Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار دار برائے امور نوجوانان


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی شوریٰ کا یہ اجلاس پاکستان کے مستقبل اور ترقی و خوشحالی کے ضامن ،نوجوانان ملت کے مسائل اور مشکلات پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔پاکستان کی نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ہر میدان میں نوجوان انتہائی مشکلات کے باوجود اپنا بھر پور کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اصل صورتحال یہ ہے کہ سرکار ی ملازمتیں اقرباء پروری ،سفارش اور رشوت کی بنیاد پر میرٹ کے خلاف تقسیم کر دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے ۔دوسری طرف کرپشن اور حکومت کی نااہلی کی وجہ سے مہنگائی اور بیروزگاری میں آئے دن آضافہ نئی نسل کو بہت متاثر کر ر ہا ہے ۔ارباب اقتدار کے غلط فیصلوں اور ریاستی اداروں کی عدم توجہی کی وجہ سے پاکستان کا یہ اثاثہ مسلسل ضیاع کا شکار ہو رہا ہے ۔ اس کے باجود حکومت کی کوئی منصفانہ حکمت عملی اور منصوبہ بندی کہیں نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں نوجوانوں کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔
یہ امر بھی افسوس ناک کہ حکومتی سرپرستی میں میڈیا اور NGO,Sکے ذریعے نوجوانوں کو ترقی اور آزادی کے نام پر سیکولر بنانے کی مہم بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔جس کے گہرے اثرات نوجوانوں کے نظریات اور اخلاق پر مرتب ہو رہے ہیں جو نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔جو آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کی بجائے مفاد پرست کلچر سکھایا جا رہا ہے ۔جس کی وجہ سے بے راہ روی بڑھ رہی ہے اور معاشرتی جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
دوسری طرف تعلیم ،صحت روزگار رہائش کی سہولتیں بہت مہنگی ہوئی جا رہی ہیں جس کے سب سے زیادہ اثرات نوجوانوں پر ہی مرتب ہو رہے ہیں ۔اسی طرح کے ان گنت مسائل ہیں جن کا شکار اس وقت پاکستانی نوجوان ہے ۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ !
٭ ترجیحی بنیادوں پر نوجوانوں کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی اور منصفانہ حکمت عملی کا اعلان کریں ۔تعلیم ،صحت،کھیل ،ملازمت ،روزگار اور نظریاتی تحفظ کے لئے فی الفور انقلابی اقدامات کئے جائیں،کرپشن ،میرٹ کے قتل عام ،فحاشی و عریانی کے خلاف مؤثر تدبیر اختیار کی جائے تاکہ پاکستان کی آئندہ نسل مایوسی سے نکل کر امید کی کرن بن سکے ۔
٭ نوجوان ڈگری ہولڈرز کی ایک کثیر تعداد بے روزگار ہے اور اس میں روز افزوں اضافہ ہو رہاہے ۔ بد قسمتی سے حکومتی بے حسی اور کرپٹ نظام ان قیمتی نوجوانوں کو جرائم پر مجبور کردیتاہے۔ ان ڈگری ہولڈر بے روز گار نوجوانوں کو فوری طورپر بلا سود قرضے دیے جائیں تاکہ اپنے لئے باعزت روزگار کا آغاز کر سکیں ۔
٭۔ تمام بی اے ، بی ایس سی ، ڈگری ہولڈرز کو فوری طور پرروزگار یا ملازمت ملنے تک ’’بے روزگاری ‘‘ سپورٹ فنڈ کم ازکم 6ہزار روپے ماہانہ دیا جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس