Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

راشدنسیم نائب امیر

  1. راشدنسیم جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ہیں۔آپ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی منصوبہ کمیٹی اور تربیتی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ راشد نسیم22دسمبر1956کوکراچی کے علاقے پرنس روڈ میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔آپ کے دادا اورنانا دونوں حافظ قرآن تھے۔والد صاحب ریلوے میں کلرک تھے،انہوں نے انتہائی ایمانداری اورسادگی سے زندگی بسر کی ۔ملازمت کے ساتھ شام کوٹیوشن پڑھاکرگذاراکرتے تھے۔
    راشدنسیم نے حسینی سکول ناظم آباد سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ گورنمنٹ کالج ناظم آباد سےکیاجبکہ جامعہ کراچی سے گریجویشن مکمل کی۔
    بچپن سے ہی کھیلوں میں دلچسپی رہی ۔ کرکٹ اور ہاکی شوق سے کھیلتے تھے۔ ساتھی کھلاڑی کہتے تھے کہ اگر راشدنسیم جمعیت کے کاموں میں خود کو مصروف نہ کرلیتے تو کم از کم فرسٹ کلاس کرکٹ ضرور کھیلتے۔
    مولاناسیدابوالاعلی مودودی ؒسے اور جماعت اسلامی سے تعارف گھرسے ہی ہوگیا۔والد صاحب جماعت اسلامی اور مولانا مودؒودی کے بڑے چاہنے والوں میں سے تھے۔ اس لیے تمام لٹریچر گھر میں موجود تھا۔
    مطالعہ کا شوق بھی بچپن سے ہی تھا۔انٹرکی چھٹیوں کے دوران ہی گھر میں موجود تقریبا تمام تحریکی لٹریچر، تفہیم القرآن کی چھ جلدوں سمیت جمعیت کے نصاب رکنیت کا بھی مطالعہ کیا۔
    جنوری 1975ء میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بن گئے۔اورپھر حلقہ ،علاقہ،کراچی شہر،صوبہ سندھ اورناظم اعلیٰ تک کی ذمہ داریاں ادا کیں۔
    طلبہ یونینز پر پابندی اور جمعیت کے ناظم اعلیٰ جناب معراج الدین خان کے تین ماہ سے زائد پابند سلال رہنے کے دوران قائم مقام ناظم اعلیٰ کے فرائض انجام دیئے۔
    1984میں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ منتخب کیے گئے۔اس وقت آپ کی رکنیت بلوچستان میں تھی،گویا بلوچستان سے ناظم اعلیٰ منتخب کیے گئے۔
    1987میں جمعیت سے فراغت کے فوراًبعد جماعت اسلامی کے امیدوار رکن بن گئے اور حلقہ آئی بلاک شمالی ناظم آباد کی ذمہ داری عائد کردی گئی۔
    محترم محموداعظم فاروقی صاحب مرحوم کے دور امارت میں کراچی جماعت کے نائب قیم رہے۔
    محترم سید منورحسن صاحب جب کراچی جماعت کے امیر ہوئے توآپ کراچی جماعت کے قیم مقرر کئے گئے۔ یہ دور کراچی جماعت کی تاریخ کا سخت اورکٹھن دور تھا۔ اسی دور میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں جماعت اور جمعیت کے کارکنان کی سب سے زیادہ شہادتیں ہوئیں۔ اسی دور میں آپ میر پور خاص میں ایک جلسہ میں اسٹیج پر موجود تھے جب ایم کیو ایم کے لوگوں نے اسٹیج پر فائرنگ کی جس کی زد میں آکر ایک کارکن شہید اور بہت سے زخمی ہوئے۔
    کراچی جماعت کے قیم کی ذمہ داری سے فراغت کے بعد آپ تقریبا 5سال بغیر کسی منصب کے بطور کارکن کام کرتے رہے ۔ اور پھر تقریبا 12 سال جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے قیم رہے اس کے بعد آپ کو جماعت اسلامی صوبہ سندھ کا نائب امیر مقرر کیاگیا۔
    2014ء میں محترم سراج الحق صاحب کے امیر منتخب ہونے کے بعد آپ کو جماعت اسلامی پاکستان کا نائب امیر مقررکیاگیا۔
    2002ء میں MMA کے پلیٹ فارم سے این اے 90کی مشہور زمانہ سیٹ سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا۔ سید منورحسن صاحب کے بعد کراچی میں MMAکے کسی بھی امیدوار کو سب سے زیادہ ووٹ اسی نشست سے ملے۔
    1989سے مسلسل جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہورہے ہیں۔
    آپ کے دو کتابچے "خودکشی اوردورجدید" ، "حالات حاضری اور احادیث نبوی ﷺ "کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ جبکہ ایک سفر نامہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔
    راشدنسیم نے سعودی عرب ، ملائشیا،جاپان، متحدہ عرب امارات،سوڈان،فرانس، بنگلہ دیش ، برطانیہ، امریکہ ، ترکی اور ہالینڈ کے تحریکی سفر کیے ۔
    راشدنسیم کا پورا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے ۔اہلیہ ڈاکٹر اور جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی رکن ہیں۔
    دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ چاروں بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں ۔ دونوں بیٹے دور طالب علمی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن رہے ۔ایک بیٹا اب جماعت اسلامی کا رکن ہے۔
     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس