتِ واحدہ بنانا ہے۔اسی لیے حضورنبی کریم ر ﷺ اور قرآن کریم کو تمام بنی نوع انسان کے لیے نازل کیاگیاہے ۔قومی وحدت اور اجتماعیت کے قیام کے لیے نماز با جماعت کا حکم اس کا عملی تصور اُجاگر کرتاہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے عمل سے ہمارے لیے نماز با جماعت کی ادائیگی کانمونہ چھوڑا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود ہوتے مگر جب اذان ہو جاتی تو ایسے لگتا تھا کہ جیسے آپ ہمیں پہنچانتے ہی نہیںہیں۔
    باقاعدگی کے ساتھ نمازِ تراویح کا اہتمام بندہ ¿ مومن کی شان ہے،رات کے آخری حصے میں پڑھی جانے والی نمازتہجد تقویٰ اور قرب الٰہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ سحری سے ذراپہلے اُٹھ کر بآسانی قیام اللیل کا اجر سمیٹاجا سکتا ہے ۔ آخری عشرہ میں لیلةالقدر کی تلاش کابھی اہتمام ہونا چاہیے۔
    دعوت افطار :
    رمضان المبارک میںدعوت افطار حصول برکات کا اہم ذریعہ ہے ہمیں اپنے ارد گرد موجودغرباءو مساکین، نادار بے سہارا ،یتیم بچوں اور بیواﺅں کی کفالت کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے ،رمضان المبارک ہمدردی و غمگساری کا مہینہ ہے اس لئے اس ماہ مبارک میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لوگوں کو بروقت سحری اور افطاری کا سامان میسر ہو،اگر کرونا کے باعث اجتماعی سرگرمیاں ممکن نہ ہوں تو افطاری پیکٹ بنا کر تقسیم کیے جاسکتے ہیں۔ اس سارے عمل میں اس بات کا خیال رہے کہ نماز عشاءاور تراویح کی بروقت ادائیگی میں کوئی خلل واقع نہ ہو ۔
    سنت اعتکاف:
    رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا اہتمام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔جب آپ ﷺ ایک سال اعتکاف نہ کرسکے توآپنے اگلے سال بیس دن کااعتکاف فرمایاتھا۔رمضان المبارک گیارہ مہینے شیطانی وابلیسی قوتوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتاہے۔اعتکاف اس روحانی قوت کو فراہم کرنے کااہم ذریعہ ہے ۔ حالات اجازت دیں تو اجتماعی اعتکاف اور شب بیداری کا پروگرام ترتیب دیں ۔معاشرے میں اعتکاف کے ذوق و شوق کو بھی بڑھانا چاہئے اور ترغیب دینی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس عبادت میں شریک ہوسکیں ۔ بعض احباب اپنی ذمہ داریوں اور مصروفیات کی وجہ سے اعتکاف نہیں کرپاتے یا سوچتے ہیںکہ اتنی مصروفیات کے ساتھ یہ کیسے ممکن ہو ؟اس ضمن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے ان سے زیادہ ذمہ داراس روئے زمین پر کون ہوسکتا ہے ؟ آپ داعی اعظم تھے، پھر بھی آپ ہر سال اعتکاف کا اہتمام فرماتے ۔
    انفاق فی سبیل اللہ:
    انفاق فی سبیل اللہ کواس ماہ مبارک سے خصوصی نسبت ہے ۔ نماز کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو بہت بڑی عبادت قرار دیاگیاہے۔اللہ کے نبی ﷺ تمام انسانوں سے بڑھ کرفیاض اورسخی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓفرماتے ہیں کہ :”آپ ﷺ بارش لانے والی تیز ہواﺅں سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے ۔ آپ کا فرمان ہے : سخی اللہ سے قریب ،لوگوں سے قریب ، جنت سے قریب اورجہنم سے دور جبکہ کنجوس اللہ تعالیٰ سے دور ،لوگوں سے دور ، جنت سے دور اور جہنم سے قریب ہوتاہے۔ اسی طرح جاہل سخی اللہ کو کنجوس عبادت گزار سے زیادہ محبوب ہے۔ حضرت ابن عباسؓفرماتے ہیں ”رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا ہے تاکہ روزہ فضول ،لغو اور بے ہودہ چیزوں سے پاک اور خالص ہوجائے ، نیز مسکینوں کو کھانے پینے کا سامان میسر آجائے۔صدقہ فطرعید سے پہلے ہی ادا کرنے کی کوشش ہونی چاہیے تاکہ غرباءومساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں۔
    اسلام کے کئی اہم مراحل کو رمضان المبارک سے خصوصی نسبت حاصل ہے۔ ان ایام کو اپنی خصوصی سرگرمیوں کا مرکز بنائیے۔
    (۱)۔۰۱رمضان المبارک یوم باب الاسلام (۲)۔۷۱ رمضان المبارک: یوم غزوہ ¿ بدر
    (۳)۔۷۲ رمضان المبار ک یوم نزول قرآن (۴)۔۷۲ رمضان المبار ک یوم آزادی پاکستان
    کرونا وباءکے پیش نظر رمضان المبارک کے مہینے میں بھی ہر نوعیت کی سرگرمی کے حوالے سے مکمل احتیاط کی جائے کہ جو ہدایات محکمہ صحت اور سرکاری اداروں کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ ان پر مکمل پابندی کی جائے۔ تاکہ آپ بھی محفوظ رہیں اور اپنے پیاروں ، عزیزوں ، رشتہ داروں کو بھی محفوظ رکھ سکیں۔ جب تک کرونا کا دنیا سے خاتمہ نہیں ہوتاہمیں کرونا کے ساتھ رہنے کے اصول اور تدابیر اختیار کرنی پڑیں گی۔ اللہ ہمیں دنیا وآخرت کی ساری بھلائیاں عطافرمائے ،آمین۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں




سوشل میڈیا لنکس