Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قاضی حسین احمد مرحوم

  1.  

     

    پیدائش وبچپن

    قاضی صاحبؒ 1938ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ سرحد) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا قاضی محمد عبدالرب صاحب ایک ممتازعالم دین تھے اوراپنے علمی رسوخ اور سیا سی بصیرت کے باعث جمعیت علمائے ہند صوبہ سرحد کے صدرچنے گئے تھے۔
    قاضی صاحب اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عتیق الرحمٰن صاحب اور مرحوم قاضی عطاءالرحمٰن صاحب اسلامی جمعیت طلبہ میں شامل تھے۔ قاضی حسین احمد بھی ان کے ہمراہ جمعیت کی سرگرمیوں میں شریک ہونے لگے۔ لٹریچر کا مطالعہ کیا اور پھر اپنا سب کچھ اعلائے کلمة اللہ کے لیے وقف کردیا۔
    ابتدائی تعلیم اور عملی زندگی
    قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والدِ محترم سے حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔ بعد ازتعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرارتعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔ جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رحجان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا۔ یہاں بھی انہوں نے اپنی موجودگی کے نقوش ثبت کیے اور سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔
    سیاسی سفر
    دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد آپ 1970 ءمیں جماعت اسلامی کے رکن بنے،پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاورکے علاوہ صوبہ سرحدکی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کی۔ 1978 ءمیں آپ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور1987 ءمیں آپ جماعت اسلامی پاکستان امیر منتخب کر لیے گئے۔ تب سے اب تک چارمرتبہ (1999،1994، 1992، 2004) امیرمنتخب ہو چکے ہیں۔
    قاضی حسین احمد 1985 ءمیں چھ سال کےلیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔ 1992 ءمیں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے،تاہم انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے بعد ازاں سینٹ سے استعفٰی دے دیا۔ 2002 ءکے عام انتخابات میں قاضی صاحب دو حلقوں سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

    بحثیت امیر جماعت اسلامی

    بانی جماعت سید ابوالاعلٰی مودودی اور میاں طفیل محمد صاحب کے بعدقاضی حسین احمد مرحوم جماعت اسلامی کے تیسرے منتخب امیر بنے۔   1987ء کے امیر جماعت کے انتخاب کے موقع پر شوریٰ نے جو تین نام تجویز کیے تھے، ان میں محترم قاضی صاحب کے علاوہ محترم مولانا جان محمد عباسی اور پروفیسر خورشیداحمدکانام تھا۔  لیکن قاضی حسین احمد کو ارکان جماعت نے کثرت رائے سے ۱۹۸۷ء میں ۴۹ برس کی عمر میں جماعت اسلامی پاکستان کا امیر منتخب کیا ۔ قاضی صاحب نے اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کی توفیق سے جماعت کی بڑی خدمت کی اور جس تحریک کا آغاز سید مودودی نے کیا تھا اور جس پودے کو میاں طفیل محمد صاحب نے اپنے خون سے سینچا تھا، اسے ایک تناور درخت بنانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کے لیے بلندیِ درجات کا ذریعہ بنائے، آمین!.

    اتحاد امت اولین ترجیح
    قاضی حسین احمدمرحوم نے ہمیشہ اپنی ایک ہی شناخت پر فخرو اصرار کیا ہے اور وہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کی حیثیت سے شناخت ہے۔انہوں نے ہمیشہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتیوں کے اتحاد کی سعی کی ہے۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کی اہم پارٹیوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل (MMA) آپ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ کسی منصب یا عہدے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعدآپ کو اتفاق رائے سے اس کا صدرچن لیا گیا۔ اس سے پہلے شیعہ و سنی اختلافات کی بنیاد پر بھڑکائی جانے والی آگ پر قابو پانے کے لیے آپ کی کوششوں سے ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، آپ اس کے روحِ رواں تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام بھی آپ کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔
    80 ءکے عشرے میں متحدہ شریعت محاذ وجود میں آیا تو آپ اس کے سیکرٹری جنرل تھے کراچی میں لسانی تعصبات کے شعلے بلند ہوئے تو آپ پشاور سے کاروانِ دعوت ومحبت لے کرکراچی پہنچے اور پورے ملک کو محبت و وحدت کا پیغام دیتے ہوئے واپس پشاور آئے۔ تحریک نظام مصطفٰی میں امت متحد ہوئی تو آپ نے صوبہ سرحد کا محاذ سنبھالا اور پسِ دیوارِ زنداں بھی رہے۔
    اتحاد امت کی ان کوششوں کا دائرہ پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ قاضی صاحب نے یہ پیغام دنیا بھر میں عام کیا ہے۔ سوویت یونین سے برسرِ پیکار افغان مجاہدین کے درمیان اختلافات افغان تاریخ کا سب سے افسوس ناک حصہ ہیں۔ قاضی حسین احمد صاحب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور علماءو مفکرین کوساتھ ملا کر ان اختلافات کو پاٹنے کی مسلسل کوششیں کیں۔ لیکن بدقسمتی سے صلح کا ہرمعاہدہ بیرونی سازشوں اور اندرونی بے اعتمادی کی نذر ہوگیا۔
    قاضی صاحب نے اتحاد و وحدت کی یہی کاوشیں کشمیر میں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں مجاہدین کے درمیان پھیلائی جانے والی کئی غلط فہمیاں اور اختلافات پر بروقت قابو پالیا گیا ہے۔
    سوڈان میں اسلامی تحریک کے بانی ڈاکٹر حسن ترابی اورصدر مملکت جنرل عمر حسن البشیر کے درمیاں اختلافات علیحدگی کی صورت اختیار کرنے لگے تو فریقین نے قاضی صاحب کو حکم تسلیم کیا۔ ایک بار صلح کا معاہدہ عمل میں بھی آگیا لیکن عالمی و علاقائی سازشوں کی نذر ہوگیا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب کے مسلسل رابطے کے باعث اختلافات کو تصادم میں بدلنے کی کئی سازشیں ناکام ہوئیں۔
    عراق کویت جنگ ہویا مسئلہ فلسطین، بوسنیا اور کوسوو میں مسلم کشی ہو یا چیچنیا میں قتل عام،برما کے خون آشام حالات ہوں یا اریٹریا کے غریب عوام کے مصائب، قاضی حسین احمد نے پورے عالم میں امت کی توانائیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ امت کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش کی ہے۔
    قاضی صاحب اور توسیع دعوت
    قاضی حسین احمد مرحوم نے امارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد توسیع دعوت پر خصوصی توجہ دی۔ ملک گیر کاروان دعوت و محبت کے علاوہ موثرافراد سے خصوصی رابطے اور مختلف قومی مشاورتی مجالس کی تشکیل اس سلسلے کی اہم سرگرمیاں تھیں۔اس ضمن میں 1997 ءمیں ممبرسازی کی ملک گیر مہم شروع کی گئی اور پینتالیس لاکھ (45) افراد نے جماعت اسلامی کی دعوت و پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے تنظیم جماعت کا حصہ بننے کا اعلان کیا۔
    گرفتاریاں
    قاضی حسین احمد مرحوم نے بھی ہر حق گو کی طرح قیدو بند کی صعوبتوں اور گرفتاریوں کا سامنا کیا۔ تحریک نظام مصطفٰی کے دوران گرفتاری کے علاوہ افغانستان پر امریکی حملوں اور یورپ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر مبنی خاکوں پر احتجاج کرنے کی پاداش میں بھی انہیں گرفتار کیاگیا۔ دوران گرفتاری انہوں نے متعدداہم مقالہ جات لکھے، جو بعد میں کتابی صورت میں شائع ہوئے۔
    عائلی زندگی
    قاضی حسین احمد ؒ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اور وہ سب اپنی والدہ سمیت جماعت اسلامی کی دعوتی و تنظیمی سرگرمیوں میں پوری طرح فعال رہتے ہیں۔ قاضی صاحب اپنی پوری مدت امارت میں  منصورہ میں دو کمروں کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیر رہے۔
    قاضی صاحب مرحوم کو اپنی مادری زبان پشتو کے علاوہ اردو،انگریزی،عربی اور فارسی پر عبور حاصل تھا۔ وہ شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال کے بہت بڑے خوشہ چین ہیں، انہیں فارسی و اردو میں ان کااکثر کلام زبانی یادتھا اور وہ اپنی تقاریر و گفتگو میں اس سے استفادہ کرتے تھے

    1.      سابق امیر جماعت سلامی پاکستان قاضی حسین احمد ؒنے اتحاد امت کے لیے اور مظلوم مسلمانوں پر ظلم کے خلاف جرا ت مندانہ آواز بلند کی ۔ درد ِ مشترک اور قدرِ مشترک ہی امت کے لیے ناگزیر عمل ہے ۔قاضی صاحب مرحوم نے انتھک جدوجہد سے قومی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ آج کے دور میں قاضی حسین احمد جیسے جرا ت مند ، علامہ اقبال اور مولانا مودودی کی فکر کی پیکر قیاد ت کی ضرورت ہے ۔

    قاضی حسین احمد کشمیر ، فلسطین ، روہنگیا ، بوسنیا سمیت عالم جہاں میں مسلمانوں پر ظلم و بربریت پر مظلوموں کی آواز بن کر میدان عمل میں اترتے اور نہ صرف مسلم حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے بلکہ اقوا م عالم کوبھی للکارتے ۔ پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر 1989 ءکو پہلی مرتبہ ریاستی سطح پر پاکستان میں منایا گیا یہ قاضی حسین احمد کی کشمیری عوام کی لازوال جدوجہد ، انہیں حق خود ارادیت دلانے کی ایسی کوشش تھی جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا اور آج مقبوضہ کشمیر میں ناجائز بھارتی تسلط ، قبضہ اور عوام پر ظلم و بر بریت کے خلاف پوری دنیا میںمظلوم کشمیری عوام سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کے لیے آواز بلند کرتی ہیں ۔ 

    قاضی حسین احمد ظلم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ ہمیشہ کھڑے پائے گئے ۔ پاکستان کے عوام ان سے بے پناہ محبت اور عقیدت رکھتے تھے ۔” ہم بیٹے کس کے قاضی کے “یہ نوجوانوں کا مقبول عام اور ولولہ انگیز جذبہ اظہار تھا ۔ قاضی صاحب مرحوم ایک ایسی کرشماتی شخصیت کے مالک تھے کہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا طبقہ ان کی طرف کھنچا چلا آتاتھا ۔ اپنے آپ کو نظریاتی اعتبار سے ان سے مخالفت رکھنے والے بھی انہیں اپنے درمیان پاکر ایسا محبت و احترام والا سلوک کرتے کہ اس پر رشک آتاہے ۔ 

    قاضی حسین احمد نے ہمیشہ اپنی ایک ہی شناخت پر فخرواصرار کیا کہ ان کی حضوراکرم ﷺ کے امتی کی حیثیت سے شناخت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ نبی اکرم ﷺ کے امتیوں کے اتحاد کی سعی کی۔ تمام مکتبہ ہائے فکر کی اہم پارٹیوں کا اتحاد متحدہ مجلس عمل(MMA) آپ کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ کسی منصب یا عہدے کی خواہش نہ رکھنے کے باوجود مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد آپ کو اتفاق رائے سے اس کا صدر چن لیاگیا۔ اس سے پہلے شیعہ ،سنی اختلافات کی بنیاد پر بھڑکائی جانے والی آگ پر قابو پانے کے لیے آپ کی کوششوں سے ملی یکجہتی کونسل کا قیام عمل میں آیا، آپ اس کے روحِ رواں تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا قیام بھی آپ کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا۔80کے عشرے میں متحدہ شریعت محاذ وجود میں آیا تو آپ اس کے سیکرٹری جنرل تھے کراچی میں لسانی تعصبات کے شعلے بلند ہوئے تو آپ نے پشاور سے ”کاروانِ دعوت ومحبت “لے کر پورے ملک کا دورہ کیا اور کراچی پہنچے اور پورے ملک کو محبت ووحدت کاپیغام دیتے ہوئے واپس پشاور آئے۔تحریک نظام مصطفٰی میں امت متحد ہوئی تو آپ نے صوبہ سرحد کا محاذ سنبھالا اور پسِ دیوار زنداں بھی رہے۔

    اتحاد امت کی ان کی کوششوں کا دائرہ پاکستان تک ہی محدودنہیں تھابلکہ قاضی صاحب نے یہ پیغام دنیا بھر میں عام کیا۔ سوویت یونین سے برسرِ پیکار افغان مجاہدین کے درمیان اختلافات افغان تاریخ کا سب سے افسوس ناک حصہ ہیں ۔ قاضی حسین احمدصاحب نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے قائدین اور علماءو مفکرین کو ساتھ ملا کر ان اختلافات کو پاٹنے کی مسلسل کوشش کی۔ لیکن بدقسمتی سے صلح کا ہر معاہدہ بیرونی سازشوں اور اندرونی بے اعتمادی کی نذر ہوگیا۔

    قاضی حسین احمد مرحوم کی افغانستان کے حالات پرگہری نظر اور وہاں کے لوگوں سے تعلق کی کیفیت قاضی صاحب میں  تھی ، اس کی مثال نہیں ملتی۔  ۱۹۹۳ء میں، افغان مجاہدین کی تنظیموں میں اختلافات دْور کرنے کے لیے مصالحتی کمیشن میں جس مجوزہ دستوری نقشے پر اتفاق ہوا تھا اور جسے میثاقِ مکہ کی بنیاد بنایاگیا تھا ،اس کی ترتیب میں بھی قاضی صاحب کا اہم کردار تھا۔  تحریکِ اسلامی نے افغانستان کے سلسلے میں جو کردار بھی ان۰ ۴برسوں میں ادا کیا ہے اور اس کے جو بھی علاقائی اور عالمی اثرات رْونما ہوئے ہیں، ان کی صورت گری میں کلیدی کردار محترم قاضی حسین احمد ہی کا تھا۔ اپنے انتقال سے پہلے بھی وہ اس سلسلے میں بہت متفکر تھے اور اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے سرگرم تھے، اور فاٹا میں ان پر خودکش حملے کے علی الرغم وہ افغانستان کے لیے خود افغانوں کے مجوزہ، (یعنی افغان based) حل کے لیے کوشاں تھے، اور پاکستان اور افغانستان کو یک جان اور دو قالب دیکھنا چاہتے تھے۔ ۲۰۱۲ء میں جماعت اسلامی کے جس وفد نے افغان صدرحامدکرزئی اور ان کی ٹیم سے مذاکرات کیے تھے، وہ بظاہر میری سربراہی میں گیا تھا لیکن اصل میرکارواں قاضی صاحب ہی تھے اور ہم سب ان کے وڑن کی روشنی میں اصلاحِ احوال کی کوشش کر رہے تھے۔

    قاضی حسین احمد نے اتحاد و وحدت کی یہی کاوشیں کشمیر میں بھی جاری رکھیں۔ ان کی کوششوں سے کشمیر میں مجاہدین کے درمیان پھیلائی جانے والی کئی غلط فہمیوں اور اختلافات پربروقت قابو پایاگیا۔

    سوڈان میں اسلامی تحریک کے بانی ڈاکٹر حسن ترابی اور صدر مملکت جنرل عمر حسن البشیر کے درمیان اختلافات علیحدگی کی صورت اختیار کرنے لگے تو فریقین نے قاضی صاحب کو حکم تسلیم کیا۔ ایک بار صلح کا معاہدہ عمل میں بھی آگیا لیکن عالمی و علاقائی سازشوں کی نذر ہوگیا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب کے مسلسل رابطے کے باعث اختلافات کو تصادم میںبدلنے کی کئی سازشیں ناکام ہوئیں۔

    عراق کویت جنگ ہو یا مسئلہ کشمیر ، فلسطین، بوسنیا اور کوسوو میں مسلم کشی ہویا چیچنیا میں قتل عام، برما کے خون آشام حالات ہوں یا اریٹیریا کے غریب عوام کے مصائب، قاضی حسین احمد نے پورے عالم میں امت کی توانائیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمیشہ امت کے زخموں پر مرحم رکھنے کی کوشش

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    قاضی حسین احمد: ایمان، جلال اور جمال کے پیکر

    پروفیسرخورشیداحمد

    قاضی حسین احمد 21جنوری ۱۹۳۸ء کو صوابی کی تحصیل نوشہرہ کے ایک مردم خیز گاؤں زیارت کاکاخیل میں پیدا ہوئے۔ قاضی حسین احمد کی دینی تعلیم اور تربیت مشفق باپ کے ہاتھوں ہوئی۔ قرآن سے شغف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ان کی گھٹی میں پڑا تھا۔ طالب علمی کے دور ہی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے نسبت قائم ہوگئی۔ جمعیت سے تعلق رفاقت کا رہا جو جماعت اسلامی تک رسائی کے لیے زینہ بنا۔ پشاور یونی ورسٹی سے جغرافیے میں ایم ایس سی کرنے کے بعد ریاست سوات میں جہان زیب کالج سیدوشریف میں بطور لیکچرار تدریسی کیریئر کا آغاز کیا، لیکن تین ہی سال میں اس وقت کی ریاست کے ماحول میں وہ ’ناپسندیدہ شخص‘ قرار دے دیے گئے اور ریاست بدری پر نوبت آئی۔ اس کے بعد اپنی خاندانی روایات کا احترام کرتے ہوئے کاروبار (فارمیسی) کو ذریعہ معاش بنایا اور۱۹۷۰ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کرلی۔ جلد ہی پشاور اور پھر اس وقت کے صوبہ سرحد کے امیر منتخب ہوئے۔ سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بھی بھرپور شرکت کی اور اس کے صدر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ ۱۹۷۸ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے اور اس حیثیت سے ۱۹۸۷ء تک خدمات انجام دیں۔ جماعت اسلامی میں امیرکا انتخاب ارکان نے ہمیشہ اپنی آزاد راے کے ذریعے کیا ہے۔ کسی بھی سطح پر اْمیدواری کا کوئی شائبہ کبھی بھی نہیں پایا گیا۔ ۱۹۷۲ء سے مرکزی شوریٰ ارکان کی رہنمائی کے لیے تین نام ضرور تجویز کرتی ہے مگر ارکان ان ناموں کے پابند نہیں اور جسے بہتر سمجھیں اسے اپنے ووٹ کے ذریعے امیر بنانے کے مجاز ہیں۔ الحمدللہ یہاں نہ وراثت ہے اور نہ وصیت، نہ اْمیدواری ہے اور نہ کنویسنگ۔ اسلام کے حقیقی جمہوری اصولوں کے مطابق قیادت کا انتخاب ہوتا ہے اور بڑے خوش گوار ماحول میں تبدیلیِ قیادت انجام پاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ اس روشن راستے پر قائم رکھے۔
    ۱۹۸۷ء کے امیر جماعت کے انتخاب کے موقع پر شوریٰ نے جو تین نام تجویز کیے تھے، ان میں محترم قاضی صاحب کے علاوہ محترم مولانا جان محمد عباسی اور میرا نام تھا۔ ان دنوں میں جنوبی افریقہ میں ختم نبوت کے سلسلے میں ایک مقدمے کی پیروی کے لیے کیپ ٹاؤن میں تھا، اور قاضی صاحب کے امیرجماعت منتخب ہونے کے لیے برابر دعائیں کر رہا تھا۔ مجھے ان کے انتخاب کی خبر کیپ ٹاؤن ہی میں ملی اور مَیں سجدہ شکر بجالایا۔ اس طر ح ۱۹۸۷ء میں ۴۹ برس کی عمر میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے۔الحمدللہ، قاضی صاحب نے اپنی صلاحیت کے مطابق اللہ کی توفیق سے جماعت کی بڑی خدمت کی اور جس تحریک کا آغاز سید مودودی نے کیا تھا اور جس پودے کو میاں طفیل محمد صاحب نے اپنے خون سے سینچا تھا، اسے ایک تناور درخت بنانے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے اور ان کے لیے بلندیِ درجات کا ذریعہ بنائے، آمین!
    قاضی حسین احمدصاحب سے میری پہلی ملاقات ۱۹۷۳ء میں مرکزی شوریٰ کے موقعے پر ہوئی۔ میں اس زمانے میں انگلستان (لسٹر) میں مقیم تھا اور اسلامک فاؤنڈیشن کے قیام میں لگا ہوا تھا۔ شوریٰ کے اجتماع کے بعد رات کو دیر تک باہم مشورے ہماری روایت ہیں۔ جس کمرے میں قاضی صاحب ٹھیرے ہوئے تھے، اس میں ڈاکٹر مراد علی شاہ کی دعوت پر ہم تینوں مل کر بیٹھے اور آدھی رات تک افغانستان کے حالات پر بات چیت کرتے رہے۔ قاضی صاحب افغانستان کا دورہ کرکے آئے تھے۔ جو نوجوان وہاں دعوتِ اسلامی کا کام کر رہے تھے، وہ ظاہرشاہ کے زمانے ہی میں ظلم و ستم کا نشانہ بننے لگے تھے اور اشتراکی تحریک اور قوم پرست دونوں اپنا اپنا کھیل کھیل رہے تھے لیکن داؤد کے برسرِاقتدار آنے کے بعد حالات اور بھی خراب ہوگئے۔ مجھے اس علاقے کے بارے میں پہلی مفصل بریفنگ قاضی حسین احمد صاحب نے دی جو کئی گھنٹوں پر پھیلی ہوئی تھی۔
    افغانستان کے حالات پر جس گہری نظر اور وہاں کے لوگوں سے تعلق کی جو کیفیت میں نے قاضی صاحب میں دیکھی، اس کی مثال نہیں ملتی۔ مجھے جہادِ افغانستان کے پورے دور میں ان کے ساتھ ان معاملات میں شرکت کی سعادت حاصل رہی ہے۔ ۱۹۹۳ء میں، افغان مجاہدین کی تنظیموں میں اختلافات دْور کرنے کے لیے مصالحتی کمیشن میں ان کے ساتھ ایک ماہ مَیں نے بھی افغانستان میں گزارا اور اس وقت جس مجوزہ دستوری نقشے پر اتفاق ہوا تھا اور جسے میثاقِ مکہ کی بنیاد بنایاگیا تھا ،اس کی ترتیب میں کچھ خدمت انجام دینے کی سعادت مجھے بھی حاصل رہی ہے، لیکن تحریکِ اسلامی نے افغانستان کے سلسلے میں جو کردار بھی ان۰ ۴برسوں میں ادا کیا ہے اور اس کے جو بھی علاقائی اور عالمی اثرات رْونما ہوئے ہیں، ان کی صورت گری میں کلیدی کردار محترم قاضی حسین احمد ہی کا تھا۔ اپنے انتقال سے پہلے بھی وہ اس سلسلے میں بہت متفکر تھے اور اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے سرگرم تھے، اور فاٹا میں ان پر خودکش حملے کے علی الرغم وہ افغانستان کے لیے خود افغانوں کے مجوزہ، (یعنی افغان based) حل کے لیے کوشاں تھے، اور پاکستان اور افغانستان کو یک جان اور دو قالب دیکھنا چاہتے تھے۔ ۲۰۱۲ء میں جماعت اسلامی کے جس وفد نے افغان صدرحامدکرزئی اور ان کی ٹیم سے مذاکرات کیے تھے، وہ بظاہر میری سربراہی میں گیا تھا لیکن اصل میرکارواں قاضی صاحب ہی تھے اور ہم سب ان کے وڑن کی روشنی میں اصلاحِ احوال کی کوشش کر رہے تھے۔
    قاضی صاحب کی اصل وفاداری اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اور اس وفاداری کے تقاضے کے طور پر اْمت مسلمہ اور اس کے احیا کو اپنی زندگی کا مشن سمجھتے تھے۔ اس کے لیے انھوں نے سوچ سمجھ کر وہ راستہ اختیار کیا تھا جس کی طرف ہمارے دور میں علامہ محمد اقبال اور مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے رہنمائی دی تھی اور وہ ان خطوطِ کار پر یقین رکھتے تھے۔ اس کے مقصد، طریق کار اور دستور کی وفاداری کا جو حلف انھوں نے اْٹھایا تھا، اسے عمربھر نبھانے کی انھوں نے مخلصانہ اور سرگرم کوششیں کیں۔ وہ لکیرکے فقیر نہ تھے مگر اس فریم ورک کے وفادار تھے جسے انھوں نے سوچ سمجھ کر قبول اور اختیار کیا تھا۔
    قاضی حسین احمد صاحب ایک سچے انسان، اللہ کے ایک تابع دار بندے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق، اْمت مسلمہ کے بہی خواہ، تحریکِ اسلامی کے مخلص خادم، کلمہ حق کو بلند کرنے والے ایک اَن تھک مجاہد اور پاکستان کے حقیقی پاسبان تھے۔ اللہ کے دین کے جس پیغام اور مشن کو طالب علمی کی زندگی میں دل کی گہرائیوں میں بسا لیا تھا اسے پورے شعور کے ساتھ قبول کیا، اپنی جوانی اور بڑھاپے کی تمام توانائیاں اس کی خدمت میں صرف کردیں۔ اس دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا، اس کی خاطر ہرمشکل کو بخوشی انگیز کیا، ہر وادی کی آبلہ پائی کی، ہر قطرے کو خوش آمدید کہا، ہرقربانی کو بہ رضا و رغبت پیش کیا اور پورے خلوص، مکمل دیانت، اور ناقابلِ تزلزل استقامت کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک اس کی خدمت میں لگے رہے۔ ملت ِ اسلامیہ کا یہ فرزند اور رہنما ۶؍جنوری ۲۰۱۳ء کو اپنے رب کے حضور پیش ہو گیا، اللہ تعالیٰ مغفرت فر مائے۔

     

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

     آغآجان ، ہمارا سائبان

    ڈاکٹرسمیحہ راحیل قاضی

    محبت اور شفقت سے گندھا ہوا آغا جان کا وجود نہ رہا تو زندگی بقول مریم گیلانی بہت ہی خاموش ہوگئی ہے۔ یہ بے لوث رشتہ بہت ہی بھرپور تھا ۔ سر پر سایہ بھی اور منزل کا نشان بھی ۔ اپنے ہاتھ خالی سے لگنے لگے ہیں کیونکہ جس انگلی کو پکڑکر چلنا سیکھاتھا ۔ جن قدموں کے نشان پر بے خطر چلی تھی کہ یہ ہمیشہ منزل تک ہی لے جائیں گے اور جن کندھوں کو ہمیشہ سے اپنے سامنے یوں پھیلے ہوئے دیکھاتھا کہ ان سے گزر کر کبھی کوئی مشکل مجھ تک پہنچ ہی نہیں پائے گی وہ یوں اچانک ہی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔کبھی اس کاتصور بھی نہیں کیاتھا۔ آغا جان کی جدائی کی اذیت نے زندگی سے بے فکری کو ایسے اڑا دیا ہے جیسے تیز دھوپ میں رنگ اڑ جاتے ہیں۔ ایک درد بھرا احساس ہے جو پورے وجود میں پھیل گیا ہے کہ اب وہ سراپا محبت وجود جس میں سب غموں کاعلاج اور سارے جہان کاتحفظ میسر تھا وہ اب نہیں رہا۔
    غضب کی دھوپ تھی تنہائیوں کے جنگل میں
    کئی شجر تھے مگر سایہ دار کوئی نہ تھا
    اور یا مقبول جان نے میرے آغا جان کے بارے میں لکھا کہ ان کا کیسا چہرہ تھا کہ آنکھ اس سے ہٹتی نہ تھی ۔ تبسم ایسا کہ دلوں کے زخم دھل جائیں، آنکھوں میں گہرائی ایسی جس میں اکثر حزن و ملال اور اُمت مسلمہ کادرد ، جھیل کے پانیوں کی طرح چھلکتارہتاتھا۔ مائیکل اینجلو جسے دنیاایک بڑا مصور مانتی ہے ، جس نے روم کے گرجا گھروں میں عالم بالا کے کئی کرداروں کی تصاویر اور مجسمے بنائے ۔ اگر وہ قاضی حسین احمد ؒ کو دیکھ لیتا تو یقیناً کسی مقرب ترین فرشتے کی تصویر ان جیسی ضرور بناتا ۔ چہرہ اللہ کے نور سے روشن ہوتاتھا اور قاضی حسین احمد ؒ کاچہرہ ایسا ہی تھا جسے دیکھ کر اقبال کے مرد مومن کی وہ چار علامتیں ’’قہاری وغفاری و قدوسی و جبروت ‘‘ایسے جھلکتی تھیں کہ آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔
    وفات سے چند روز قبل جب وہ بم دھماکے کے بعد عافیت سے گھر لوٹ آئے تھے تو گھر میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بجلی گئی ہوئی تھی اور کمرے میں اندھیرا تھا۔ مگر جب میں اُن سے ملنے گئی تو مجھے اُن کا وہ نورانی چہرہ اتنا چمکتاہوا نظر آیا کہ میں حیرت زدہ ہو کر رہ گئی ، اُس وقت وہ مجھے ایسے آغا جان لگے ،جو اپنے رب کے بہت قریب اور اُس کی خاص رحمت سے نوازے گئے بندے ہوں کیونکہ انہوںنے ساری عمر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک وفادار غلام کی مانند زندگی بسر کی اور اُن کی میں چشم دید گواہ ہوں ۔ مجھے ایک بزرگ نے اُن کی وفات کے بعد کہاکہ راحیل بیٹا تمہارے آغا جان اللہ کے ولی تھے اور ولی کی ولایت برقرار رکھنے کے لیے اُس کی زندگی میں کسی کو اُس کی خبر نہیں ہوتی ۔ وہ بڑے خشوع و خضوع سے اللہ کے دربار میں حاضر ی دیتے ۔ آخری دنوں میں اپنے گھٹنوں کی تکلیف اور سانس کی بیماری کی وجہ سے جب مسجد نہ جاپا تے تو ہم سب کو اپنے پیچھے کھڑا کرکے اپنی خوبصور ت آواز میں ایسی تلاوت کرتے کہ لگتا تھاکہ یہ آیات ابھی اسی موقع کے لیے نازل کی گئی ہیں۔ نیوز ویک نے اپنے شمارے کے سرورق پر انہیں جب Saint Qaziکاخطاب دیا تو مجھے اپنے احساس پر یقین ہوگیا۔
    دیوبند کے کبار علماء کے گھرانے کے فرد ہوتے ہوئے جن کا نام ہی میرے دادا جان نے حسین احمد اپنے قائد کے نام کی وجہ سے رکھاتھا۔ آغا جان بتاتے تھے کہ میں بچپن میں بولتا نہ تھا اور جب مکرم المقام مولانا حسین احمد مدنی ؒ ہمارے گائوں ہمارے گھر تشریف لائے تو میرے داد ا جان نے انہیں کہا کہ حضرت آپ کے نام کی وجہ سے اس کانام رکھاتھامگر اب یہ بولتا نہیں ہے تو انہوںنے اپنا لعاب میرے منہ میں ڈالا تھا اور پھر میرے بیان میں فصاحت و بلاغت رواں ہوئی ۔ لیکن میرے آغا جان مسلک کی قید میں نہ رہ سکے اور اقبالؒ اور مولانا مودودی ؒ کے ایسے پرستار ہوئے کہ علمائے دیوبند کے آگے بھی ہمیشہ سرتسلیم خم رکھا اور حافظ اقبال بھی ٹھہرے اور مولانا مودودی ؒکو بھی اپنامرشد بنائے رکھا۔ شیعہ ، سنی اختلاف کو ایسے ختم کیا کہ امام رضا ؒ کے روضے پر بھی اُن کو مصلے میں امامت کے لیے کھڑا کیاگیا اور راولپنڈی میں جس مدرسہ تعلیم القرآن پر حملہ ہواہے وہ میرے نانا جان کے بھائیوں جیسے دوست مولانا غلام اللہ خان ؒصاحب کا قائم کردہ ہے۔ وہ دیوبندی مسلک کامدرسہ ہے اور میرے آغا جان ہمیشہ اس میں مہمان خصوصی ہوتے ۔ آغا جان نے اس طرح کے سانحات سے بچنے کے لیے کبھی ایک پلیٹ فارم بنایا اور کبھی دوسرا تاکہ لوگ مسالک کی قیود سے باہر نکل کر اُمت کے گلدستے میں متحد ہوسکیں۔
    مولانا شاہ احمد نورانی ؒ کو اپنے بڑے بھائیوں جیسا عزیز رکھا اور مولانا فضل الرحمن کو اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح۔ دینی جماعتوں کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ اختلافات کے باوجود اپنے ذاتی روابط ایسے برقرار رکھے کہ اب چاہے نواز شریف ہوں یا شہباز شریف ،آصف علی زرداری ہوں یا چوہدری شجاعت حسین ، عمران خان ہوں یا محمو دخان، سندھی قوم پرست ہوں یاپختون نیشنلسٹ مجھے اپنے گھر اور خاندان کے افراد ہی لگتے ہیں ۔ او ر وہ بھی سب جواباً وہی احترام کے رویے رکھتے ہیں۔
    ورق ورق پر تری حقیقت ، ترا فسانہ ، تری محبت
    کتاب ہستی جہاں سے کھولی ، تری ہی یادوں کا باب نکلا
    آغا جان ! آپ ساری زندگی نمود و نمائش اور اپنی ذات کو نمایاں کرنے سے بے نیاز رہے مگر آپ کی رحلت پر قوم نے آپ کو ایسا خراج تحسین پیش کیاہے کہ میں اگر صرف کالم نگاروں کے نام ہی لکھنے بیٹھ جائوں تو یہ کالم اُسی کی نذر ہوجائے گا۔ کیا اپنے اور کیا نظریاتی مخالف ، آپ کے بارے میں سب کے قلم اتنی خوبصورتی سے چلے ہیں کہ بہت ہی خوبصورت گواہیاں رقم ہوئی ہیں۔ اور واقعی آپ اس شعر کے مصداق ٹھہرے ہیں جو آپ سے ہم نے بار ہا سنا
    ہو اگر خودنگر ، خودگر و خودگیر خودی
    یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مرنہ سکے
    آپ نے ساری عمر اپنی خودی اور خودداری کی ایسی پرورش کی کہ آپ غیرت اور شجاعت کااستعارہ بن گئے۔ آپ کی پیشانی نے اُس سجدے کا مزہ چکھا تھا جو انسان کو ہزار سجدوں سے نجات عطاکردیتاہے۔ آ پ نے ساری عمر لوگوں کے دلوں میں محبت،عزت و احترام کے بیج بوئے ہیں اور اس کے ثمرات سے ہم مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ ہماری یادوں میں تو بستے ہی ہیں مگر چار سال ہونے کو آئے ہیں ، کوئی دن ایسانہیں گزرتا کہ آپ کے نام کی وجہ سے ہماری عزت افزائی نہ ہوئی ہو ، پذیرائی نہ ہوئی ہو ۔ آپ نے ورثہ میں ہمارے لئے جو نیک نامی چھوڑی ہے ۔ اللہ ہمیں اُسے برقرار رکھنے کا اہل بنادے ،آمین۔
    آپ کی جان جماعت اسلامی جسے آپ نے اپنے کردار کی خوبصورتی کی وجہ سے اپنے اتنے بڑے علماء کے خاندان کی جان بنا کر ہی چھوڑا، آپ کاہمارے لیے ایک اور قیمتی ورثہ ہے اور آپ کی وصیت کے مطابق جو آپ نے آخری دنوںمیں بار ہا کی کہ نظم جماعت سے جڑے رہنا اور اس کی اطاعت کرنا ۔ آپ نے ہی ہمیں بتایاتھاکہ جماعت حفیظ بھی ہے اور امین بھی ، تم یہاں سے کردار کی حفاظت بھی پائو گے اور امانت کاسلیقہ بھی سیکھو گے ۔ لوگ تم سے بہت محبت کریں گے اگر تم نظم جماعت کی اطاعت میں زندگی بسر کرو گے ۔ آغا جان واقعی ہمیں یہاں سے اتنی محبت ملی ہے کہ آپ کا اتنا بڑا غم تقسیم ہوگیاہے ۔ آپ پر جان نچھاور کرنے والے نوجوان آج بھی آپ کا ذکر سنتے ہی بے قرار جذبوں سے ’’ہم بیٹے کس کے قاضی کے ‘‘ کانعرہ مستانہ بلند کرتے نظر آتے ہیں ۔
    جمعیت کے اس وقت کے ناظم اعلیٰ محمد زبیر صفدر نے آپ کی تعزیت کے لیے آئے ہوئے عرب و عجم کے راہنمائوں کو بتایا کہ یہ محض ایک نعرہ ہی نہیں تھا۔ ہم انہیں دیکھ کر واقعی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے تھے ۔ وہ ہمارے جوان جذبوں اور ولولوں کے لیے مہمیز کاکام دیتے تھے اور اُن کی شخصیت ہمارے لیے جوش جنون کی علامت تھی اور ہم اپنے آپ کو ان نعروںکو دیوانہ وار لگانے پر مجبور پاتے تھے۔
    آغا جان کی اتنی بھرپور اور ہماری زندگیوں کے ہر معاملے میں پیوستہ زندگی تھی کہ اُن کی آواز اور ان کے روشن خوبصورت چہرے کی مسکراہٹ مجھے اپنے آس پاس ہی چمکتی نظر آتی ہے ۔ ہر بیٹی کو اپناباپ دنیاکا سب سے خوبصورت مرد نظر آتاہے مگر شاید میں اس بات میں حق بجانب ہوں کہ میرے آغا جان واقعی وجاہت کانمونہ تھے ۔اور بڑھاپے میں تو اُن کی شخصیت شفقت وجمال سے پُر نور ہوگئی تھی۔ وہ عورت کے ہرر وپ کے لیے چاہے وہ ہم بیٹیاں تھیں ، یا اُن کی بہنیں یا اُن کی عزیز ہم سفر میری امی یا اُن کی ہزاروں کارکنان!اُن سب کے لیے اتنے شفیق اور محبت کرنے والے تھے اور اُن کے پاس اُن کے لیے صرف عزت اور محبت تھی ۔ وہ ہر وقت ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سنایاکرتے تھے کہ یہ عورتیں آبگینے ہیں۔ بیک وقت ہیرے کی طرح مضبوط اور کانچ کی طرح نازک ہوتی ہیں۔ اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو خوشبو اور نماز کے ساتھ یاد کیا ہے۔ انہوںنے بھی نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک عاشق اُمتی کی حیثیت سے ہمارے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیے رکھا ۔ اسی لیے بشریٰ رحمن آپا نے مجھے کہاکہ راحیل میری بہن ! آغا جان کی جدائی کاد ردایسانہیں ہے کہ آنسوئوں میں بہہ جائے۔ یہ تو کلیجے میں جا کر کھڑا ہوجاتاہے ، کیل ہوجاتاہے پھر زندگی کے کڑے کو س زندہ ہوجاتاہے ، جاگ اُٹھتاہے ،کوئی لمحہ اُن کی یادوں کے بغیر نہیں گزرتا۔ بیٹی کے آنچل میں باپ کی آدرش کی قندیل ہمیشہ جلتی رہتی ہے جسے وہ زمانے کی آندھیوں سے بھی بچا کر رکھتی ہے اور اپنے آنسوئوں سے اُسے بجھنے بھی نہیں دیتی ۔ تم آگے بڑھ کر قندیل اُٹھالو۔ اس کی روشنی میں اُن کے نقوش قدم پر چلنا، تمہارے پاس اُن کی تربیت ہے ، صبر وتحمل کاترکہ ہے ، رزقِ حلال کی لذت ہے ، آگہی کی لگن ہے ۔ ان کے بنائے ہوئے راستوں پر ملک اور ملت کی خدمت کرنا، قوم کی بیٹیوں کی راہنمائی کرنا، یہی مرہم ہے ، زخم جدائی کا اور یہی سلیقہ ہے انہیں زندہ و تابندہ رکھنے کا۔
    آ پ سے درخواست ہے کہ میرے آغا جان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے ہمارے ساتھ دعائوں میں شریک رہیں کہ وہ اب ہماری دعائوں کے ہی محتاج ہیں ۔ رب اغفرہ وارحمہ۔ اے میرے رب انہیں بخش دینا اور اُن سے اتنی ہی محبت اور شفقت کا سلوک کرنا جس محبت اور شفقت سے انہوںنے ہمیں پالاتھا۔

     

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    مجاہد ملت قاضی حسین احمد

    چوہدری محمد اسلم سلیمی

    قاضی حسین احمد سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان ہر دلعزیز مجاہد ملت،کروڑوں مسلمانوں کے محبوب قائد اور پوری ملت اسلامیہ کے عظیم المرتبت رہنماتھے۔ ان کی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ ، اقامت دین کی بھرپور جدوجہد ، اتحاد امت ، وطن عزیز میں قانون کی بالادستی و حکمرانی اور دنیا بھر میں جہاد کی پشتیبانی کے لیے وقف تھی ۔ وہ ہر وقت مستعد اور متحرک رہتے تھے ۔ اپنی صحت اور آرام کا بھی خیال نہیں رکھتے تھے ۔ مختلف عوارض اور امراض میں مبتلا ہونے کے باوجود وہ دعوتِ حق پیش کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ بائیس سال تک جماعت اسلامی پاکستان کی امارت کی ذمہ داری بحسن و خوبی ادا کی۔ جب وہ اپنے گھٹنوں کی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے میں دقت محسوس کرنے لگے تو انہوںنے 2009ء میں منصب امارت کے نئے انتخاب کے موقع پر ملک بھر کے ارکان جماعت سے امارت کی ذمہ داریوں سے معذرت کرلی اور امارت کے منصب سے ریٹائرہوگئے تھے تو یہ کہاکرتے تھے کہ میں منصب امارت سے تو ریٹائرہوگیاہوں لیکن دعوت الی اللہ کے کام سے فارغ نہیں ہوا۔ یہ کام تومیں آخری سانس تک کرتارہوں گا۔ اُن کی یہ بات بالکل سچ ثابت ہوئی اور اپنی زندگی کے آخری ہفتے میں سانس کی بیماری میں چند روز مبتلا رہنے کے بعد جب انہیں قدرے افاقہ ہوا تو پشاور سے اسلام آباد آنے سے پہلے انہوںنے محترم امیرجماعت سیدمنورحسن صاحب سے لاہور فون پر بات کی کہ میں اب ٹھیک ہوگیاہوں اور اسلام آباد روانہ ہورہاہوںتو محترم امیرجماعت نے انہیں کچھ دن آرام کرنے کامشورہ دیا لیکن آرام کا لفظ قاضی حسین احمد کی لغت میں موجودہی نہیں تھا۔
    میرا قاضی حسین احمد ؒسے تعلق 70 ء کی دہائی میں قائم ہوگیاتھا جب میں مرکز جماعت میں ذمہ داری ادا کررہاتھا۔ قاضی صاحب پہلے پشاور شہر کے امیرمنتخب ہوئے پھر کچھ عرصے بعد وہ قیم صوبہ کی ذمہ داری پر فائز ہوئے اور پھر امیرصوبہ منتخب ہوئے ۔ 1978ء میں جب وہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری اداکرنے کے لیے پشاور سے منصورہ لاہور میں منتقل ہوئے تو مجھے نو سال تک اُن کے ساتھ نائب قیم جماعت کی حیثیت سے کام کرنے کا موقع ملا۔ 1987ء میں وہ امیرجماعت اسلامی پاکستان منتخب ہوئے تو انہوںنے مرکزی مجلس شوریٰ کے مشورے سے مجھے سیکرٹری جنرل مقرر کردیا۔ اس کے بعد 1992ء سے لے کر 2009ء تک سترہ سال میں اُن کے ساتھ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی حیثیت سے کام کرتارہا۔چالیس سالہ تعلقات کے دوران میں نے انہیں ان تھک ، سراپا حرکت اور جرأت مند، ہردلعزیز قائد ،ایک نہایت شفیق اور مہربان بھائی، اُمت مسلمہ کا مخلص ہمدرداور دنیا بھر میں جہاد کا پشتیبان پایا۔1979ء میں افغانستان جہاد کے آغاز سے لے کر روسی فوجوں کے انخلاء تک قاضی حسین احمد صاحب جہاد افغانستان کے مکمل پشتیبان رہے ۔ اور مختلف جہادی تنظیموں کے سربراہوں کے درمیان باہمی اختلافات کو دور کرانے کی کوشش بھی کرتے رہے۔
    جہاد کشمیر:
    1989ء کے اواخر میں بھارتی قابض فوج کے مقبوضہ جموںوکشمیر کے مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھانے اور انتہائی جبر وتشدد کے خلاف جموںوکشمیرکے مسلمان نوجوانوں نے بھرپور جرأت مندانہ مزاحمت کرنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیاتو لاکھوں بھارتی فوجیوں نے مزاحمت کو کچل دینے کے لیے اور زیادہ ظلم و تشدد اور عفت مآب خواتین کی عصمت دری کے شرمناک واقعات کا اضافہ کردیا تو سینکڑوں کشمیری خاندان ہجرت کرکے آزاد کشمیر میں داخل ہونے لگے تو قاضی حسین احمد نے آگے بڑھ کر آزاد کشمیر کی حکومت اور وفاقی حکومت کو جھنجھوڑ ا کہ وہ مظلوم کشمیری مہاجرین کی مدد کرے ۔ان کی عدم توجہی کی بناء پر قاضی صاحب نے جماعت اسلامی پاکستان اور اس کی برادر تنظیموں کے کارکنوں کو مہاجرین کی امداد اور ریلیف کے کاموں پر لگادیا۔ 5فجنوری1990ء کو انہوںنے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تمام سیاسی و دینی جماعتوں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ کشمیری مہاجرین کی مدد کے لیے دامے، درمے ،سخنے تعاون کریں اور اس کے ساتھ مقبوضہ جموںوکشمیرمیں تحریک مزاحمت سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پانچ فروری کو پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کریں، سارے کام کاج چھوڑ کر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائیں، جلسے منعقد کریں ، جلوس نکالیں اور مقبوضہ جموںوکشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو حوصلہ دیں ۔ 1990ء سے لے کر اب تک 5فروری کا دن کشمیریوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری یہ دن پورے جو ش و خروش سے مناتے ہیںاور یہ قاضی حسین احمد ؒ کا صدقہ جاریہ ہے جو کشمیر کی آزادی تک جاری ہے گا،ان شاء اللہ۔
    جہادبوسنیا:
    1992میں یورپ کے قلب میں واقع ایک مسلمان ملک بوسنیا ہرزیگووینا کے آزاد ہونے کے بعد سرب مسلح درندوں کے حملوں اور بے پناہ تشدد کے نتیجے میں سینکڑوں بوسنی مسلمان شہید کردیئے گئے اور ہزاروں کو زخمی کرکے اپنے گھروں اور جائیدادوں سے زبردستی بے دخل کردیا گیا ۔ ان کی املاک کو جلادیا گیا۔ مساجد تک کو شہید کردیا گیا۔ قاضی حسین احمدان بے پناہ مظالم پر تڑپ اٹھے ، انہوںنے یورپ میں قائم مسلمان فلاحی تنظیموں سے بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کرنے کی اپیل کی۔ برطانیہ میں قائم فلاحی تنظیم ’’مسلم ایڈ‘‘ نے خصوصی مہم چلائی اور بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ریلیف کے لیے گرم کپڑوں ،خوراک کے سامان اور نقد امداد بڑے پیمانے پر جمع کرکے قاضی حسین احمد کو دعوت دی کہ وہ ان کے ساتھ بوسنیا جا کر ریلیف کے سامان کی تقسیم اور نقد امداد پہنچانے کے کام کاآغاز اپنے ہاتھوں سے کریں ۔ قاضی صاحب کی صحت اُن دنوں خراب تھی مگر وہ فوراً بوسنیا جانے کے لیے تیار ہوگئے اور پاکستان کے کچھ نوجوان رضا کاروں اور یورپ میں مقیم مسلمان رضا کاروں کے ساتھ بوسنیا کا دشوارگزار سفر اختیار کیا اور مظلوم مسلمانوں اور ان کے رہنمائوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے نقد رقوم اور ریلیف کا بہت سامان تقسیم کرایا۔قاضی صاحب نے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بوسنیا جا کر زخمیو ں اور بیماروں کا علاج کریں۔ چنانچہ کئی ڈاکٹر قاضی حسین احمد کی اپیل پر بوسنیا جا کر اپنی خدمات انجام دیتے رہے اور ہزاروں لوگوں کا علاج کیا۔
    جہاد فلسطین:
    جہاد فلسطین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے لیے انہوں نے پاکستان کے علاوہ ترکی،سعودی عرب،اُردن،قطر اور متحدہ عرب امارات اور بعض دوسرے اسلامی ممالک کے دورے کیے اور فلسطینی مہاجرین اور مجاہدین کی امداد کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔
    پاکستان میں مختلف مسالک کے درمیان یکجہتی پیدا کرنے اور مشترکات پر سب کوجمع کرنے کے لیے قاضی صاحب کی جہدوجہد قابل ستائش ہے۔ انہوںنے ملی یکجہتی کونسل کے قیام کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور مختلف مسالک کے جید علمائے کرام ، مشائخ عظام اور دینی تنظیموں کے سربراہوں سے کئی کئی مرتبہ ملاقاتیں کیں ۔ ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے سیکولر عناصر کا مقابلہ کرنے اور ملک میں شریعت اسلامی کے نفاذ کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی کامیاب کوشش کی ۔ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ایک متفقہ ضابطۂ اخلاق طے کروایا اور اس پر تمام مسالک کے جید علمائے کرام کے دستخط کروانے میں کامیاب ہوئے ۔ اس کے نتیجے میں اغیار کی ساز ش ناکام ہوئیں اور پاکستان میں یکجہتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا پیدا ہوئی۔اپنی وفات سے چند ماہ قبل انہوںنے اسلام آباد میں کامیاب انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کرائی۔
    قاضی حسین احمد میرے انتہائی شفیق بھائی تھے ،ہمارے خاندانوں کے درمیان محبت والفت کے تعلقات قائم رہے۔ ان کی بیٹیاںمیری بیٹیوں کی بہنوں کی طرح ہیں اور میرا ایک بیٹاقاضی صاحب کے بیٹے ڈاکٹر انس فرحان قاضی کا گہرا دوست ہے۔ میرے دوبیٹوں اور ایک بیٹی کا نکاح انہوںنے پڑھایاتھا۔ مجھے تین جنوری کو معلوم ہواکہ ان کی طبیعت ناساز ہے ۔ میں نے 4 جنوری کو فون کرکے عیادت کی تو معلوم ہواکہ انہیں سانس کی تکلیف سے افاقہ ہے۔ میں ان کی مکمل صحت یابی کے لیے پانچ جنوری کی نماز عشاء تک دعائیں کرتارہا۔ اُسی رات نصف شب کے بعد یہ افسوسناک اطلاع مل گئی کہ وہ خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
    6جنوری کو صبح آٹھ بجے پشاور کے لیے روانہ ہوا۔ ان کی نماز جنازہ سے پہلے میں محترم امیرجماعت اور قیم جماعت کے ساتھ اُن کے جسد خاکی کے ساتھ کھڑا تھاتو سوچ رہاتھاکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد برحق ہے کہ ’’کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ o وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلاَلِ وَالْاِِکْرَامِ (الرحمن۵۵:۲۶۔۲۷)۔میرے دل میں یہ خیال آرہاتھاکہ اللہ کا یہ بندہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک اقامتِ دین کی جدوجہد میں مصروف رہا ۔ دعوت الی اللہ کے کام سے کبھی فارغ نہ ہوا ۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ابدی نیند سوگیا اور اب قیامت تک آرام کرتارہے گا۔
    اللہ تعالیٰ قاضی صاحب کی عمر بھر کی خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت بخشے ،ان کی خطائوں سے درگزر فرمائے ،انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلائے ،آمین۔

     

     

     

     

     

     

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس