News Detail Banner

مرکزی مجلس شوریٰ کی بنگلہ دیش میں حالیہ سزاؤں کی پرزور مذمت

17دن پہلے

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے نام نہاد عالمی جرائم ٹربیونل کی یک طرفہ کاروائی کے ذریعے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے تین سرکردہ رہنماؤں کو سنائی جانے والی پھانسی کی حالیہ سزا کی پُرزور مذمت کی ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ نے حکومت پاکستان کو کہا ہے کہ وہ حکومت بنگلہ دیش سے انتقامی کاروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرے اور حکومت بنگلہ دیش سے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی پابندی کا تقاضا کرے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیگر مسلمان ممالک اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے زور ڈالے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 1971ء کے قیام بنگلہ دیش کے موقع پر پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج سے تعاون کو جُرم بنا کر اس دور کے سیاسی مخالفین کو اب موت کے گھاٹ اُتارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور اس منصوبے کو بھارت کی آشیرباد حاصل ہے۔ بنگلہ دیش کی حکومت وہ کردار ادا کرے جو آزاد ممالک کے شایان شان ہوتا ہے۔ یہ متعصبانہ کاروائی انصاف اور قانون کی پامالی ہے اس سے بین الاقوامی برادری میں بنگلہ دیش حکومت کا اعتبار ختم ہوتا ہے۔

مجلس شوریٰ کی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے اشارے پر 2009ء میں قائم ہونے والے نام نہاد بنگلہ دیش کا عالمی جرائم ٹربیونل سرسری سماعت کے بعد اب تک سینکڑوں افراد کو پھانسی اور عمر قید کی سزا سنا چکا ہے اور جنھیں سزائے موت ہوئی ان میں بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے مرکزی امیر مولانا مطیع الرحمان نظامی، سیکرٹری جنرل علی احسن محمد مجاہد اور دیگر ممتاز قائدین بھی شامل ہیں۔ ماہ جون میں تازہ ترین سزا پانے والوں میں جماعت اسلامی کے رہنما 68 سالہ محمد رضا الکریم منٹو، 64 سالہ نظر الاسلام اور 62 سالہ محمد شاہد مونڈل شامل ہیں۔ بنگلہ دیش حکومت کو جان لینا چاہیے کہ پوری دنیا میں مسلمان عوام اس طرح کی انتقامی کاروائیوں کو غم و غصے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔