Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دادبرائے اُمورکشمیر


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے سفاکانہ ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ تحریکِ آزادی کی لہر کو کچلنے کے لیے مسلسل کرفیو، کریک ڈاونزاور پیلٹ گن جیسے ممنوعہ ہتھیار کا بڑے پیمانے پر استعمال کیاجارہاہے، جس کے نتیجے میں دو سو کے قریب افراد شہید اور پندرہ ہزار سے زائد شدید زخمی جن میں سے ایک ہزار سے زائد بینائی سے مکمل طور پر محروم کر دئیے گئے ہیں ۔
اجلاس قائدحریت سید علی گیلانی سمیت دیگر قائدین کی مسلسل گرفتاریوں اور حراست میں رکھے جانے پر بھی تشویش کااظہار کرتا ہے۔ اجلاس اس امر پرتشویش کااظہار کرتاہے کہ مسلسل کرفیو کی وجہ سے کاروبار اور فصلیں تباہ ہو چکی ہیں بالخصوص فروٹ کی صنعت جو کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ،کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔بھارت کے ان سنگین مظالم کا ہدف یہ رہا ہے کہ کشمیری حالات سے مجبور ہو کر جدوجہد آزادی سے دستبردارہوجائیں اور بھارت کے ناجائزتسلط کے سامنے سرنڈر کرد یں لیکن بھارتی توقعات کے بالکل برعکس کشمیری عوام نے نہایت صبر و استقامت سے تحریک آزادی کے ساتھ اپنی لازوال وابستگی کا مظاہرہ کیا اور بھارت اور عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ حق خود ارادیت سے کم کسی حل کو قبول نہ کریں گے ۔یہ اجلاس قائدین حریت مجاہدین کشمیر اور کشمیری عوام کو ان کی اس استقامت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے ۔
اجلاس یہ سمجھتا ہے کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ ریاست میں اٹھنے والی لہر نے ساری دنیا پر واضح کیا کہ کشمیریوں کی تحریک ایک خالص مقامی حیثیت کی حامل تحریک ہے ،جسے وہ آزادی کے حصول تک جاری رکھیں گے ۔کشمیریوں کی اس استقامت کی وجہ سے عالمی برادری بھی متوجہ ہوئی اور بھارت پر سفارتی دباؤ بھی میں اضافہ ہوا ہے ۔اسے تحلیل کرنے کے لئے بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور سیز فائر لائن سے متصل سول آبادی پر بلا اشتعال شیلنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں درجنوں سولین اور فوجی شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ۔نیز بڑے پیمانے پر سول آبادی بھی متاثر ہوئی ۔ بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کے اشتعال انگیز بیانات ،صورت حال کو مسلسل جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یہ اجلاس اس پر بھی تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ بھارت انتہاپسندہندوؤں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کرتے ہوئے جموں ریجن میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کا قتل عام کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان بڑی تعداد میں ہجرت پر مجبور ہوں ۔بھارت کی پالیسی ہے کہ غیر ریاستی ہندوؤں کی آبادکاری کے ذریعہ ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کیاجائے ۔
اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے نمائندہ ادارے برصغیر کو تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے نریندر مودی کی مسلم کش پالیسی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر سفارتی اور تجارتی دباؤبڑھایا جائے تاکہ ریاستی دہشت گردی کا عمل رک سکے ۔ہزاروں بے گناہ قیدی رہا ہو سکیں ۔کالے قوانین ختم ہوں ،فوجی انخلاء کے بعد ریفرنڈم کے ذریعہ حق خود ارادیت کا حصول یقینی بنایا جائے ۔
اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ے کہ بھارتی مظالم اجاگر کرنے اور نریندر مودی کے جارحانہ عزائم بے نقاب کرنے کے لئے فی الفور OICکا سربراہی اجلاس منعقدکیاجائے نیز یہ مسئلہ پھر ایک مرتبہ پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں اٹھائے اور عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے وزیر اعظم پاکستان خود ایک قومی وفد کے ہمراہ دنیا کے اہم ممالک کا دورہ کریں ۔نیز بھارت کے جنگی جنون کے تدارک کے لئے قوم کو نظریاتی لحاظ سے تیار کیاجائے ۔بڑے پیمانے پر شہری دفاع کے پلیٹ فارم سے نوجوانوں کو منظم کیاجائے اور بھارت سے مذاکرات یا دوطرفہ تعلقات کو کشمیر میں پیش رفت سے مشروط کیاجائے ۔اجلاس یہ واضح کرتاہے کہ جب تک بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کی رٹ ترک نہ کرے کوئی مذاکرات نہ کئے جائیں ۔
مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اہل کشمیر کو مکمل یکجہتی کا یقین دلاتا ہے او ردعا گو ہے کہ اہل کشمیر جلد آزادی کی منزل سے ہمکنار ہوں ۔
٭…٭…٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس