امریکہ میں ٹرمپ رہے یا جوبائیڈن آئے ، پاکستا ن کے لیے کچھ بدلنے والا نہیں ،سینیٹر سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ معیشت میں بہتری کے حکومتی دعوے فریب جو زمینی حقائق کی نفی کرتے ہیں ۔ مزدور چوراہوں پر بیٹھے ہیں اور لنگر خانوں کے باہر لمبی قطاریں جوں کی توں ہیں ۔ حفیظ شیخ پی پی کے دور میں بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتے تھے ۔ اگر حالات بہتر ہیں تو آئی ایم ایف کے چوراہے پر سجدہ ریزہونے کی کیا ضرورت ہے ۔ امریکہ میں ٹرمپ رہے یا جوبائیڈن آئے ، پاکستا ن کے لیے کچھ بدلنے والا نہیں ۔ استعماری طا قتیں افغانستان سے نکل جائیں ۔ پاکستان کو سودی معیشت یا اسلامی نظام میں ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ اسلامی ممالک نے ابھی تک فرانس کی جانب سے شعائر اسلام اور حضور نبی کریم کی توہین کے معاملے پر کوئی واضح اور جاندار موقف نہیں دیا ۔ اس موقع پر مطالبہ کیاگیا کہ فوری طور پر او ائی سی کاجلاس بلایا جائے اور مذاہب کے احترام کے لیے واضح لائحہ عمل اختیار کیا جائے ۔ حکومت نے کسانوں سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ وزیراعظم معیشت میں بہتری کے دعوﺅں کے لیے جن اعدادو شمار کا سہارا لے رہے ہیں ، وہ سراسر دھوکہ پر مبنی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تجارتی خسارہ برآمدات میں کمی کی وجہ سے ہوا۔ پچھلے چار ماہ میںملکی برآمدات میں ایک روپے کا اضافہ نہیں ہوا ۔ معیشت بہتر ہوئی ہے تو مہنگائی کم کیوں نہیں ہو رہی۔ بے روزگاری میں اضافہ کیوں ہورہاہے اور حکومت آئی ایم ایف کے درپر کیوں بیٹھی ہے ۔ ثابت ہوگیا ہے کہ موجودہ حکومت اپنے آدھے دور حکومت میں ملکی مفاد میں ایک پالیسی نہیں بنا سکی ، ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوا نہ ہی پاور سیکٹر میں ریفارمز آئی ہیں ۔ زراعت تباہ اور کسان بدحال ہیں ۔ تعلیمی نظام بدلا نہ صحت کے شعبہ میں بہتری آئی ۔ تھانہ کلچر ویسے کا ویسا اور احتساب کے نام پر ایک تماشا جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ 8 نومبر کو بونیر میں مہنگائی بے روزگاری کی تحریک کا دوسرا جلسہ ہوگا ۔ ادویات کی قیمتوں میں کئی سو گنا اضافہ سے عام آدمی تو ڈسپرین کی گولی خریدنے سے بھی گھبرارہاہے ۔ قومی اداروں کے سروے میں روزانہ اشیائے خوردو نوش اور ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے کی رپورٹس آرہی ہیں جبکہ حکمران طبقہ زبانی جمع خرچ پر ہی اکتفا کر رہاہے ۔ موجودہ حکومت نے عوام کو اشیائے خوردو نوش مہیا کرنے کے لیے جو سہولت بازار قائم کیے ہیں ، وہ سہولتوں سے محروم ہیں اور حکمران طبقے کے سرپرائزوزٹ کے فوٹو سیشن میں نظر آنے والی اشیا بعد میں غائب ہو جاتی ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے واضح کیا کہ جب تک سودی نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کیا جاتا ، ملک کی معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے کا خواب خواب ہی رہے گا ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت اسلامی نظام معیشت لانے کے لیے بتدریج ریفارمز کرے ، جماعت اسلامی اس کا ساتھ دے گی ۔ سراج الحق نے اس امر کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ ملک میں شفاف اور پائیدار جمہوری نظام کے لیے سیاسی جماعتوں کو الیکشن ریفارمز کے لیے مل بیٹھنا ہوگا ۔

-->