Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رسائل و مسائل

بے عیب حج

مغفرت کی حد تک حج کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ آپ بے عیب حج کریں۔ بے عیب حج سے مراد یہ ہے کہ آدمی حج کے دوران میں ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کی پوری پوری کوشش کرے۔ غیبت سے پرہیز کرے۔ گالی دینے سے اور باہم جھگڑا کرنے سے بچے۔ حج میں انسان کو جو سب سے بڑی مشقت پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے مناسک حج کی ادائیگی میں قدم قدم پر رکاوٹوں اور مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایک ہی وقت میں لاکھوں آدمیوں کو یہ مناسک ادا کرنے ہوتے ہیں۔ اب چونکہ اس موقع پر لوگوں کا غیر معمولی ہجوم ہوتا ہے اور ہر کوئی ایک تگ و دو میں لگا ہوتا ہے، اس لیے اس عالم میں ہر وقت اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ ایک انسان کو دوسرے انسان سے دانستہ کوئی تکلیف پہنچ جائے، یا کسی کو اپنا کوئی کام انجام دینے میں زحمت پیش آئے۔ ایسے تمام مواقع پر ہر شخص کو نہایت ضبط و تحمل سے کام لینا چاہیے اور کسی صورت میں بھی تنگ دلی اور تنگ مزاجی مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس عالم میں اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اپنے نفس پر ضبط کرے۔ باہم گالم گلوچ اور دنگے فساد سے پوری طرح بچے اور اس امر کی کوشش کرے کہ اس کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ اور اگر کسی کی ذات سے اس کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ اس کو صبر کے ساتھ برداشت کرے۔ یہ کم سے کم وہ چیز ہے جو آدمی کے حج کو بے عیب بناتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص ان مقرر کئے ہوئے مہینوں میں حج کی نیت کرے، اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ (البقرہ: 197)
حج کے دوران میں آدمی کا سب سے بڑا امتحان اسی معاملے میں ہوتا ہے اور جو آدمی حج میں لڑائی جھگڑا کرتا ہے، دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے اور دوسروں سے بچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا، وہ اپنے حج کے اجر کو بہت بڑی حد تک ضائع کردیتا ہے۔
خوبیوں والا حج
اس کے آگے اگر کوئی شخص خوبیوں والا حج کرنا چاہتا ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے وقت کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کا ذکر کرنے میں صرف کرے۔ بیٹھا ہوا فضول گپیں نہ ہانکے۔ بے کار قصہ گوئی نہ کرے۔ کسی کی برائی کرنا تو بڑی چیز ہے، محض دنیاوی معاملات پر ہر وقت باتیں کرتے رہنا بھی حج کے اجر و ثواب کو کم کردیتا ہے۔ اونچے درجے کا خوبیوں والا حج اگر آپ کو مطلوب ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے اوقات کا زیادہ سے زیادہ حصہ اللہ کا ذکر کرنے میں، نمازیں پڑھنے میں، قرآن مجید کی تلاوت کرنے میں، نیکی اور بھلائی کی باتیں کرنے میں، لوگوں کو اللہ کا دین سمجھانے میں اور ان کو منکرات اور فواحش سے روکنے میں صرف کریں۔ اگر آپ ان کاموں میں اپنے اوقات صرف کرتے ہوئے حج کریں گے تو ان شاء اللہ وہ حج خوبیوں والا حج ہوگا اور اس پر آپ بہت بڑے اجر کے مستحق ہوسکیں گے۔ (خطبات حرم(

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس