Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رسائل و مسائل

غیرمسلموں کیے برتنوں کاحکم

 سوال : معاشرتی زندگی میں [خصوصاً غیرمسلم ممالک میں] اکثر اوقات غیرمسلموں سے سابقہ پیش آتا ہے اور بہت سے مواقع پر باہم کھانے پینے کی نوبت آتی ہے۔ اس ضمن میں اُن کے برتنوں کے استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب:برتن کی پاکی اور ناپاکی کے سلسلے میں اصولی طور پر تین باتیں پیش نظر رکھنی چاہییں:
۱- برتن دو وجوہ سے ناپاک ہوتا ہے ۔ یا تو اس لیے کہ اس کو استعمال کرنے والا وہ ہے جس کا جھوٹا ناپاک ہو، مثلاً: کتّا، سؤر وغیرہ،یا اس لیے کہ: اس میں جو چیز رکھی جائے وہ خود ناپاک ہو، مثلاً برتن میں خون یا شراب رکھ دی جائے۔
جہاں تک غیرمسلموں کی بات ہے تو ان کے جھوٹے ناپاک نہیں ہوتے۔ تمام انسانوں کے جھوٹے پاک ہیں اور اس میں مسلم اور کافر کا کوئی فرق نہیں ہے (الدر المختار علی ردّ المختار، ج۱،ص ۲۱۵)۔ اس لیے ظاہر ہے کہ ان کے برتن اس وجہ سے تو ناپاک نہیں ہوسکتے۔
جہاں تک ناپاکی کی دوسری وجہ ہے تو چونکہ مشرکین کے ذبیحے اور اہلِ کتاب کے وہ ذبیحے جن پر حضرت مسیح علیہ السلام کا نا م لیا جائے حرام اور نجس ہیں۔ اس لیے اس کا امکان موجود ہے کہ شاید برتن ان کے لیے استعمال کیے گئے ہوں۔ اسی طرح بعض قوموں میں کتّے، سؤر وغیرہ بھی کھائے جاتے ہیں، ان کے برتنوں کے بارے میں بھی اس شبہے کی گنجایش ہے۔
۲- عام حالات میں ان ناپاکیوں سے پاکی کے لیے صرف اس قدر کافی ہے کہ ان کو دھو لیا جائے، اور عادتاً ہر قوم میں کھانے کے بعد برتن دھو بھی لیے جاتے ہیں۔ ان برتنوں کے دھونے میں پاکی کی نیت اور ارادہ بھی ضروری نہیں، فقط دھو لینا ہی کافی ہے، چاہے مسلم دھوئے یا غیرمسلم۔
۳- ناپاکی کا فیصلہ محض شبہہ کی بنا پر نہیں کیا جاسکتا، تاآنکہ اس کے لیے کافی قوی وجہ نہ ہو اور نہ شریعت ان احکام میں ضرورت سے زیادہ کھوج کرید اور تجسس کو پسند کرتی ہے۔
حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ سفر میں ایک صاحب نے مقامی باشندے سے پانی کے ایک گڑھے کے بارے میں سوال کیا کہ: ’’اس سے درندے تو نہیں پیتے ہیں؟‘‘ حضرت عمرؓ نے اس کا جواب دینے سے منع فرما دیا۔ (موطا امام مالک)
لہٰذا، جب تک قرائن کی روشنی میں برتن کے ناپاکی کے لیے استعمال کیے جانے کا غالب گمان نہ ہو اور برتن دُھلا ہوا بھی نہ ہو، اس بات کا گمان غالب ہو کہ اس کے لیے ناپاک پانی استعمال کیا گیا ہوگا، اس وقت تک اس کو ناپاک شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں اہلِ ذمّہ پر یہ شرط بھی عائد کی تھی کہ وہ ا ن کی طرف جانے والے مسلمان قافلوں کی ضیافت کریں (موطا امام مالک)۔ظاہر ہے کہ اس ضیافت کے لیے انھی کے برتن استعمال کیے جاتے تھے۔البتہ، جس جگہ ناپاکی کا احتمال زیادہ ہو، جیسے یورپ وغیرہ میں، جہاں کہ سؤر کی چربی کا مختلف قسم کی غذائوں میں بہ کثرت استعمال ہوا کرتا ہے، وہاں احتیاطاًان کے برتنوں سے بچنا چاہیے۔ (مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس