نائب امیر جماعت اسلامی پاکستا ن اور سیاسی امور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ حکومت اپوزیشن جلسوں کو نہیں روک سکتی ۔

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستا ن اور سیاسی امور کمیٹی کے صدر لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ حکومت اپوزیشن جلسوں کو نہیں روک سکتی ۔ پرامن سیاسی جمہوری جلسوں کو ہمیشہ حکومت انتظامیہ ، پولیس اور اسٹیبلشمنٹ ہی پر تشدد بناتی ہیں۔ جمہوری قوتوں کے لیے پرامن جدوجہد آئینی جمہوری حق ہے ۔ وزیراعظم سرکاری وسائل سے پارٹی سیاست کر رہے ہیں ۔ ماضی میں پی پی پی ، مسلم لیگ ، فوجی آمریتیں یہی کھیل کھیلتی رہیں ۔ عملاً اسٹیٹس کو اور خرابیوں کا تسلسل بہت گہرا ہوگیاہے ۔ ملکی سیاست میں حکومتی پارٹی اور دیگر قومی جماعتوں کو برابری کی بنیاد پر سیاسی سرگرمیوں کا حق جمہوری تقاضاہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں سیاسی انتخابی اور تعلقات عامہ شعبوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ جماعت اسلامی پاکستان کے لیے اور عوام پر مسلط مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی کے عذاب کے خلاف ملک گیر جدوجہد کر رہی ہے ۔ حکومتیں بدل جاتی ہیں لیکن عوام کے حالات نہیں بدلتے ۔ عام آدمی و سفید پوش طبقہ پس کر رہ گیاہے ۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے شخصیات کا بت تراش کر کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ پاکستان کو منظم ، بااعتماد ، اہل اور دیانتدار جماعت کی ضرورت ہے ۔ قومی مسائل اور خارجہ محاذ پر کامیاب جدوجہد کے لیے قومی قیادت کو ترجیحات پر متفق ہونا ہوگا وگرنہ تباہی کے سب برابر کے ذمہ دار ہوں گے ۔
لیاقت بلوچ نے لاہور چیمبر آف کامرس کے ایگزیکٹو ممبر عبدالودود علوی کے اعزاز میں احمد سلمان بلوچ کی جانب سے دیے عشائیہ میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تجارتی صنعتی ، برآمدات کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے حکومت کو آئی ایم ایف سے آزاد معیشت اوردرست حکمت عملی بنانا ہوگی ۔ بیرون ملک سے زر مبادلہ کی ترسیلات حکومتی معاشی حکمت عملی کی وجہ سے نہیں اس سے زیادہ زر مبادلہ کسی نہ کسی شکل میں پہلے ہی گردش میں رہتاہے ۔زراعت ، صنعت اور تجارت کی ترقی کے لیے پیداوار ی لاگت میں کمی لانا ہو گی ۔ مہنگی بجلی ، گیس ، ٹیکس کے بوجھ سے معیشت بحال نہیں ہوگی اور نہ ہی بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا ۔ تاجر اور صنعتکار قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ۔

-->