Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار داد برائے برمی مسلمان


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس میانمار برما کے صوبے راکائن میں موجود روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف جاری تشدد اور قتل و غارت گری کی مہم کی شدید مذمت کرتا ہے۔ برما کی فوجی حکومت ایک طویل عرصے سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے جس کی وجہ سے 3 لاکھ سے زائد مسلمان بنگلہ دیش جانے پر مجبور کردیے گئے جو وہاں مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ 1 لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان سمندری راستوں سے قریبی ممالک تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ میں جانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد سمندری طوفانوں کی نذر ہوچکی ہے۔ بقیہ تقریباً 1 ملین مسلمان مسلسل تعذیب اور تشدد کا شکار ہیں۔انتہا پسند بدھ مت تنظیم ’’969‘‘ اور برمی فوج نے ان کا عرصہء حیات تنگ کر رکھا ہے۔ ان کے گھروں اور کھلیانوں کو نذر آتش کیا جارہا ہے، نوجوانوں، بچوں اور عورتوں کو قتل اور بے آبرو کیا جارہا ہے اور ہر طریقے سے ان کے خلاف نسل کشی کی جارہی ہے۔ 1982 میں برمی حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کے ذریعے سرکاری طور پر انہیں برمی شہریت سے محروم کردیا تھا۔ 2014 میں انہیں روہنگیا کی بجائے بنگالی کے خانے میں رجسٹرڈ کیا گیا اور پھر 2015 میں اس کو بھی منسوخ کردیا گیا۔
جماعت اسلامی کی مرکزی شوریٰ، اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر برما کی صدر نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی کی قیادت میں نئی جمہوری حکومت پر دباؤ ڈالے کہ روہنگیا مسلمانوں کی شہریت بحال کی جائے، ان کو ووٹ کا حق دیا جائے اور حالات معلوم کرنے کے لیے اعلان کردہ facts finding مشن فوری طور پر میانمار روانہ کیا جائے نیز راکائن صوبے میں امدادی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس