سینیٹر سراج الحق کا 12 ربیع الاول کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺاور حرمت رسول ﷺ منانے کا اعلان

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کا پشاور میںمدرسہ زبیریہ کا دورہ،بم دھماکہ کے شہداءکے درجات کی بلندی زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ سینیٹر مشتاق احمد اور عنائت اللہ خان اور پشاورکے ضلعی امیر عتیق الرحمن بھی ان کے ہمراہ تھے ۔امیر جماعت اسلامی کی متاثرہ خاندانوں سے ملاقات اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ30اکتوبر جمعہ( 12ربیع الاول) کو یوم تحفظ ناموس رسالت ﷺاور حرمت رسول ﷺ کے طور پر منائیں گے۔ فرانس میں سرکاری عمارتوں پر خاکے لگانے اور مسجد میں دھماکہ کے خلاف بھرپوراحتجاج کرینگے۔ مسجد میں دھماکہ ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا ، مسجد میں قرآن اور حدیث پڑھنے والوں پر حملہ ہوا۔اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔حکومت کو معلوم تھا کہ واقعہ ہونے والا ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت کو اطلاعات تھیں، لیکن دہشت گردی کی اطلاعات کے باوجود حکومت نے حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے،27اکتوبر کی صبح 8 بجے یہ سانحہ ہوا ابھی تک کوئی حکومتی شخصیت تعزیت کے لیے نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ دشمن نے کسی بارڈر پر نہیں پشاور کے وسط میں حملہ کیا ہے، اچانک دہشت گردی کے واقعات شروع ہوگئے ہیں حکومت بتائے کیا وجہ ہے، اتنے اداروں اور سیکورٹی چیک پوسٹوں کے باوجود دہشت گرد کیسے اور کہاں سے آجاتے ہیں؟ وزیر اعظم کا اپنا اعلان تھا کہ جب تک قاتل نہیں پکڑے جاتے حکومت ہی قاتل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان واقعات پر خاموش نہیں رہیں گے۔ حکومتی نااہلی اور بے حسی کے خلاف سخت احتجاج کیا جائے گا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مدرسے پر حملہ اسلام آباد پر حملہ تصور کیا جائے، اے پی ایس واقعہ کی طرح ایکشن پلان بنایا جائے۔انہوں نے کہاکہ بھارت نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ ہر صورت پاکستان کو کمزور کر یگا، ہمارا سوال ہے کہ حکومت کیا کررہی ہے۔بھارتی تخریب کاروں اور دہشت گردوں کو روکنے کیلئے حکومت نے کیا اقدامات اٹھائے ہیں ۔اگر بھارتی دہشت گرد اسی طرح ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بناتے رہے تو لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے وہ حکمرانوں کے خلاف نکلیں گے اور انہیں گریبانوں سے پکڑیں گے ۔

-->