Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

مالی دہشت گردوں کے خلاف بھی قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف عدالتیں کر سکتی ہیں۔سینیٹر سراج الحق


 لاہور 16فروری 2017ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مسلح دہشت گرد پہاڑوں پر اور مالی دہشت گرد ایوانوں میں ہوتے ہیں، مالی دہشت گردوں کے خلاف بھی قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف عدالتیں کر سکتی ہیں،قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ، قوم واضح فیصلہ چاہتی ہے تاکہ ملک میں کرپشن کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں، سرکاری وکیل صرف واقعات کا سہارا لے رہے ہیں،جھوٹ کے پا ¶ں نہیں ہوتے تو وہ پا ¶ں کہاں سے لائیں؟ حق اور باطل سامنے آ چکا ہے،پانامہ سکینڈل میں جن کی دولت سامنے آ چکی ہے ان سب کا احتساب چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دہشت گردی اور کرپشن دونوں اہم قومی ایشو ہیں۔ مسلح دہشت گردی کی طرح مالی دہشت گردی بھی قوم کے لئے خطرناک ہے۔ مسلح دہشت گرد پہاڑوں پر اور مالی دہشت گرد ایوانوں میں ہوتے ہیں۔ مالی دہشت گردوں کے خلاف بھی قومی ایکشن پلان کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف عدالتیں کر سکتی ہیں۔ ہم نے کرپشن کے خلاف اسمبلی میں قرارداد لانے کی کوشش کی مگر حکومت نے ہمارے ٹی او آرز قبول نہیں کئے۔ اگر ملک سے کرپشن ختم ہو جائے تو غریب کو مفت علاج اور تعلیم میسر ہو سکتی ہے۔ بے گھروں کو گھر مل سکتا ہے، آج اور کل کے حکمران کرپشن روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور کرپشن کرنے کے لئے نئے نئے طریقے ایجاد کرلیے گئے ہیں۔ حکمران دولت تو جمع کر لیتے ہیں مگر ان کے ذرائع بتانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ جج ان سے بار بار ثبوت مانگ رہے ہیں مگر یہ جلیبی کی طرح بات گھما دیتے ہیں۔ کراچی کی سٹیل مل خسارے میں جا رہی ہے اور ان کی سٹیل مل اتنے بچے دے رہی ہے کہ پانامہ میں بھی ان کا نام آ گیا ہے۔ سرکاری وکیل چاہتے ہیں کہ جج پانامہ کیس میں فیصلہ نہ کریں بلکہ نصیحت کریں، قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں اور وہ پانامہ کیس میںفیصلہ چاہتی ہے۔ سراج الحق نے کہاکہ قوم واضح فیصلہ چاہتی ہے تاکہ ملک میں کرپشن کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ نطام کی وجہ سے ہمارے ہاتھوں میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں ہیں۔ ہمارے کروڑوں نوجوان بے روزگار پھر رہے ہیں۔ اس کرپٹ نظام اور کرپٹ مافیا کی وجہ سے پاکستان کا غریب آدمی باہر مزدوری کر کے یہاں بھیج رہا ہے اور خود وزیر خزانہ بتاتے ہیں کہ 18 بلین ڈالرز سے زیادہ مزدور بھیجتا ہے لیکن یہی کرپٹ اشرافیہ یہاں لوٹ کر باہر بھیجتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پانامہ سکینڈل کے اس کیس اور عدالتی فیصلہ کے نتیجے میں نہ صرف کرپٹ مافیا کا احتساب ہو گا بلکہ کرپشن کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے۔ آج بھی سرکاری وکیل لاجواب تھا۔ انہوں نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا وہ صرف واقعات اورالفاظ کا سہارا لے رہے ہیں لیکن حق اور باطل سامنے آ چکا ہے۔ میں انصاف کی بات کرتا ہوں، سیاسی تعصب کی بات نہیں کرتا۔ سب کا احتساب ہو، آج کا چور ہو یا کل کا چور ہو، سب کا احتساب چاہتے ہیں۔ ہماری دو درخواستیں ہیں۔ ایک یہ کہ نوازشریف نے بحیثیت وزیراعظم اپنی سرکاری حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے اور دوسری درخواست پانامہ سکینڈل میں 600 سے زائد آنے والے ناموں کے حوالے سے ہے۔ پانامہ سکینڈل میں جن کی دولت سامنے آ چکی ہے ان سب کا احتساب چاہتے ہیں اور جب ان دونوں کے بارے میں فیصلہ ہو گا تو کرپشن فری پاکستان ہماری قوم کو ملے گا۔ سراج الحق نے کہا کہ حسین اور حسن نواز کے وکیل خود بھی کنفیوژکرنے کی کوشش کرتے ہیں اور عدالت کے کسی سوال کا جواب انہوں نے نہیں دیا اور ان کا وکیل طوطے کی طرح تقریر تو کرتا ہے لیکن کسی سوال کا جواب ان کے پاس نہیں اس لئے کہ جھوٹ کے پا ¶ں نہیں ہوتے تو وہ پا ¶ں کہاں سے لائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس