لیاقت بلوچ کا پاکستان میڈیکل کمیشن کے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ہم اسلامی جمعیت طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستان میڈیکل کمیشن کے قوانین کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔حکومت کو ضد کرنے کی بجائے میڈیکل پروفیشن سے وابستہ افراد کے مطالبات کو تسلیم کرلینا چاہئے اور گورنر ہاﺅس کے اندر من پسند افراد جمع کرنے کی بجائے مسائل کو سمجھنا اور حل کرنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی جمعیت طلبہ اچھرہ میں آل پاکستان ڈاکٹرز کنونشن سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ نے بھی خطاب کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن کے قوانین کے حوالے سے طلبہ میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔ریاستی طاقت سے کسی قسم کا فیصلہ مسلط کرنا عاقبت نا اندیشانہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ٹیکنو کریٹس میڈئیکل پروفیشن کو چلانے کی صلاحیت ہر گز نہیں رکھتے یہ صرف میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ ماہر ڈاکٹرز اور پروفیسرز ہی چلاسکتے ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ حمزہ علی صدیقی نے کہا کہ وزیر اعظم کے قریبی رشتہ دار کو نوازنے کیلئے میڈیکل کا شعبہ تباہ کیا جارہا ہے ۔اسلامی جمعیت طلبہ اس میڈیکل کمیشن کے کالے قوانین کو مسترد کرتی ہے اور ہم پاکستان میڈیکل کمیشن کے قانون کےخلاف پورے ملک میں تحریک چلائیںگے ۔

-->