Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

بم دھماکوں نے ثابت کردیاکہ سکیورٹی انتظامات میں بڑی دراڑیں موجود ہیں۔ سراج الحق


 لاہور 14فروری2017ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کہا ہے کہ حکومت کی ذمہ داری امن و امان کا قیام ہے اور اسے عوام کو جان ومال کا تحفظ دینے کو ترجیح دینی چاہئے مگر کوئٹہ ،کراچی ،مردان اور لاہور کے دھماکوں نے ثابت کردیا ہے کہ حکومت اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے ۔سیکیورٹی انتظامات میں بڑی بڑی دراڑیں موجود ہیں جنہیں بند کرنے کی ضرورت ہے ،لیکن حکومت مسلسل غفلت برت رہی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر عوام کے تحفظ کیلئے ایک واضح پالیسی بنا نا ہوگی ۔حکومت نے فاٹا میں ایک کروڑ پاکستانیوں کو قید کررکھا ہے اور سوسال پرانا ایف سی آر کا قانون تبدیل کرنے اور انہیں سیاسی حقوق دینے کو تیار نہیں ۔حکومت کے پاس قبائلی علاقوں کے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔ قبائلی علاقوں کوفوری طور پر خیبر پختو نخواہ میں ضم کیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ لا ہور کا واقعہ انتہائی اندوہناک اور قابل مذمت ہے جس نے دہشت گردی کو کچل دینے کے تمام حکومتی دعوﺅں کا پول کھول دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں ۔ا  علاقوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ تمام قبائل کا اتفاق ہے کہ انہیں خیبر پختونخواہ میں ضم کردیا جائے اور ایف سی آر کا قانون ختم کرکے انہیں ملکی آئین میں موجود عام پاکستانیوں کے جو حقوق ہیںوہی حقوق انہیں دے دیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو قبائل کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا یہ سنہری موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے اور فوری طور پر قبائلی علاقوں کے عوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ فاٹااور خیبر پختونخواہ میں الگ الگ قوانین رائج ہیں ،انہوں نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصی موقع دیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے ایک کروڑ عوام کی مرضی کے مطابق فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا اعلان کریں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس