Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

ملٹری کورٹس کی مدت میں توسیع کرنے کی بجائے سویلین عدالتی نظام کومضبوط کیاجائے۔میاں مقصوداحمد


 لاہور10جنوری 2017ء:امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مشاورت کااعلان ناقابل فہم ہے۔بلاشبہ ملٹری کورٹس نے دہشت گردوں کوانجام تک پہنچانے میں اہم کردار اداکیا مگر ان کومستقل یامدت میں توسیع دینادرحقیقت دوسرے عدالتی نظام کی کریڈبیلٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔الحمدللہ پاکستان میںادارے مضبوط ہورہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی عدالتوں کو مستقل کرنے کی بجائے اصلاحات کرکے سویلین عدالتی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ملکی حالات کو معمول پر لانے کے لیے اس قسم کے اقدامات سے اجتناب کیاجانا چاہئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور میںمختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کو دوسال کی مدت کے لیے 6جنوری2015میں قائم کیا گیا تھا۔یہ متوازی عدالتی نظام ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔پاکستان بھر میں اس وقت 11فوجی عدالتیں قائم ہیں۔خصوصی عدالتیں غیر معمولی حالات میں قائم کی جاتیں۔انہوں نے کہاکہ ایک ہفتے کے دوران چار سوشل میڈیا ماہرین کااغواءانتہائی قابل مذمت ہے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑاسوالیہ نشان ہے۔ماوراآئین وقانون اقدامات سے پوری قوم میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔چاروں لاپتہ ہونے والے افراد کو جلدازجلد بازیاب کروانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیاجائے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ حکمران عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔میاں مقصوداحمد نے مزیدکہاکہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔سیاسی عدم استحکام جمہوریت ،ملکی سلامتی اور بقا کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ملک میں لاقانونیت کی انتہاءہوچکی ہے۔یہ کیسانظام رائج ہے جس میں غریب افراد کو رشوت دینے پر مجبور اور سرمایہ دار،جاگیردارقرضے ہڑپ کرجائیں توکوئی پوچھنے والانہیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارے تمام مسائل کاحل اسلامی شرعی نظام میں پنہاں ہے۔وقت کاتقاضا ہے کہ فرسودہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کیاجائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس