Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رسائل و مسائل

اسلام میں حلال و حرام کی حکمت ۔ حصہ اول

 بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ قف وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ط ذٰلِکُمْ فِسْقٌ ط اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَ اخْشَوْنِ ط اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ط فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِاِّثْمٍ لا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo(المائدہ ۵:۳) تم پر حرام کیا گیا ہے مُردار، خون، سور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ جو گلا گھٹ کر ، یا چوٹ کھاکر، یا بلندی سے گر کر، یا ٹکرکھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو___ سواے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا___اوروہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمھارے لیے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمھارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے، لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے، اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے، اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کردی گئی ہیں ان کی پابندی کرو)۔ البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہوکر ان میں سے کوئی چیز کھالے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بے شک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

عہد حاضر کا فتنہ
آج کے درس کے لیے میں نے ان آیات کو اس لیے منتخب کیا ہے کہ قریب کے زمانے میں ایک نیا فتنہ ہمارے ملک میں اُٹھا ہے۔ ہمارے دیے ہوئے ٹیکسوں سے خزانۂ سرکار میں جو رقم جمع ہوتی ہے اُس سے وہ ادارہ قائم کیا گیا ہے جس کی غرض یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ملک کی مجالس قانون ساز کو اور ملک کی حکومتوں کو، اور حکومتوں سے مراد صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہیں، دینی معاملات میں قانون سازی کے حوالے سے مشورہ دے گا کہ ان میں کوئی چیز خلافِ اسلام اور خلافِ قرآن و سنت تو نہیں ہے۔ اس کا نام مشاورتی کونسل رکھا گیا ہے، یعنی مسلمانوں کو اسلامی معاملات میں مشورہ دینے والی کونسل۔ اس کے ساتھ ایک اور ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کے نام سے قائم کیا گیا ہے، یعنی اسلامی مسائل پر وہ تحقیقات کرکے اس کونسل اور حکومت کو یہ بتائے گا کہ شریعت اسلامی کے واقعی احکام کیا ہیں۔
اس تحقیقاتی ادارے میں جو نرالی تحقیقات ہورہی ہیں، وقتاً فوقتاً اس کے کچھ مسائل ہمارے سامنے بھی آتے رہتے ہیں۔ مثلاً اس کے اندر یہ تحقیقات کی گئی ہیں کہ قرآنِ مجید کی عبارت اور اس کے الفاظ اصل میں حجت نہیں ہیں، اور علمِ ہدایت نہیں ہیں، بلکہ قرآن کے مقاصد کو سمجھ کر ان کو عملی جامہ پہنانے کا حکم ہے نہ کہ بجاے خود قرآن کے الفاظ میں جو حکم دیا گیاہے اس کی پابندی کی جائے۔
اس میں حدیث کے متعلق بھی نرالی نرالی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اس میں سنت کا بھی ایک عجیب مفہوم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں زکوٰۃ سے متعلق ہمیں یہ خبر سنائی جاتی ہے کہ جب چاہے ایک مجلس قانون ساز اس کی نئی شرح مقرر کردے۔ اس کے نصاب میں تبدیلی کرے، اس کی شرح تبدیل کرے، اس کے اختیارات اسے حاصل ہیں۔ اس میں زکوٰۃ کا تصور یہ پیش کیا گیا ہے کہ جس طرح حکومت کے اور ٹیکس ہیں ویسا ہی یہ ایک ٹیکس ہے۔
اسی سلسلے میں نئی تحقیقات ہمارے سامنے آئی ہیں کہ ایک ایسا جانور جس کو خواہ مسلمان ذبح کرے یا غیرمسلم، اور اس کو خواہ باقاعدہ اس طریقے سے ذبح کیا جائے جو اسلام میں مقرر ہے، یا کسی مشین، یا کسی آلے سے دفعتاً اس کی گردن اُڑا دی جائے، اور اس کے اُوپر اللہ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، بہرحال وہ حلال ہے۔
مسئلہ محض گوشت کی حلت و حُرمت کا نہیں ہے۔ معاملہ اس سے بہت آگے جارہا ہے۔ رفتہ رفتہ مسلمانوں کو دینی معاملات میں بے حس بنانے کی ایک اسکیم ہے کہ آہستہ آہستہ ایک ایک چیزلائی جائے اور ایک ایک چیز کے متعلق جو مسلمانوں کے صدیوں کے عقائد اور تصورات اور مسلّمات ہیں، ان کو ایک مرتبہ ہلا ڈالا جائے۔ جب ان کو ہلا ڈالا جائے گا تو اس کے بعد حرام و حلال کی قیود ختم ہوجائیں گی۔ پھر حلال وہ ہوگا جسے ہم حلال کہیں اور حرام وہ ہوگا جسے ہم حرام کہیں۔
اس وجہ سے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس سارے مسئلے کو خوب اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ اگرچہ میں اپنے مضامین میں بھی ان کی وضاحت کرتا رہا ہوں مگر بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک مضمون لکھتے وقت آدمی کے ذہن میں نہیں ہوتیں۔ اس وجہ سے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ بار بار اس کی توضیح کی جائے تاکہ ایک ایک پہلو سامنے آجائے۔
یہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہیں ان میں ابتدائی بنیادی حکم صرف یہ ہے کہ مُردار، خون، لحم، خنزیر اور جو کچھ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو وہ حرام ہے۔ قرآنِ مجید میں اس سورہ کے نزول سے پہلے سورۂ انعام میں بھی ان چاروں چیزوں کو حرام کیا گیا ہے۔ سورۂ نحل میں بھی ان کی حُرمت بیان کی گئی ہے اور سورۂ بقرہ میں بھی ان کی حُرمت بیان کی گئی ہے لیکن یہاں سورۂ مائدہ میں اس حکم کی زیادہ واضح تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور زیادہ کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اُن آیات کے بجاے اِن آیات کو لیا ہے کیونکہ ان میں زیادہ تفصیل دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس سلسلۂ بیان میں جو آیات آگے آرہی ہیں ان میں اس پورے مسئلے کو جو چھیڑا گیا ہے اس کا پورا پورا اور مکمل بیان ہے۔

حلال و حرام کی بنیاد
حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ (المائدہ ۵:۳) حرام کیا گیا تمھارے اُوپر مُردار، خون اور سُور کا گوشت اور جو کچھ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔
اس سلسلے میں اس بات کو بھی سمجھ لیجیے کہ قرآنِ مجید میں حرام کی کوئی مخصوص اصطلاح نہیں ہے۔ یہ اصطلاحیں بعد میں فقہا نے استنباط کر کے وضع کی ہیں۔ قرآنِ مجید کے متعلق یہ بات نہیں ہے کہ جس چیز کو وہ قطعی ممنوع ٹھیرائے اس کے لیے لازماً حرام کا لفظ استعمال کرے، اور اگر وہ حرام کا لفظ استعمال نہ کرے تو قطعی ممنوع ہونے کا حکم نہیں ہے۔ ایسی بات نہیں ہے۔
اس کی وضاحت میں نے اس لیے کر دی کہ آج کل کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ بتاؤ شراب کے لیے حرام کا لفظ قرآن میں کہاں ہے؟ حالانکہ ترکہ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا۔ جھوٹ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا، حتیٰ کہ عملِ قومِ لوطؑ کے لیے بھی حرام کا لفظ قرآن میں نہیں آیا، تو پھر اس کی حُرمت کا بھی انکار کرو۔ کہو کہ جس جس کے لیے حرام کا لفظ استعمال نہ ہوا ہو وہ سب حرام نہیں ہیں۔ حرام وہ ہے جس کے لیے لفظ حرام استعمال کیا گیا ہے۔ اس زمانے میں یہ نرالے انداز ہیں لوگوں کے اجتہاد کرنے کے!
اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے حُرمت و حلّت کے جو احکام کھانے پینے کی چیزوں کے بارے میں دیے ہیں ان کی بنیاد طبی نہیں ہے۔ اگر طبی بنیاد ہو تو اُس صورت میں جتنی چیزیں انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں، ان سب کی حُرمت کے احکام قرآنِ مجید میں آتے یا حدیث میں آتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو جاننے کے ذرائع اس نے انسان کو عطا کردیے ہیں، جن چیزوں کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے، ان کے بارے میں وہ براہِ راست ہدایت نہیں دیتا۔ ان کے بارے میں انسان کا کام ہے کہ خود تحقیقات کرے اور خود معلومات حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ اُن چیزوں کے متعلق ہدایت دیتا ہے جن کے جاننے کے ذرائع ہمارے پاس نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کے بارے میں اگر ہدایت نہ دی جائے تو انسان غلطی کربیٹھتا ہے۔ اگر حُرمت و حلّت کی بنیاد صحت کے لیے نقصان دہ ہونا ہوتا تو میرے خیال میں ان چار چیزوں سے پہلے سنکھیا کا ذکر کیا جاتا کیونکہ وہ تو مہلک ہے۔ ان چار چیزوں سے پہلے ان زہروں کی تفصیل بھی دی جاتی جو آدمی کو ہلاک کردینے والے ہیں۔
اس چیز پر آپ غور کریں گے تو آپ کی سمجھ میں خود یہ بات آجائے گی کہ ان چار چیزوں کی حُرمت کو واضح الفاظ میں قرآن میں چار مقامات پر بیان کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ چیزیں ایسی ہیں جن کی حُرمت کا سبب آدمی کی سمجھ میں پوری طرح نہیں آسکتا۔ وہ ان کے بارے میں خود تحقیقات نہیں کرسکتا۔ حُرمت کا اصل سبب وہ نقصانات ہیں جو آدمی کے اخلاق اور اس کی روح کو پہنچتے ہیں۔ وہ نقصانات نہیں ہیں جو آدمی کے جسم کو پہنچتے ہیں، اگرچہ یہ آدمی کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔ حُرمت کی اصل بنیاد جسم کے لیے نقصان دہ ہونا نہیں ہے بلکہ حُرمت کی اصل بنیاد اخلاق کے لیے نقصان دہ ہونا ہے۔ آدمی کی روح کے لیے ان کا نقصان دہ ہونا ہے۔ ان کے اندر کچھ ایسے اسباب ہیں کہ ان سے وہ بُری صفات انسان کے اندر پیدا ہوتی ہیں جو انسان کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ قرآنِ مجید کا یہ حکم آنے کے بعد اگر ہم اس کی حکمت کو سمجھنے کی کوشش کریں، ہم ٹٹولیں تو کچھ چیزیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن ہم قطعیت کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ علّتِ حُرمت وہی ہے۔ مثال کے طور پر میں عرض کرتا ہوں کہ مُردار کے متعلق یہ بات بالکل واضح معلوم ہوتی ہے کہ سلیم الطبع انسان، پاکیزہ انسان کی فطرت اس سے نفرت کرتی ہے، اِبا کرتی ہے، انکار کرتی ہے۔
مثال کے طور پر خون ہے۔ خون کا استعمال کرنا لازماً انسان کے اندر خون خواری پیدا کرے گا۔ ایسی وحشی قومیں ہیں جو خون کو استعمال کرتی ہیں، جانور کو ذبح کرتے یا ہلاک کرتے ہی جس جگہ سے اس کا خون بہہ رہا ہو اس کو فوراً منہ لگا لیتی ہیں اور خون پی لیتی ہیں۔ یہ بہت طاقت بخشنے والی چیز ہے۔ کیونکہ انسان ہو یا جانور ، جو بھی ہو اس کے اندر جو قوت آتی ہے وہ خون ہی کے ذریعے سے آتی ہے۔ غذا کی تمام خصوصیات اور اس کی قوت بخش چیزیں خون کے ذریعے سے آتی ہیں۔ اس لیے آدمی یہ سمجھے گا کہ خون بڑی مقوی چیز ہے۔ حالانکہ خون میں جو چیزیں قوت بخشنے والی اور غذا دینے والی ہیں، وہ ساری آگے جاکر گوشت میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ خون کا مواد گوشت کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ خون کا جو حصہ گوشت میں تبدیل ہوجائے وہ اصل میں انسان کی تقویت کا سبب ہے۔ بہت سے دوسرے اجزا جو خون میں شامل ہوتے ہیں، انھی میں سے گردہ ان کو چھان کر پیشاب کی صورت میں باہر نکال دیتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ خون میں کچھ ایسے اجزا تھے کہ جب خون انسانی جسم کی ساخت تیار کرنے سے فارغ ہوگیا تو گردے نے انھیں چھانٹ کر پیشاب کی شکل میں باہر نکال دیا۔ نامعلوم اور کون کون سی چیزیں ایسی ہیں جو کسی اور شکل میں نکل آتی ہیں، مثلاً: انسانی پسینے میں سے جو میل نکلتا ہے وہ بھی خون ہی کے اجزا ہوتے ہیں جنھیں پسینے کی صورت میں جسم سے نکالا جاتا ہے اور وہ میل باہر نکلتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ میں آتی ہیں لیکن بنیادی وجہ انسان کی روح اور اس کے اخلاق پر بُرے اثرات ڈالنے والی چیز ہی ہے۔

غذا کے انسانی تہذیب پر اثرات
مثال کے طور پر لحم خنزیر ہے۔ لحم خنزیر کے متعلق آج کل کی طبی تحقیقات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کچھ ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو بیماریاں پیدا کرتے ہیں۔ لیکن جیساکہ ابھی مَیں نے عرض کیا کہ اگر بیماری پیدا کرنا ہی حُرمت کا اصل سبب ہوتا تو پہلے سنکھیا کی حُرمت بیان کی جاتی۔ ہمارے پاس یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ سور کے گوشت کا انسان کے اخلاق اور روح پر کیا اثر پڑتا ہے۔ آج تک انسان کی علمی تحقیقات اس طرف مائل نہیں ہوئی ہیں کہ یہ معلوم کریں کہ غذاؤں کے استعمال کا انسان کے اخلاق، اس کی روحانیات اور اس کی نفسیات پر کیا اثر پڑتا ہے۔ جسم پر اثرات پڑنے پر تو بہت سی تحقیقات ہوگئی ہیں لیکن اخلاق پر غذاؤں کا کیا اثر پڑتا ہے، اس کی تحقیقات آج تک بالکل ابتدائی مراحل میں ہیں۔ تاہم ایک بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ سور ایک ایسا جانور ہے جو انتہائی بے حیا واقع ہوا ہے۔وہ انتہائی بے غیرت اور بے شرم واقع ہوا ہے۔ وہ ایک ایسا جانور ہے کہ اس کے سامنے اس کی مادہ کے پاس اگر کوئی دوسرا نر جائے تو اس کے اندر غیرت کے نام پر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اس سے لڑ جائے۔
یہی چیز سور کھانے والی قوموں میں پیدا ہوجاتی ہے۔ سور کھانے والی قومیں جہاں بھی پائی جاتی ہیں، ان کی تہذیب کے اندر یہ بے غیرتی شامل ہوگئی ہے۔ ہم جس چیز کو غیرت کہتے ہیں وہ اس کو حسد (jealousy) کہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک غیرت ایک بہترین جذبہ ہے۔ ہم اس جذبے کے لیے غیرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں، وہ اس کے لیے حسد اور jealousyکا لفظ استعمال کرتے ہیں جو آدمی کے اندر ایک عیب ہے۔ ہماری تہذیب تو یہ ہے کہ آدمی کی بیوی اس کے پاس بیٹھے اور دوسرے آدمی کی بیوی اس کے پاس بیٹھے۔ ان کی تہذیب یہ ہے کہ جب مل کر بیٹھیں گے تو ایک کی بیوی دوسرے کے پاس بیٹھے گی اور دوسرے کی بیوی پہلے کے پاس بیٹھے گی۔ اگر آدمی ایسا نہیں کرتا تو ان کی نظر میں وہ حاسد اور jealousyواقع ہوا ہے۔ وہ کیو ں اپنی بیوی کے پاس دوسرے آدمی کو نہیں بیٹھنے دیتا؟ ان کے اندر اس بات کی کوئی شرم نہیں ہے کہ مجموعی ناچ میں ایک آدمی کی بیوی کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ناچے۔ وہ اس کو وسیع القلبی سمجھتے ہیں۔ ہمارے نزدک جو عین بے غیرتی ہے وہ ان کے ہاں وسیع القلبی ہے۔ یہ کس چیز کا نتیجہ ہے؟ اسی غذا کا کہ وہ ایک ایسا جانور استعمال کرتے ہیں، اور نہایت کثرت سے استعمال کرتے ہیں، جو نہایت بے غیرت واقع ہوا ہے۔
یہ چند چیزیں ہیں جو مَیں اس غرض سے بیان کر رہا ہوں کہ آپ کو یہ بات سمجھ میں آجائے کہ اللہ تعالیٰ کے جو احکام ہیں ان کی بعض حکمتیں ہماری سمجھ میں آتی ہیں، بعض سمجھ میں نہیں آتیں، اور بعض حکمتیں ایسی ہیں جو ہماری سمجھ میں آہی نہیں سکتیں۔ اگر انھیں بیان کیا جائے توو ہ ہمارے لیے اس وجہ سے بے کار ہیں کہ حکمت وہ بیان کرنی چاہیے جس کو دوسرا مخاطب جانچ کر دیکھ سکے کہ ہاں، واقعی یہ حکمت اس میں پائی جاتی ہے۔ اگر اس کے پاس جانچنے کے ذرائع نہیں ہیں تو اس کا بیان کرنا یا نہ کرنا برابر ہے۔ مثلاً اگر یہ کہا جاتا کہ میاں! یہ تمھاری روح کو خراب کرنے والی چیز ہے۔ اگر آپ کے پاس وہ ذرائع نہیں ہیں کہ آپ یہ ناپ سکیں کہ اس سے روح کے اندر کیا خرابی اور کتنی خرابی پیدا ہوگی ، تو آپ کا اس سے یہ کہنا کہ آپ کی روح میں اس سے خرابی پیدا ہوگی اور یہ نہ کہنا کہ تمھاری روح کے اندر خرابی پیدا ہوگی، یکساں ہے۔ کیونکہ آپ کے پاس اس کے جانچنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ آپ تحقیق نہیں کرسکتے کہ جو بات آپ کو کہی گئی ہے وہ واقعی ٹھیک ہے، کس حد تک ٹھیک ہے، اور کس طرح اس کے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے احکامات دیے ہیں جن کی حکمتیں اور مصلحتیں نہیں بتائی ہیں بلکہ صاف صاف کہا ہے کہ فلاں چیز تمھارے لیے ممنوع ہے۔

ایمان کی آزمایش
اس کے ساتھ اس میں انسان کے ایمان کی آزمایش ہے۔ اگر ایک آدمی ایمان رکھتا ہے تو اس کے رب نے جس چیز سے منع کردیا وہ رُک جائے گا قطع نظر اس کے کہ ممانعت کی وجہ اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اگر وہ ممانعت کے جواب میں پلٹ کر یہ کہتا ہے کہ جناب اس کی حکمت مجھے بتایئے، اگر اس کی حکمت مجھے سمجھ میں آئے گی تو میں آپ کا حکم مانوں گا اور نہ آئے گی تو نہ مانوں گا، تو وہ دراصل اپنی سمجھ کی اطاعت کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کر رہا۔ مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ حکم کی دلیل مانگے۔ مومن کا کام یہ ہے کہ اس کا رب جب اسے حکم دے تو سر جھکا دے قطع نظر اس کے کہ اس کی وجہ اسے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اس کا پورا اعتماد اپنے رب پر ہونا چاہیے کہ وہی علیم ہے۔ ہر چیز کی حقیقت کو وہ جانتا ہے۔ وہی حکیم ہے جو حکم بھی دے رہا ہے، دانائی کی بنا پر دے رہا ہے۔ اور وہ رب ہے اس کو حق پہنچتا ہے کہ جس چیز سے چاہے آپ کو منع کردے۔ کیونکہ دنیا کی تمام چیزیں اس کی ملکیت ہیں، آپ کی ملکیت نہیں ۔
مثال کے طور پر آپ اپنے گھر کے مالک ہوں اور کوئی دوسرا شخص باہر سے آئے۔ آپ کو حق پہنچتا ہے کہ آپ اس کو یہ کہیں کہ میری فلاں فلاں چیزیں تو آپ استعمال کرسکتے ہیں اور فلاں فلاں چیزیں آپ استعمال نہیں کرسکتے۔ آپ کو اس کا حق پہنچتا ہے، اس کو یہ مطالبہ کرنے کا حق نہیں پہنچتا کہ آپ مجھے فلاں فلاں چیزوں کے استعمال کی بھی اجازت دیجیے اور آپ مجھے اجازت کیوں نہیں دیتے؟ اس لیے کہ مکان آپ کا ہے، اس کا نہیں۔ آپ کو پورا حق پہنچتا ہے کہ اپنی چیزوں میں سے جس چیز کے استعمال کی چاہیں اجازت دیں اور جس چیز کی چاہیں اجازت نہ دیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ جناب میرے گھر کے ہر حصے میں آپ جاسکتے ہیں لیکن فلاں کمرے میں آپ نہ جایئے گا۔ اس میں آپ قفل لگا دیں اور کہیں کہ اس میں جانے کا آپ حق نہیں رکھتے۔
وہ چونکہ رب ہے، تمام چیزیں اس کی ملکیت ہیں، آپ اس کے بندے ہیں۔ اگر آپ اللہ کو رب مانتے ہیں تو رب کہتا ہے کہ سور کو تم نہ کھانا تو آپ کو رُ ک جانا چاہیے۔ وہ کہتا ہے کہ جس جانور کو مَیں خود ماروں اسے نہ کھانا، تو آپ کو رُک جانا چاہیے۔ مُردار کے متعلق اس نے یہ حکم دے دیا کہ یہ میرا مارا ہوا ہے، لہٰذا جسے مَیں خود ماروں اس کو تم نہ کھاؤ۔ جس کو آپ خود ماریں، اُس طریقے کے مطابق جیسے اس نے بتایا ہے، تو اسے آپ کھاسکتے ہیں۔

مُردار کی وضاحت
ان چار چیزوں کی حُرمت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے مُردار کی وضاحت فرمائی ہے:
وَ الْمُنْخَنِقَۃُ وَ الْمَوْقُوْذَۃُ وَ الْمُتَرَدِّیَۃُ وَ النَّطِیْحَۃُ وَ مَآ اَکَلَ السَّبُعُ اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ قف(المائدہ۵:۳) وہ جو گلا گھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گرکر، یا ٹکر کھاکر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سواے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا۔
ایک تو مُردار وہ ہے جو طبعی موت مر گیا۔ اس کے علاوہ مزید مُردار وہ ہیں، مثلاً جو گلاگھٹ کر مرا، یا چوٹ کھا کر مرا، یا کسی بلندی پر سے گر کر مرا، یا دو جانوروں میں ٹکر ہوئی اور ٹکر کھا کے ایک جانور مر گیا، یا جس کو درندے نے پھاڑا۔ ان سب کی ممانعت فرمائی۔بنیاد کیا ہے؟ وہی مُردار، یعنی یہ سارے کے سارے مُردار ہیں اگر ان میں سے کسی شکل میں مرجائیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ خون جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے، وہ خون ان شکلوں میں سے کسی شکل میں بھی نہیں نکلتا۔ چوٹ لگ گئی تو چوٹ کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جس جگہ چوٹ لگتی ہے اس کے آس پاس کا خون نکل جاتا ہے لیکن اس سے پورے جسم کا خون خارج نہیں ہوتا۔ ایسے ہی گر کر مرنے سے ہوتا ہے۔ اگر خون نکلے گا بھی، تو جس مقام پر چوٹ لگی ہے اس کے آس پاس کا نکل جائے گا۔ موت کسی صدمے سے واقع ہوگی یا کسی اور وجہ سے واقع ہوگی۔ اس وجہ سے واقع نہیں ہوگی کہ چونکہ جسم کا پورا خون نکل گیا ہے، اس لیے جان دار مر گیا ہے۔ ایسے ہی دوسری شکلیں ہیں۔ ان ساری شکلوں میں چونکہ خون پوری طرح سے نہیں نکلتا ہے۔ موت کی وجہ کوئی اور ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مرتا ہے۔ خون آس پاس کا نکل کر بہہ جاتا ہے یا بالکل نہیں نکلتا۔ اس وجہ سے یہ سب بھی مُردار کی تعریف میں آتے ہیں قطع نظر اس کے کہ خون بہا ہو یا نہ بہا ہو۔ خون بہا بھی ہو تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ پورے کا پورا خون اس کے اندر سے نکل گیا ہے۔

تزکیہ کا مفہوم
ان چیزوں کو حرام قرار دینے کے بعد پھر فرمایا:
الَّا مَا ذَکَّیْتُمْ قف(المائدہ۵:۳) بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کر لیا۔
تزکیہ کا لفظ زکاۃ سے نکلا ہے۔ زکاۃ اس بات کو کہتے ہیں، مثلاً اگر آگ راکھ میں دبی ہوئی ہے تو آپ کرید کر انگارے اُوپر نکال لائیں۔ اس کو کہیں گے کہ آگ کا تزکیہ ہوگیا، یعنی آگ کی حرارت کو آپ اُبھار کر اُوپر لے آئے۔ عربی زبان میں جانور کو ذبح کرنے کے لیے تزکیہ کا لفظ اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کا خون، اس کی روح، اس کے جسم کی حرارت، آپ ذبح کر کے اس کو اُبھار لاتے ہیں تاکہ وہ بالکل خارج ہوجائے۔ اس کے اندر کچھ باقی نہ رہے۔ یہاں اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے خود بخود یہ بات نکل آئی کہ جس کا تزکیہ نہیں کیا گیا وہ مُردار کی تعریف میں ہے۔
آیئے دیکھیں کہ تزکیہ کے کیا معنی ہیں؟
تزکیہ کی وضاحت قرآنِ مجید میں نہیں کی گئی ہے، اس لیے اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کی وضاحت کرنے کا کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد تھا۔ یہ بات واضح ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے اور بار بار اس کی فرضیت کا حکم دیتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتا کہ کتنی رکعتیں پڑھو؟ اس کی کیا شکل ہو؟ کیا شرائط ہیں؟ کیا اس کے ارکان ہیں؟ کیا اس میں فرائض ہیں؟ یہ ساری چیزیں قرآنِ مجید میں بیان نہیں کی گئیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ جس کو لوگوں کی رہنمائی کے لیے قرآن دے کر بھیجا گیا تھا اس کا یہ کام تھا کہ وہ لوگوں کو یہ بتائے کہ اس حکم پر عمل کیسے کیا جائے؟ ایسا ہی معاملہ تزکیہ کا ہے۔
یہ اتنا اہم حکم ہے کہ آپ جو غذا استعمال کر رہے ہیں اس کی حُرمت اور حلّت کے درمیان فرق اس تزکیے سے واقع ہوگا۔ یہ بڑا اہم حکم ہے جس کا روزمرہ زندگی میں سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اس لیے احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل واضح طور پر یہ بتایا ہے کہ ٹھوڑی اور لبلبے کے درمیان والی جگہ جسے لبّہ کہتے ہیں، یہ تزکیے کا مقام ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ حضوؐر نے اس بات کو اور زیادہ واضح کر دیا کہ جانور کو گردن کے پیچھے سے ذبح نہ کیا جائے۔ اس وجہ سے کہ اگر گردن کی پشت کی طرف سے ذبح کیا جائے گا تو سب سے پہلے حرام مغز جو دماغ سے جسم کا تعلق جوڑتا ہے، یہ پہلے کٹ جائے گا۔ جب یہ پہلے کٹ گیا تو اس صورت میں چونکہ جسم کے اندر جان ہی باقی نہیں رہے گی، موت فوراً واقع ہوجائے گی۔ اس لیے خون کھچ کر باہر نہیں آئے گا۔ یعنی مُنْخَنِقَۃُ (گلاگھٹ کر)، مَوْقُوْذَۃُ (چوٹ کھاکر)، مُتَرَدِّیَۃُ (بلندی سے گرکر)اور نَطِیْحَۃُ (ٹکر کھاکر) وغیرہ کے مُردار ہونے کی یہ علّت بیان کی گئی ہے کہ تزکیے کے بغیر وہ سارے کے سارے حرام ہوجائیں گے کیونکہ وہ مُردار کے حکم میں ہیں۔
اس شکل میں بھی تزکیہ نہیں ہوتا جب پیچھے سے جانور کو ذبح کر دیا جائے۔ لکات جس کو حرام مغز کہتے ہیں جو جسم سے دماغ کا تعلق جوڑتا ہے، جب تک اس کے ذریعے سے جسم اور دماغ کا تعلق جڑا رہے تو اس صورت میں موت فوراً واقع نہیں ہوسکتی۔ دوسرا یہ کہ اس صورت میں جانور دیر تک تڑپے گا، حرکت کرے گا اور پھڑپھڑائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سامنے سے ذبح کرنے کی صورت میں جو دروازہ کھل گیا ہے، اس سے خون تیزی سے نکلے گا اور اس کے باربارحرکت کرنے یا پھڑپھڑانے سے ایک ایک قطرہ نکل کر باہر آجائے گا اور گوشت پوری طرح سے خون سے صاف ہوجائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا بتایا، احادیث میں تصریحات ہیں اور جن کی بنا پر فقہاے کرام نے نتائج اخذ کیے ہیں۔ ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حلقوم (حلق) اور مری جس میں سے جانور اور انسان کی غذا گزرتی ہے، اور وہ دو رگیں جو حلقوم اور مری کو درمیان میں لیے ہوئے ہیں، جسے شہ رگ (juglarvein) کہتے ہیں، یہ چاروں کی چاروں کٹنی چاہییں۔ حرام مغز جڑا رہے اور یہ چاروں کی چار وں کٹ جائیں، تب پوری طرح سے خون کھچ کر باہر آئے گا۔ اگر یہ چاروں نہ کٹیں تو مری اور حلقوم کٹنے کے بعد ایک شہ رگ کٹ جائے، اگر دونوں نہ بھی کٹیں تو کم از کم ایک شہ رگ کٹ جائے۔ اس کے بغیر خون چونکہ باہر نہیں آسکتا اس لیے تزکیہ مکمل نہیں ہوسکتا۔
اب آپ یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ کے الفاظ بیان فرما کر ان تمام جانوروں کو حرام قرار دے دیا جن کا باقاعدہ تزکیہ نہ کیا گیا ہو۔ اس لیے اگر کوئی ایسی چیز یا ایسا ذریعہ جانور کو ذبح کرنے کا اختیار کیا جائے جس سے تزکیہ نہیں ہوتا تو وہ مُردار کے حکم میں آئے گا۔ یک لخت اگر جانور کو ذبح کیا جائے گا، یعنی ایک ہی وار میں اس کی گردن کٹ کر الگ ہوجائے گی، تو چوں کہ وہ تزکیے کے بغیر مرے گا اس وجہ سے وہ حرام ہے۔
ذبح کرتے ہوئے اللّٰہ کا نام لینے کی حکمت
وَ مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ(المائدہ ۵:۳) اور جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔
نُصُب کسی ایسے پتھر، لکڑی یا کسی ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کسی جگہ اس غرض کے لیے نصب کر دی گئی ہو کہ غیراللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ بتوں کے استھان، یعنی مشرکین اپنی مشرکانہ قربانیوں کے لیے جو قربان گاہیں بنا لیا کرتے تھے وہ سب نُصب تھیں، قطع نظر اس کے کہ وہاں کوئی قبر ہو، یا وہاں کوئی لکڑی یا پتھر گاڑ دیا جائے،یا وہاں کوئی بت ہو یا کوئی اور چیز ہو۔
یہ گویا تشریح ہے وَ مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ کی۔ اس سے آدمی یہ بات سمجھے گا کہ ذبح کرتے ہوئے غیراللہ کا نام نہ لیا جائے۔ یہاں واضح کردیا گیا ہے کہ اگر استھان یا آستانے پر لے جاکر ذبح کیا گیا ہے تو خواہ کسی دوسرے کا نام نہ بھی لیا گیا ہو، تب بھی یہ حرام ہوگا۔ یعنی ذبح کرنے کی ایک شکل یہ ہے کہ اللہ کا نام لیا اور اس کے ساتھ کسی اور کا نام لیا۔ ایک شکل اس کی یہ ہے کہ اللہ کا نام بھی نہیں لیا اور کسی اور کا بھی نہیں لیا۔ ایک شکل یہ ہے کہ صرف غیراللہ کانام لیا۔ شریعت اس شکل کو بھی حرام کرتی ہے جس میں اللہ کے ساتھ کسی اور کا نام لے لیا جائے جو کہ صریح شرک ہے۔ شریعت اس کو بھی حرام کرتی ہے جس میں اللہ کا نام نہ لیا جائے۔ شریعت اس کو بھی حرام کرتی ہے جس میں اللہ کا نام نہیں لیا گیا، غیراللہ کا نام بھی نہیں لیا گیا مگر اسے ایک آستانے پر لے جاکر ذبح کیا جائے۔آستانے پر لے جاکر ذبح کرنا خود اس بات کو واضح کردیتا ہے کہ نیت غیراللہ کے نام پر ذبح کرنے کی ہے، چاہے غیراللہ کا نام نہیں لیا گیا۔
اس چیز پر اللہ تعالیٰ نے اتنا زور کیوں دیا ہے؟ یہاں میں اس بات کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو کیوں اہمیت دیتا ہے کہ جانور کو ذبح کرتے ہوئے اسی کا نام لیا جائے، کسی اور کا نام نہ لیا جائے اور اس کا نام ضرور لیا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام چیزوں کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ جب ایک غلام اپنے مالک کے مال میں تصرف کرنے لگے اور کوئی اس سے پوچھے کہ میاں یہ تم کس اختیار کی بنا پر تصرف کر رہے ہو تو وہ کیا کہے گا؟ یہی کہ میرے مالک نے مجھے اس کی اجازت دی ہے۔ اس کے نام پر مَیں تصرف کر رہا ہوں اور اس کی طرف سے کر رہا ہوں۔ اس نے چونکہ اجازت دی ہے اس لیے کر رہا ہوں۔ گویا یہ کہنا کہ مَیں مالک کی اجازت سے یہ کر رہا ہوں ملکیت کے حق کو تسلیم کرنا ہے ورنہ اس کے بغیر یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ خود مالک بنے ہوئے ہیں۔ آپ مالک کے حقِ مالکانہ کا اعتراف نہیں کرتے۔
جانوروں کے بارے میں خاص طور پر کیوں کہا گیا ہے کہ ان کو ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لو؟ اس وجہ سے کہ اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ آپ جیسی دوسری جان دار مخلوق کے اُوپر اس نے آپ کو تصرف کے اختیارات دیے ہیں۔ باقی جتنی چیزوں پر آپ تصرف کر رہے ہیں وہ بے جان ہیں لیکن آپ ہی کی طرح دوسری جان دار مخلوق موجود ہے جس کے اندر آپ ہی جیسی جان ہے، اس کے اُوپر تصرف کا اختیار اس نے دیا ہے۔ یہ اس کا احسانِ عظیم ہے۔
دنیا میں جو تہذیب پھیلی ہے اس میں اس کا کتنا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ آپ کے لیے سواری کا ذریعہ بنے۔ وہ آپ کے لیے پوشش کا ذریعہ بنے۔ وہ آپ کے لیے غذا کا ذریعہ بنے۔ ان کا گوشت اور دودھ غذا کا ذریعہ ہے اور ان سے نامعلوم کتنی چیزیں آپ بناتے ہیں۔ وہ ساری کی ساری آپ کے لیے غذا کا ذریعہ بنتی ہیں۔ ان کے بال آپ کی ضروریات کا ذریعہ ہیں۔ ان کی ایک ایک چیز آپ کی غذا اور ضروریات کا ذریعہ بنائی گئی اور آپ کی ضروریات اس سے پوری کی گئیں۔ حالانکہ یہ وہ جانور ہیں جن کی ایک ٹکر آپ نہیں سہہ سکتے۔ بیل، گائے، ہاتھی اور اُونٹ کو آپ دیکھیے، ان کی ایک ٹکر آپ نہیں سہہ سکتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ اختیارات دیے اور طاقتیں عطا فرمائیں کہ آپ ان پر تصرف کر رہے ہیں۔ وہ آپ کے سامنے بے بس ہیں۔ جب چاہتے ہیں آپ ان کی پیٹھ پر سوار ہوجاتے ہیں اور وہ ہل نہیں سکتے۔ جس طرح سے چاہیں ان کو پکڑ کر ان کا دودھ نکال لیتے ہیں۔ ذرا بھینس کو دیکھیے، اس کی طاقت کو ملاحظہ کیجیے، اور آپ کے آگے اس کے اس طرح سے بے بس ہوجانے کو دیکھیے کہ آپ اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بچے کو محروم کر کے اس کا دودھ نچوڑتے ہیں اور وہ نچڑواتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اتنا بڑا احسان جو کیا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ جب آپ اسے ذبح کرنے لگیں تو اللہ کا نام لے کر، اس کی اجازت سے ذبح کریں کہ اس مالک کا یہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں یہ نعمت عطا کی ہے اور اس کی اجازت سے ہم اسے ذبح کر رہے ہیں۔
اگر آپ ذبح کرتے ہوئے اس کا نام نہیں لیں گے تو آپ کو یہ غفلت لاحق ہوگی اور رفتہ رفتہ آپ اس غلط فہمی میں پڑجائیں گے کہ آپ ہی مالک ہیں اور آپ ہی کو یہ اختیار ہے کہ جس کو چاہیں زندہ رکھیں اور جس کو چاہیں کاٹ دیں۔ جس کو چاہیں آپ قتل کریں اور جس کو چاہیں زندہ رہنے دیں۔ اس کا خدشہ ہے کہ آپ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اس وجہ سے آپ کے عقیدے کو بچانے کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ذبح کرتے وقت آپ اللہ کا نام لیں۔ غیراللہ کا اگر آپ نام لیتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اپنے مالک کو بھول کر جو مالک نہیں ہے اس کا نام لے رہے ہیں۔ اگر آپ اس کا نام نہیں لے رہے تو آپ اپنے مالک سے غافل ہیں اور خود اپنے آپ کو مالک سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس کا نام آپ لیں گے تو آپ کا عقیدہ صحیح ہوگا اور صحیح طور پر ایک موحد انسان اور اللہ تعالیٰ کے تابع فرمان اور مطیع انسان بن کر رہیں گے۔
اس کے ساتھ فرمایا:
وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ ط (۵:۳) تمھارے لیے یہ بات حرام کی گئی کہ تم پانسوں کے ذریعے سے قسمت معلوم کرو۔
پانسوں کے ذریعے قسمت معلوم کرنے کی مختلف شکلیں ہیں۔ عرب میں اس کی مختلف شکلیں رائج تھیں۔ ایک شکل یہ تھی کہ بت سے معلوم کیا جائے کہ ہم میں سے کس کا کیا حصہ ہونا چاہیے؟ ہماری قسمت کیا ہے؟ اور ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں۔ کعبہ میں ہبل کے پاس تیر رکھے ہوئے تھے اور ان پر لکھا ہوا تھا کہ یہ کام کرو اور یہ نہ کرو۔ اس طرح کی مختلف عبارتیں ان پر لکھی ہوئی تھیں۔ جو تیر نکل آتا تھا اس کے معنی یہ تھے کہ ہبل کا یہ فیصلہ ہے کہ آپ یہ کام کریں۔ہبل نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے یا اس کی اجازت نہیں دی ہے کہ آپ یہ کام نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کو حرام قرار دیا ہے کہ پانسوں کے ذریعے قسمت کا حال معلوم کریں۔

درس قرآن

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس