ریاستی ادارے جان لیں 72سال سے جاری ریاستی نظام پر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول اب نہیں چل سکتا،لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امت کیلئے بڑی آزمائش کا دور ہے ۔کامیابی کے بھی بڑے امکانات ہیں مگر اس کیلئے امت کو اتحاد اور صبر و استقامت کا ثبوت دینا ہوگا۔باطل قوتوں کو ناکام اور حق کو غالب کرنے کیلئے وحدت و یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا۔اللہ کے احکامات اور رسول ﷺ سے محبت و عشق کے ساتھ ان کے فرامین پر دل و جان سے عمل کیا جائے تو آج بھی امت مسلمہ کو اپنا کھویا ہوا مقام اور مرتبہ مل سکتا ہے ۔خاتم الانبیاءکی ولادت باسعادت کا یہی پیغام ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے واہ کینٹ میں اتحاد امت کانفرنس اور ایبٹ آباد میں ورکرز کنوشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران خان حکومت نے پوری قوم کو مایوس اور پریشان کیا ہے ۔تبدیلی سرکار مرغی ،انڈے ،کٹے اور بھنگ کا ہی وژن رکھتی ہے ۔ان کی سوچ اس سے آگے جاہی نہیں سکتی۔بھان متی کے کنبہ اور نااہل ٹیم میں یہ صلاحیت نہیں کہ ملک کو بحرانوں سے نکال سکے ۔مہنگائی ،بے روز گاری ،لاقانونیت اور دہشت گردی کا عفریت حکومت کے خاتمہ کا باعث بن رہا ہے ۔عمران خان تسلیم کرلیں کہ حکومت چلانا اور اقتصادی و معاشی بہتری لانا ان کے بس کاروگ نہیں۔آئین کے مطابق سیاسی جمہوری حل نکال لیا جائے وگرنہ ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے گا۔ لیاقت بلو چ نے کہا کہ افواج پاکستان اور ریاستی ادارے جان لیں کہ جدید دور ،میڈیا کی نت نئی ٹیکنالوجی کی موجود گی میں اب 72سال سے جاری ریاستی نظام پر اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول نہیں چل سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدیں خطرات میں ہیں۔اقتصادی بحران ملک کو دیوالیہ کی طرف لے جارہا ہے ۔عوام مہنگائی ،بے روز گاری اورپیداواری لاگت کے بے تحاشا اضافے سے تنگ دست ہوچکے ہیں۔پوری قوم کی پشتی بانی سے ہی پاکستان دشمن قوتوں کا مقابلہ ہوگاتو کامیابی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اپنے لوگوں کو غلام بنانا ،غدار کہناسیاسی جمہوری اور انتخابی حق سلب کرناتباہی ہی تباہی ہے ۔

-->