Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مولانا جان محمد عباسی (مرحوم)


  1. ایک تاریخ ساز شخصیت

    مولانا جان محمد عباسی یکم جنوری 1925ء کو ضلع لاڑکانہ کے ایک گاؤں بیڑو چانڈیو میں پیدا ہوئے انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں اور پرائمری تعلیم اسکول میں حاصل کی مولانا کے والد مرحوم غلام رسول عباسی وقت کے ایک جید عالم دین، مدرس اور حکیم تھے، مولانا غلام رسول عباسی اپنے بیٹے جان محمد عباسی کو عالم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لئے انہوں نے جان محمد عباسی صاحب کو اپنے ہی گھر میں عربی تعلیم کا آغار کرایا اور مزید تعلیم کے لئے سندھ کے نامور عالم دین مولانا علی محمد کاکیپوٹو جو فاضل دیوبند تھے، کے ہاں بھیجا۔ مولانا غلام رسول عباسی کچھ وقت بیڑو چانڈیو میں مدرس اور حکیم رہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد وہ لاڑکانہ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے محمد پور محلہ میں سکونت اختیار کی انہوں نے اللہ والی مسجد میں درس و تدریس کے کام کو جاری رکھا اور گذر اوقات کے لئے ایک شفا خانہ کھولا جس میں مولانا جان محمد عباسی ان کے ساتھ معاونت کرتے تھے۔

    1940ء سے بھی پہلے لاڑکانہ سیاسی لحاظ سے سندھ کا برق ضلع مانا جاتا تھا۔ مرحوم بیرسٹر جان محمدجونیجو جو خلافت تحریک کے دور میں ھجرت کر کے افغانستان گئے تھے وہ بھی اسی ضلع سے تعلق رکھتے تھے اور لاڑکانہ سے ہی اسی ٹرین کا آغاز ہوا تھا جس میں لوگ ہندوستان سے ھجرت کر کے افغانستان گئے تھے۔ اس وقت سے لاڑکانہ سیاست کا گڑھ مانا جاتا تھا۔ یہاں کئی سیاسی و سماجی تنظیمیں متحرک تھی مسلم لیگ، کانگریس، ھاری تحریک، خاکسار اور کئی سیاسی و سماجی تحریکیں اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لئے تگ و دو کر رہی تھیں، ھاری تحریک کے بانی حیدر بخش جتوئی کا تعلق بھی لاڑکانہ ہی سے تھا۔ وہ بھی لاڑکانہ کو مظبوط قلعہ بنانے کے لئے ورکرز  کی تلاش میں تھے انہوں نے شہر کے دیگر کارکنان کے ساتھ مولانا جان محمد عباسی صاحب مرحوم کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں لیکن چونکہ ھاری تحریک مذھب کی روادار نہ تھی اس لئے مولانا کو متوجہ نہ کر سکے اس زمانے میں محمد ابراھیم قریشی اور عبدالسلام آرائیں صاحب لاڑکانہ میں جماعت اسلامی کا کام کرتے تھے۔ اور انہوں نے مسجد اللہ والی میں مولانا جان محمد عباسی کا درس قرآن سن کر بھانپ لیا تھا کہ یہ شخص جس انداز سے درس دے رہا ہے یہ ہمارے کام کا آدمی ہے لہذا انہوں نے اپنی پوری توجہ مرحوم جان محمد عباسی پر مرکوز رکھی رابطہ قائم کیا، لٹریچر پہنچایا اور مولانا جان محمد بھٹو سے ان کی ملاقات کرائی جس کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوئے اور  اس طرح مولانا جان محمد عباسی کے دل میں جماعت کی دعوت بیٹھ گئی اور انہوں نے اسلام کو روایتی طریقے سے سمجھنے کے بجائے اسلام کو ایک انقلابی تحریک کی حیثیت میں مطالعہ کرنا شروع کیا اور مولانا مودودی کا لٹریچر خصوصاً خطبات، دینیات اور ماھوار ترجمان القرآن کا باقاعدہ مطالعہ کرنے لگے۔ مولانا جان محمد عباسی جیسا کہ عالم دین سیاسی سوج بوجھ رکھنے والے ایک زیرک اور معاملہ فھم انسان تھے انہوں نے تحریکِ پاکستان میں بھی حصہ لیا اور اپنی فکر کو اصولِ پاکستان تک محدود نہیں رکھا بلکہ پاکستان کو اس کے نعرے کی بنیاد پر یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر قائم رکھنے اور چلانے کے عزم کے ساتھ کوششیں کرتے رہے۔ 14 اگست 1947ء بمطابق 27 رمضان المبارک پاکستان تو قائم ہو گیا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد لوگوں کی نقل مکانی، ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام، مھاجرین کی بحالی کا کام اور ملک کی خستہ حالی یہ سب مسائل پاکستان کو ورثے میں ملے تھے۔ ذی شعور انسان  اس منجھدار سے ملک کو نکالنے کے فکر میں تھے اور دوسری طرف جن لوگوں کی قیادت میں ملک بنا تھا وہ اتنے فعال اور معاملہ فھم نہ تھے کہ ملک اور قوم کو ان حالات میں سنبھال سکتے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد ملک میں دستور سازی کے لئے آوازیں بلند ہوئیں مگر حکمران اس کے بھی اھل نہ رہے کہ اسلامی اور جمہوری دستور بنا سکیں۔ بھرحال ملک کی خیرخواہ جماعتیں دستور اور ملک کی خدمت میں رہیں ان میں جماعت اسلامی پیش پیش رہی۔ 1954 ء لاہور میں قادیانی مسئلے کی بنیاد پر مارشلا نافذ ہوا۔ جس میں مولانا مودودی کو پھانسی اور دیگر قائدین اور کارکنوں کو قید و بند کی سزائیں سنائی گئیں۔ مولانا مودودی کی رھائی کے لئے پوری ملک میں تحریک چلی اور مولانا جان محمد عباسی نے اس تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ مولانا مودودی کی پھانسی عمر قید میں تبدیل اور بعد میں معاف کر دی گئی۔ مولانا جان محمد عباسی جماعت اسلامی لاڑکانہ کے رکن بنے،اور اسی اجتماع ارکان میں اس وقت کے امیر شہر محمد ابراھیم  قریشی نے یہ کہتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کیا کہ اب مجھ سے اھل افراد جماعت میں آ چکے ہیں۔ جس کے بعد ارکان نے جناب مولانا جان محمد عباسی صاحب کو لاڑکانہ شہر کا امیر منتخب کیا۔ مولانا عباسی جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ھوں کہ وہ بڑے زیرک، حالات کو گہری نظر سے دیکھنے والے اور بصیرت افروز انسان تھے۔ وہ حالات کو سمجھنے  اور اس کا تجزیہ کرنے میں اپنی مثال آپ تھے۔ مولانا عزم کے پکے، اپنے ارادوں میں مضبوط اور قول و کردار میں سچے تھے، لہٰذا وہ جماعت میں بڑھتے ہی چلے گئے۔لاڑکانہ ضلع کے امیر بنے، پھر خیر پور ڈویژن کے امیر بنے اور اس کے بعد صوبہ سندھ کے پہلے امیر بنے، اس سے پہلے مولانا عباسی، مرکزی شوریٰ کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے اور مرکزی شورائوں میں ملکی حالات کا تجزیہ پیش کرنے میں مولانا درک رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میاں طفیل محمد کے زمانے میں مولانا عباسی جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر نامزد ہوئے اور ساتھ ساتھ سیاسی، مالی اور دیگر کئی کمیٹیوں کے عرصہ دراز تک چیئرمیں بھی رہے۔

    مولانا عباسی اپنے ہی شہر لاڑکانہ میں B.D کے دور میں اپنے حلقے سے دو مرتبہ چیئرمین منتخب ہوئے یہاں سے مولانا عباسی نے سیاسی زندگی کا ایسا آغاز کیا اور ایسے نقش قدم چھوڑے کہ لوگ بعد میں کئی سالوں تک  یاد کرتے رہے عباسی صاحب کے سیاسی کریکٹر کو دیکھ کر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی رشک آیا کہ ایسا بے لوث خدمتگار اور سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا کارکن میرے ساتھ ہو مگر عباسی صاحب کی دینداری اور تقویٰ اس معاملے میں بھٹو کے آڑے آئی اور وہ عباسی صاحب کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ مولانا عباسی 1963 میں ایوب کے دور میں مولانا مودودی کے ساتھ جیل گئے 9 مہینے 10 دن تک جیل میں رہے اور بعد  میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق دوسرے تحریکی ساتھیوں کے ساتھ رہا ہوئے۔ رہائی کے بعد ایک مرتبہ مولانا جان محمد بھٹو لاڑکانہ آئے اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاڑکانہ والو اب تمیں باہر سے لیڈر شپ لانے کی ضرورت نہیں پڑی گی جماعت نے  آپ کو اپنے ہی شہر سے ایک بے باک اور بہادر لیڈر مہیا کیا ہے اور وہ ہے مولانا جان محمد عباسی۔ مولانا بھٹو کے یہ الفاظ اس وقت تو کارکنوں کی سمجھ میں نہ آئی لیکن جب 1970ء اور 1977ء کے انتخابات ہوئے تو معلوم ہوا کہ واقعی مولانا جان محمد بھٹو 9 مہینے 10 دن عباسی صاحب کی رفاقت میں رہنے کے بعد جو مولانا بھٹو نے مولانا عباسی صاحب کے لئے جن خیالات کا اظہار کیا تھا وہ حقیقت تھے۔ مولانا جان محمد عباسی کو جماعت اسلامی نے 1970ء کے انتخابات میں قومی اسیمبلی کی سیٹ پر نامزد کیا بھٹو کا طوفان تھا لوگ بات سننے کے لئے تیار نہ تھے لیکن یہ مولانا عباسی کا ہی خاصہ تھا کہ لوگو ں کو اسلام کی بات سمجھاتے اور جھوٹے نعروں کی قلعی کھولتے، بہرحال نتائج جو آنے تھے وہ آ گئے اس حلقے سے ممتاز بھٹوکامیاب قرار دیے گئے لیکن جو بات جماعت اسلامی لوگوں کو سمجھا رہی تھی وہی صحیح نکلی مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن کامیاب  اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی نتیجہ یہ نکلا کہ ملک دو لخت ہو گیا مشرقی پاکستان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہم سے الگ ہو گیا اور مغربی پاکستان ہندستان کی زد میں تھا۔ پوری ملک میں مایوسی چھائی ہوئی تھی لوگ بد ظن تھے کہ ملک کو کون چلائے یحییٰ کا مارشلا تھا۔ جو بس ایک جنگل کا قانون سمجھا جاتا تھا جب بھٹو آئے تو ملک میں 1962ء کا دستور بھی معطل تھا یہ دنیا میں پہلی مثال قائم ہوئی کہ پاکستان میں ایک سویلین مارشلا ایڈمنسٹریٹر بنا۔ پوری جماعت اسلامی اپنے کارکنوں اور عوام کو دستور سازی کی طرف متوجہ کر رہی تھی کہ ملک اور قوم مارشل لا سے نکل آئے پونے چار سال ایوب کی مارشل لا اور دو سال سے یحییٰ کی مارشلا اور پھر سولین چیف مارشل لا ایڈمینسٹریٹر بھی ایک بہت بڑا سانحہ تھا جس سے نکلنا بہت مشکل نظر آ رہا تھا جب دستور سازی کی بات ہوئی اور اسمبلی کے اندر جماعت کے کارکنوں نے اور باہر پوری جماعت نے دستور کے سلسلے میں زور لگایا کہ یہ دستور قرادادِ مقاصد کی بنیاد پر اسلامی ہونا چاہیے۔ بھٹو کے پانچ سالہ پارٹی آمریت کا دور تھا جس میں کسی کی نہیں سنی جاتی تھی لیکن مولانا جان محمد عباسی اپنی بات حکمت سے کہتے رہے اور قوم اور ملک کی اسی انداز میں تربیت بھی کرتے رہے یہاں تک  کہ بھٹو کے خلاف P.N.A بنااورپوری اپوزیشن متحد ہو گئی 1977ء کے انتخابات میں بھٹو نے ریکارڈ دھاندلی کی۔ مولانا جان محمد عباسی کو بدنام زمانہ ایس پی محمد پنجل اور ڈی سی خالد کھرل کے ذریعے سے عباسی صاحب  کو اپنی ہی بیٹھک سے اغوا کروایا گیا اور چار دن تک بمعہ 14 کارکنان کو تحصیل ڈوکری کے ایک ڈاک بنگلے جو دریا کہ حدود میں تھا میں حبس بے جا میں رکھا گیا ذہنی ٹارچر دیا گیا ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں کی گئیں لیکن عباسی صاحب پہاڑ کی طرح اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ جب فارم پُر کرنے کے اوقات گذر گئے تو سب کو رہا کیا گیا اور پھر بھٹو نے نیا چکر چلانے کے لئے افھام و تفھیم کا نیا انداز اختیار کیا P.N.A کو باتوں میں مصروف رکھنے کے لئے انہوں نے کئی چالیں چلیں  مگر کامیاب نہ ہو سکا بالاخر  05 جولائی 1977ء کو ضیاء الحق کا مارشل لاء نافذ ہو گیا اور ذوالفقار بھٹو پیپلز پارٹی کی صف اول کی قیادت سمیت اور P.N.A کی صف اول کی قیادت 15 دن کے لئے سھالہ ریسٹ ہاوس میں نظر بند کی گئی۔ P.N.A کی تحریک کے زمانے میں بھی مولانا جان محمد عباسی لاہور میں گرفتار ہوئے اور بعد میں رہا کر دیے گئے۔

    مولانا جان محمد عباسی اپنی جان میں انجمن تھے بلکہ ہر محاظ پر اسلام کی بالا دستی کے لئے کام کرنے کو اپنا فرض سمجھتے تھے انہوں نے کئی سماجی اور ادبی تنظیمیں بنوائیں جیساکہ اپر سندھ میں محمد بن قاسم ادبی سوسائٹی اور لوئر سندھ میں ادبی مجلس بنوائی جس کے ذریعے سے وقت کے غلط رجحانات الحاد اور لادینیت کے خلاف بہترین لٹریچر تیار کروایا۔ کئی کتابوں  کے ترجمے کروائے، کتابیں لکھوائیں جماعت اسلامی کے چیدہ چیدہ کتابوں کو سندھی زبان میں ترجمہ کروایا جیسا کہ تفھیم القرآن، پردہ، اسلامی نظام زندگی، خلافت ملوکیت وغیرہ وغیرہ۔ اصلاحی تنظیموں میں مولانا عباسی سے غریب آبادگار اور ھاریوں کی مدد کے سلسلے میں آبادگار بورڈ اور  انجمن اصلاح عام بنوائی۔ اسلامی جمعیت طلبہ اورجمعیت طلبہ عربیہ جیسی طلبہ تنظیموں کی سرپرستی کی اور مستحق طلبہ کی امداد کی اور ذھین طلبہ کی آگے بڑھنے اور منزل تک پہنچنے کی ترغیب دلائی۔  انہی کی ذاتی توجہ سے سندھ اور بلوچستان میں ایک درجن سے زائد مدارس قائم ہوئے جو مستونگ، خضدار، لسبیلا اور مکران کے علاقوں میں آج بھی قائم ہیں۔

    جماعت اسلامی خدمتِ انسانی کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہی۔ سیلاب ہو یا زلزلہ جنگ ہو یا نادار لوگوں کی امداد کا مسئلہ جماعت اسلامی اپنے کارکنوں کے ذریعے سے متاثرہ اور مستحق لوگوں کی امداد میں ہمیشہ سب سے آگے رہی۔ خصوصاً سندھ میں جہاں کہیں بھی کوئی سیلاب آتا تو مولانا جان محمد عباسی مرحوم متاثریں کی امداد کے لئے ہر قسم کا تعاون اور معاونت کرتے۔ ضروریات زندگی کی چیزیں بھی کئی میلوں تک پانی کی کشتیوں کے ذریعے سے متاثرین تک پہنچائی جاتیں۔ جماعت اسلامی کے کارکن اپنے گھر بار کو چھوڑ کر متاثرین تک امداد پہنچانے میں مصروف رہتے۔ اور اس کام کی نگرانی مولانا جان محمد عباسی خود کرتے۔

    صحافتی میدان میں جماعت کے سیل کو کمزور پا کر مولانا جان محمد عباسی آگے بڑھے کچھ با اعتماد لوگوں جمع کیا اور سب سے پہلے روزنامہ ”الوحید کا اجراء کیا یہ وہ نام ہے جس نے سندھ کے اندر پاکستان بنانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا اور مولانا خیر محمد نظامانی الوحید کے پہلے ایڈیٹر بنے اور بعد میں کریم بخش نظامانی نے یہ ذمہ داری سنبھالی۔ حیدرآباد سے ماھوار آئینو“ کا سلسلہ شروع کروایا جو 3 سال تک جاری رکھنے کے بعد گورنمینٹ کی زد میں آگیا اس کی جگہ ماھوار وینجھار اور ماھوار سندھی ڈائجسٹ کو جاری کروایا۔ سندھی ڈائجسٹ چار سال تک چلتا رہا اور وینچھار الحمد اللہ آج چوبیس سال گذرنے تک سرگرم عمل ہے۔ اس طرح بہت سارے نوجوان ادیب پیدا کئے جن کو مختلف اخبارات اور رسائل میں بھیجا تاکہ صحافتی زندگی کا کچھ تجربہ حاصل کر کے تحریک کو فائدہ مل سکے۔ کراچی سے جسارت کا اجراء کروایا اس کی مینیجمنٹ پر خود نظر رکھتے اور جسارت کی مالی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔

    مولانا جان محمد عباسی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کے لخت جگر نجم الدین عباسی نے سابق سویت یونین کے خلاف جہاد کرتے ہوئے خوست کے محاذ پرجام شہادت نوش کیا۔بیٹے کی شہادت پر مولانا جان محمد عباسی کے جو تاثرات تھے اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ تحریک کے ساتھ وابستہ لوگ قول کےسچے ،عمل کے پکے، اورراہ حق میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی قربانی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔

    مولانا جان محمد عباسی صاحب نصف عمر کے بعد شوگر اور بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہوئے اس حال میں بھی کسی کو محسوس نہیں ہونے دیتے تھے بلکہ اپنے مقصد کے حصول میں مصروف رہتے تھے۔ علاج کے باوجود بھی یہ مرض اپنی انتہا کو پہنچا مولانا جان محمد عباسی ڈائلاسز تک کرواتے رہے مگر یہ مرض ہی کچھ ایسا ہے کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اور اس سے مولانا کو فالج کی تکلیف بھی ہوگئی مگر اس کے باوجود بھی جماعت اسلامی کے کام میں مصروف رہتے اور زندگی کے آخری دن تک اور جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر اور کئی کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہے۔ بالآخر 28 اپریل 2003ء کو 78 سال کی عمر میں انہوں نے اپنی جان، جانِ آفرین کے حوالے کی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس