Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ڈاکٹرفریداحمدپراچہ نائب امیر

  1. 1. ڈاکٹرفرید احمد پراچہ خاندانی اعتبارسے اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ آپ نے ایک اعلیٰ علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔
    آپ اپریل1950ء کوسرگودھا میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد مولانا گلزاراحمد مظاہری ملک کے معروف عالم دین مایہ ناز خطیب اور جماعت اسلامی کے اعلیٰ علمی مقام رکھنے والے صف اول کے رہنما ،مجلس شوریٰ کے رکن اور جمعیت اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی صدر تھے۔
    آپ کے والد گرامی نے لاہور میں ایک اعلیٰ نوعیت کا علمی و تربیتی ادارہ "علماءاکیڈمی" کے نام سے قائم کیا ۔ جس سے فارغ التحصیل علماء کرام پاکستان میں ہی نہیں بلک مشرق و مغرب میں دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں،اورمولانا مظاہری کے اتحاد امت مشن کے نقیب ہیں۔
    ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کو بچپن سے ہی دینی ماحول میسر آیا تو اپنے دینی تعلیم کی طرف شغف کی وجہ سے قرآن و حدیث کے علوم حاصل کیے۔جامعہ قاسم العلوم سرگودھا سے دینی تعلیم حاصل کی اور ادیب عربی اور عالم عربی کے امتحانات بھی لاہور بورڈ سے پاس کیے اور اس طرح عربی اوردینی علوم میں مہارت وشغف مزید پختہ ہوگیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے 1975 ءمیں ایل ایل بی اور 1976 ءمیں جامعہ ھٰذاسے ہی علوم اسلامیہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔
    جس کے بعد جامعہ پنجاب سے ہی پی ایچ ڈی(ڈاکٹریٹ)کی ڈگری بھی حاصل کی۔ آپ نے دینی ودنیاوی تعلیمی مصروفیات کے دوران دینی مدارس کی ملک گیر تنظیم جمعیت طلبہ عربیہ اور کالجز، یونیورسٹیز کی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ اسی دوران آپ75۔1973میں سٹوڈنٹ یونین جامعہ پنجاب کے صدر بھی رہے۔ جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد دینی اور سیاسی محاذ پر نمایاں کردار اداکرتے ہوئے مختلف تنظیمی سیاسی و سماجی ذمہ داریوں (عہدوں) پرکام کرتے رہے۔ 1990میں لاہور سے ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔تمام قومی و سیاسی تحریکوں ،تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفیٰ ،تحریک تحفظ ناموس رسالت،ایوبی و بھٹوکی آمریتوں کے خلاف 16مرتبہ پابند سلاسل رہے۔
    علماءاکیڈمی منصورہ لاہور سمیت متعدد تعلیمی اداروں کے سربراہ بھی ہیں جبکہWAMY (ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ) سعودی عرب کے ممبر کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
    مختلف کتابوں میں پانچ سفرنامے ،سفر شوق(سفرنامہ حج)سارا جہاں ہمارا(سفرنامہ یورپ، امریکہ)یہ فاصلے یہ رابطے(سفرنامہ امریکہ ،کشمیر،افغانستان،ناروے،برطانیہ )،سفرنامہ ترکی اور ہواؤں کے سنگ چین ،بنگلہ دیش ،ایران اور کینیڈالکھا ۔ان سفرناموں کے علاوہ آپ کی دیگر کتب تدریس القرآن،تدریس الحدیث، عربی زبان و ادب،مطالعہ مذاہب عالم،ایک تحریک ایک انقلاب، سید مودودیؒ کے سیاسی افکار(مقالہ پی ایچ ڈی) شامل ہیں۔
    پراچہ صاحب کے پاکستان ٹیلی ویڑن اور پرائیویٹ چینلزاےآروائی،جیو، آج، اپنا،اے ٹی وی،ٹی وی ون،انڈس،سی این بی سی،بزنس پلس،الجزیرة العربیة اور ریڈیوکے علاوہ قطرٹی وی،ریڈیو کویت،ریڈیو سعودی عرب،جدہ اور مکہ ریڈیو، بی بی سی (اردو سروس) ریڈیو چین(اردوسروس)ڈنمارک(اردو سروس)وغیرہ میں اب تک 3ہزار سے زائد ٹی وی ٹاک شوز ودیگر دینی وسیاسی پروگرام نشر کیے جاچکے ہیں۔
    2002ء میں متحدہ مجلس عمل کی طرف سے لاہور کے حلقہ این اے 121 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔بحثیت رکن اسمبلی ،قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ سوالات ، تحاریک التوا،توجہ دلاؤ نوٹس،قراردادیں اور پرائیویٹ بل پیش کرنے والے رکن قرارپائے۔ اپنے حلقہ میں 22کروڑ روپے کے ترقیاتی کام کرائے ۔حلقہ کے عوامم کی خوشی و غم میں ہمیشہ شریک رہتے ہیں اور مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس