Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حافظ محمد ادریس نائب امیر

  1.  

    حافظ محمدادریس ضلع گجرات کے ایک زمیندار، مذہبی اورتحریکی گھرانے میں17اکتوبر1945 ءکوپیدا ہوئے. ان کے والد میاں فیض محی الدین (وفات نومبر2007)جماعت اسلامی کے مقامی امیر اور زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین رہے،اپنے علاقے کی ممتاز شخصیت اور علاقے کے لوگوں میں بہت عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتےتھے۔ میاں صاحب مولانامودودی کے ابتدائی ساتھیوں اور جماعت اسلامی کے مشکل ادوار کے معاونین میں سےتھے۔
    حافظ محمدادریس نے ابتدائی تعلیم مقامی سکولوں سےحاصل کی۔ اس سے قبل انہوں نے نو سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کیا۔ وہ ایک ذہین اور محنتی طالب علم تھے اور ان کی تعلیمی زندگی بے شمار کامیابیوں سے مزین ہے۔انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کے تمام امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اورپرائمری سے لے کر ایم اے تک ہر امتحان میں مختلف وظائف اور میڈلز جیتے۔ حافظ صاحب کو 1967 ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے میں گولڈ میڈل دیاگیا۔ انہوں نے1969 ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں پہلی پوزیشن اورگولڈ میڈل حاصل کیا اور پھر1971 ءمیں جامعہ پنجاب ہی سے ایم اے اسلامیات کیا۔
    حافظ محمد ادریس بچپن سے ہی دعوتِ دین میں دلچسپی رکھتے تھے. وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سرگرم ممبراورصوبہ وسط مغربی(جو پنجاب پر مشتمل ہوا کرتا تھا) اور لاہور جمعیت کے ناظم رہے۔ 1968 ءسے 1970 ءتک اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کی مرکزی شورٰی کے ممبر رہے۔ 1970 ءمیں پنجاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔1971میں جماعت اسلامی پاکستان کے رکن بنے۔ خدمت اور دعوت دین کا جذبہ دیکھتے ہوئے بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی نے انہیں نیروبی، کینیا(افریقہ) میں دعوت اسلامی کا فریضہ سونپا۔
    1974
    ءسے لے کر1985 ءتک انہوں نے نیروبی(کینیا)میں اسلامک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹرکی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ نیروبی میں قیام کے دوران انہوں نے بےشمار تعلیمی،رفاہی اور ابلاغیاتی مہمات شروع کیں تاکہ افریقہ کے لوگوں میں علم اور اسلام کی روشنی کو پھیلایاجائے۔وہ ینگ مسلم ایسوسی ایشن اور سر علی مسلم کلب نیروبی کے بھی ممبررہے۔
    نومبر1985 ءمیں پاکستان واپسی پر ان کو جماعت اسلامی پاکستان کا نائب قیم مقرر کیا گیا۔1991 ءمیں وہ صوبہ پنجاب کے امیر منتخب ہوئے اور ستمبر2003 ءتک چار مرتبہ امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب منتخب ہوتے رہے۔بعد ازاں انہوں نے اس ذمہ داری سے استعفٰی دے کر لیاقت بلوچ  صاحب کو قائمقام صوبائی امیر مقرر کیا۔حافظ صاحب کو مرکز میں نائب امیر مقرر کیاگیا ۔وہ اب تک یہ ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
    ادارہ معارف اسلامی جماعت اسلامی کا ایک اہم تصنیفی و تحقیقی ادارہ ہے، جس کی بنیاد بانی جماعت مولانا سید ابوالاعلٰی مودودی  رحمۃ اللہ علیہ نے رکھی۔ حافظ صاحب اس ادارے میں اکتوبر2003 ءسے اپریل2004 ءتک ڈپٹی ڈائریکٹررہے۔مئی2004 ءسے ڈائریکٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور اب تک ان کی چھوٹی بڑی پچاس کتب اور ترجمے چھپ چکے ہیں۔
    1995
    ءمیں وہ شہدائے اسلام فاؤنڈیشن پاکستان کے بانی چیئرمین منتخب ہوئے۔اس ذمہ داری کے تحت اب تک کشمیراور افغانستان کے جہاد میں شہید ہونے والے ہزاروں  شہدا کے گھرانوں کی نگہداشت کے علاوہ غریب اور کم مراعات یافتہ طبقوں کی بہبود کے لیے مختلف سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لے رہے ہیں۔وہ 2006ءتک اس منصب پر فائز رہے ۔ پھر لیاقت بلوچ  صاحب اور اب پروفیسر محمد ابراہیم صاحب اس کے چیئرمین ہیں۔
    اس کے علاوہ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ جوکہ ایک غیر سرکاری تعلیمی ادارہ ہے، کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے ہیں.حافظ صاحب نے 2004ء میں غزالی ٹرسٹ کی چیئر مین شپ سے استعفٰی دے دیا اور اس وقت کے امیر صوبہ لیاقت بلوچ صاحب نئے چیئرمین منتخب ہوئے ۔
    مسلمانوں کے اتحاد کے بھرپورداعی ہونے کی وجہ سے حافظ محمد ادریس کو2002 ءمیں ایم ایم اے پنجاب کا صدرمنتخب کیا گیا۔ ایم ایم اے چھ مذہبی جماعتوں کا اتحادتھا،جو11ستمبر2001 ءکے واقعہ کے بعد اسلام دشمن قوتوں کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا۔بعد میں بوجوہ یہ اتحاد ختم ہوگیا۔2002کےانتخابات میں یہ اتحاد ملک کی دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی کی صورت میں اسمبلیوں میں پہنچا تھا۔پنجاب میں جماعت اسلامی کو پہلی بار قومی و صوبائی اسمبلی میں قابل ذکر نشستوں پر کامیابی ہوئی ۔ اس کے علاوہ بلدیات میں بھی بہت شاندار کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
    حافظ محمد ادریس ادب و تحقیق اور صحافت سے گہراشغف رکھتے ہیں۔ ان کی تصانیف میں سیرت نبوی ، سیرت صحابہ،یادرفتگان، ادب ،افسانے، ،سفرنامے اور عربی سے ترجمے وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے مختلف موضوعاتی مسائل پر تقریبا  ساڑھے چارہزارمضامین لکھے ہیں جو قومی اوربین الاقوامی جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ وہ جماعت اسلامی پاکستان کے لاہور سے شائع ہونےوالے ہفت روزہ "ایشیاء"  کے پبلشرہیں۔
    حافظ محمد ادریس ایشیا، افریقہ،مشرق وسطٰی،یورپ،امریکہ اور مشرق بعید کے تقریبا35ممالک میں مختلف کانفرنسوں میں شرکت کی غرض سے سفر بھی کرچکے ہیں۔
    حافظ محمد ادریس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ دونوں بیٹے  داود ادریس اورڈاکٹرحافظ ہارون ادریس جماعت اسلامی پاکستان کے رکن ہیں جبکہ بیٹی جماعت اسلامی پاکستان شعبہ خواتین کی رکن ہیں سب بچے شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں
    حافظ محمد ادریس خوش قسمت اور منفرد اعزاز کے حامل ہیں کہ ان کے والد،وہ خود ،ان کے بچے اور بچوں کے بچے سبھی تحریک کا کام کر رہے ہیں۔ان کا پوتا حافظ طلحہ ادریس اور خزیمہ داود ادریس اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن ہیں۔ اول الذکر پیغام ڈائجسٹ اور ہم قدم کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔حافظ صاحب کے بیٹے ڈاکٹر حافظ ہارون  ادریس بھی دور طالب علمی میں  ہم قدم کے ایڈیٹر رہے ہیں۔وہ آجکل سرگودھا یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔حافظ محمد ادریس کا پوتا خزیمہ لاہورعلاقہ نیو سٹی کا ناظم اوران کا بھانجا حافظ ذوالنون لاہور کا ناظم منتخب ہواہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس