Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پروفیسرخورشیداحمد نائب امیر

  1. پروفیسرخورشیداحمد عالمی شہرت کے ماہر تعلیم، ماہر اقتصادیات ، ہمہ گیر مصنف اور ایک مبلغ اسلام ہیں۔ آپ 23مارچ 1932 ءکودہلی میں پیدا ہوئے۔آپ نے قانون اور اس کے مبادیات میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اکنامکس اور اسلامیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی، جبکہ کراچی میں یونیورسٹی کی طرف سے انہیں ایجوکیشن میں ڈاکٹریٹ(P.H.D)کی اعزازی ڈگری عطا کی گئی۔
    پروفیسرصاحب کی اسلام ، تعلیم،عالمی اقتصادیات اور مجموعی اسلامی معاشرے کے لیے سرانجام دی جانے والی خدمات کا احاطہ بہت مشکل ہے۔ جس امتیازی وصف نے پروفیسر صاحب کو قومی وبین الاقوامی سطح پر ممتاز مقام عطا کیا ہے وہ ان کا مشرقی ومغربی فلسفوں کا گہراتقابلی مطالعہ ، اسلام سے ان کی کامل وابستگی نیز تعلیم وتدریس، اقتصادیات اورآئینی معاملات میں ان کا تحقیقی کام ہے۔
    پروفیسر خورشید احمد صاحب کی چیدہ چیدہ علمی خدمات کا اجمالی خاکہ اس طرح ہے۔
    ٭ ایک ماہر تعلیم کی حیثیت سے انہوں نے 1955 ء سے لے کر 1968 ء تک کراچی یونیورسٹی میں پڑھایا۔
    ٭ آپ یونیورسٹی آف لیسٹر میں ریسرچ سکالر بھی رہے ہیں۔

    ٭ 1974 ءسے 1978 ءتک اسٹینڈنگ کانفرنس آن جیوز، کرسچن، اینڈ مسلمزاِن یورپ برلن اینڈ لنڈن کے وائس پریذیڈنٹ رہے۔
    ٭ پروفیسر صاحب 1976سے1978تک سنٹرفاردی سٹڈی آف اسلام اینڈ کرسچن، مسلم ریلیشنز سیلی اوک کالجز برمنگھم۔ یوکے کی ایڈوائزری کونسل کے ممبربھی رہےہیں۔

    ٭ پروفیسر صاحب-79 1978 ء میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی رہے ہیں. وہ حکومت پاکستان کے پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین بھی رہےہیں۔
    ٭ 1978 ءسے لے کر 1983 ءتک قومی ہجرہ کمیٹی کے رکن رہے۔
    ٭ 1979 ءسے 1983 ءتک شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی جدہ کے بین الاقوامی سنٹرفار ریسرچ اینڈ اسلامک اکنامکس کی سپریم ایڈوائزری کونسل کے ممبر رہے۔

    ٭ 1983 ءسے 1987 ءتک آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے بین الاقوامی انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس کے چیئرمین رہے۔
    ٭ 1984 ءسے 1992 ءتک آپ انٹرنیشنل سنٹر فارریسرچ اِن اسلامک اکنامکس لیسٹر کے ایڈوائزری بورڈ کے ممبر رہے ہیں
    ٭ 1986 ءاور 1987 ءمیں سوڈان کے اسلامی قوانین کا جائزہ لینے والی قانون دانوں کی کمیٹی کے رکن رہے۔
    ٭ 1988 ءاور 1989 ءمیں اسلامی ترقیاتی بینک جدہ کے ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کی جائزہ کمیٹی کے ممبر رہے۔
    ٭ آپ 1985 ،1997، 2002 ء اور2008ءمیں سینٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اورسینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور اقتصادی و منصوبہ بندی کے چیئرمین کے طور پر بھی کام کیا۔
    ٭ پروفیسرخورشیدصاحب دو اداروں کے بانی چیئرمین ہیں۔ایک انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد اوردوسرااسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر(یوکے)۔

    ٭ آپ اسلامک سنٹر زاریا (نائجیریا) ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، فاو ¿نڈیشن کونسل، رائل اکیڈمی فار اسلامک سولائزیشن عمان(اردن)کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن جبکہ اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی اور لاہور کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔

    پروفیسر صاحب متعدد نظریاتی موضوعات پر مبنی رسائل وجرائد کی ادارت کرچکے ہیں۔ آپ نے اردو اور انگریزی میں سترسے زائدکتابیں تصنیف کی ہیں۔ کئی رسائل میں اپنی نگارشات عطا کر چکے ہیں۔ آپ سوسے زائد بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں ذاتی حیثیت سے یا نمائندہ کی حیثیت سے شریک ہوچکے ہیں۔آپ نے پہلی مرتبہ اسلامی معاشیات کو بطورعلمی شعبہ کے ترقی دی۔ آپ کے اس کارنامے کے پیش نظر 1988 ءمیں پہلا اسلامی ترقیاتی بینک ایوارڈآپ کو عطاکیا گیا۔ آپ کے کارناموں کے اعتراف میں 1990 ءمیں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ عطاکیا گیا۔اسلامی اقتصادیات ومالیات کے شعبے میں خدمات کے اعتراف میں آپ کو جولائی 1998 ءمیں پانچواں سالانہ امریکن فنانس ہاؤس ایوارڈ دیاگیا۔ پروفیسر خورشید احمد 1949 ءمیں اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن بنے۔ 1953 ءمیں آپ کو ناظم اعلٰی منتخب کیاگیا۔ 1956 ءمیں آپ جماعت اسلامی میں باضابطہ طور پر شامل ہوگئے۔ دوسری بہت سی مصروفیات کے علاوہ فی الوقت آپ جماعت اسلامی کے ترجمان ماہنامہ ترجمان القرآن کے مدیر ہیں

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس