Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد سیاسی صورت حال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک کی قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز ،پانامہ لیکس وکرپشن کے حوالہ سے حکومتی بدنیتی و ہٹ دھرمی نیز بھارت کے جارحانہ عزائم کے مقابلہ میں بزدلانہ طرز عمل پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں مکمل ناکام ہے اور اس کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کسان بدحال ، مزدوراور ماہی گیر پریشان اور غریب وتنخواہ دار طبقہ زندہ درگور ہوچکاہے۔ حکمرانوں کے اپنے جائز و ناجائزکاروبار عروج پر ہیں ۔ ان کے اثاثے مسلسل بڑھ رہے ہیں جبکہ عوام پینے کے صاف پانی اور دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو رہے ہیں ۔ عوام کی اس انتہائی ابتر صورت حال کی اصل وجہ حکمرانوں کی وہ بدترین کرپشن ہے جسے وہ چھوڑنے اور لوٹی ہوئی دولت کاایک ڈالر بھی قوم کو واپس کرنے کے لیے تیار نہیں ۔پورے ملک میں امن عامہ کی صورت حال ابتر ہے۔ دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بدترین سٹریٹ کرائمز او ر چوری ،ڈاکہ ، رہزنی کی وارداتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ حکومتیں جرائم پر قابو پانے کی بجائے مجرموں کی سیاسی سرپرستی کررہی ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے دبائو پر آئی جی سندھ کو جبری رخصت پر بھیجا گیاہے۔
جماعت اسلامی پاکستان نے کرپشن فری پاکستان تحریک کے دوران جہاں ریلیوں ، مظاہروں ،ٹرین مارچ ، سیمینارز اور ماہرین قانون و معیشت کے اجلاسوں کا اہتمام کیا۔ وہیں پارلیمنٹ میں متبادل قانون سازی اور سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن کا راستہ بھی اختیار کیا۔ لیکن حکمران طبقہ کرپشن کو ہر قیمت پر تحفظ دینے کے لیے پارلیمنٹ کے بعد عدلیہ کو بھی ناکام بنانے پر تلا ہواہے۔ جب کہ کرپشن کی وجہ سے ملک قرضوں اور عوام ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ہمارے تمام مسائل مثلاً دہشت گردی، بدامنی ، بے روز گاری ،مہنگائی ، ملاوٹ ، منشیات، دھوکہ بازی وغیرہ کا بڑاسبب بھی اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلا ہوا کرپشن کا زہر ہے۔ بلوچستان کے میگاکرپشن کیس میں 40ارب روپے کی بدعنوانی کا جرم صرف2ارب روپے کی مک مکا کے ذریعے ختم کرنے کاعمل کرپشن کی حوصلہ افزائی اور احتسابی گرفت سے بچ نکلنے کے قانونی چور دروازے کی عملاً نشان دہی کے مترادف ہے۔ اسی طرح سابق صدر اور گزشتہ حکومت کے معروف میگاکرپشن کیسز بھی سیاسی مفاہمت کی بھینٹ چڑھائے جارہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پانامہ لیکس کے سلسلہ میں غیر جانبدار جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔اور وزیراعظم اور ان کے خاندان سے آغاز کرکے تمام کرپٹ افراد کا محاسبہ کیاجائے اور سزا بھی دی جائے ۔قوم کاپارلیمنٹ کے بعد عدلیہ اور اداروں سے بھی مایوس ہونا ایک بڑے قومی المیہ سے کم نہ ہوگا۔ حویلیاں طیارہ حادثہ میں معروف نعت خواں جنید جمشید سمیت 47قیمتی جانوں کے ضیاع کے المناک وکرب ناک سانحہ نے بھی واضح کردیا ہے کہ پی آئی اے سمیت اکثر قومی ادارے بدترین کرپشن کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر ہیں۔ یہ اجلاس حویلیاں طیارہ حادثہ کے شہداء کے لیے دعائے مغفرت،لواحقین سے اظہار تعزیت کے ساتھ ساتھ مطالبہ کرتا ہے کہ مکمل غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ماہرین پر مشتمل انکوائری کمیشن قائم کیاجائے۔اسی طرح ایبٹ آباد میں پاکستان کی خودمختاری پر یو ایس اسپیشل فورسز کے حملہ کے سلسلہ میں انکوائری کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر)جاوید اقبال کے انکوائری رپورٹ فوری منظر عام پر لانے کے مطالبہ کی بھی تائید کرتاہے۔
نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں حکومت کو تمام دینی و سیاسی جماعتوںکی طرف سے آئین اور انسانی حقوق کے منافی اختیارات بھی محض دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے ہدف کے لیے دیئے گئے تھے۔ لیکن حکومت دہشت گردی اور اس کے سلسلہ میں کل بھوشن یادیو جیسے بھارتی نیٹ ورک کے خاتمے میں ناکام رہی ہے جبکہ دیئے گئے اختیارات کامدارس ، مساجد ، علماء کرام ، دینی اداروں کے طلبہ و اساتذہ اور دینی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف ناجائز اور ناروا استعمال کیاگیا۔ لاتعداد افراد ماروائے قانون و عدالت غائب کیے گئے ہیں۔ جب کہ پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے افراد کے معاملات بھی مشکوک اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ یہ اجلاس ملٹری کورٹس کے قیام کو موجودہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد قرار دیتے ہوئے مطالبہ کرتاہے کہ ملٹری کورٹس میں توسیع کی بجائے موجودہ عدالتی نظام کو ہی مضبوط و مستحکم کیاجائے۔ اور دہشت گردی کے خاتمے اور APSاور بلوچستان بار و دیگر دہشت گر د کاروائیوں جیسے انتہائی المناک واقعات کی مستقل روک تھام کے لیے ٹھوس اور حقیقی مکمل اقدامات کامطالبہ کرتاہے۔ اسی طرح بھارت کی طرف سے چلائے جانے والے دہشت گردی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کو عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنے ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے وحشیانہ مظالم اور بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر مسلسل گولہ باری اور بھارت کی آبی جارحیت پر اسے منہ توڑ جواب دینے پر زور دیتا ہے۔
اجلاس سی پیک کے حوالہ سے کل جماعتی کانفرنس کی سفارشات پر مکمل عمل درآمدصوبوں کے تحفظات دور کرنے ،مغربی روٹ کو ترجیح دینے اور تمام صوبوں کے لیے یکساں ثمرات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتاہے۔ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہے کہ برادر ملک چین کے ساتھ ہونے والے معاہدات کو قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے لایاجائے تاکہ قوم کو معلوم ہوسکے کہ اس پراجیکٹ سے پاکستان کی اپنی صنعت ، تجارت ،برآمدات علاقہ جات اور شہریوں کو پہنچنے والے فوائد کیاہیں اورا ن فوائد اور ٹال ٹیکس کی وصولی کا حکومت نے کیا سسٹم بنایاہے۔
اسی طرح یہ اجلاس ریگولیٹری اتھارٹیز کے خاتمے کو عوام کے خلاف ایک سازش قر ار دیتاہے۔ اتھارٹیز کی بجائے وزارتوں کو با اختیار بنانے سے صارفین کو 500ارب روپے کی زائد وصولیوں کی واپسی کا معاملہ بھی ختم ہوجائے گا۔اس لیے جماعت اسلامی ریگولیٹری اتھارٹیز کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس کشمیر، برما،شام ، فلسطین سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر توڑے جانے والے بدترین مظالم پر دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کی بے حسی اور مجرمانہ لاتعلقی پر شدید احتجاج کرتاہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت کو پاکستان سے وفاداری اور 1971ء میں بھارت کی بجائے پاکستانی افواج کا ساتھ دینے کے جرم میں دی جانے والی پھانسیوں پر حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی اور سہ فریقی معاہدے کے حوالہ سے عالمی اداروں سے رجوع نہ کرنے کو ایک قومی جرم قرار دیتاہے۔ اور مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اس سلسلہ میںفوری طور پر اپنی دینی و آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور اس سلسلہ میں قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔
٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس