Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

دواﺅں اور غذائی اجناس میں ملاوٹ کی سزا موت مقرر کی جائے ۔حافظ نعیم الرحمن


 کراچی 04جنوری2016ء:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اشیاءخوردونوش اور دواﺅں میں ملاوٹ کے حوالے سے آنے والی اطلاعات اور خبروں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور حکومت اور متعلقہ اداروں کی نااہلی و ناقص کارکردگی اور ملاوٹ شدہ اشیاءاور دواﺅں کی فروخت کی روک تھام میں ناکامی کی شدید مذمت کر تے ہوئے کہا ہے ۔حکومت اور اداروں کی موجودگی میں جاری موت کا یہ کارو بار لمحہ فکریہ اور ہر شہری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان فیکٹریوںاور افراد کو جو اس غیر انسانی کاروبار میں ملوث ہیں کئی مرتبہ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے بے نقاب کیا ہے لیکن سر کاری اداروں میں موجود ان کے سر پرست یہ کارو بار بند نہیں ہو نے دیتے ۔غذا ئی اجناس اور دواﺅں میں ملاوٹ کوئی معمولی جرم نہیں ہے یہ موت تقسیم کر نے اور عملاً انسانوں کے قتلِ عمدکے مترادف ہے ۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس گھناﺅنے کاروبار میں ملوث عناصر اور سرکاری اداروں میں ان کے سر پرستوں کے لیے فی الفور سزائے موت مقرر کی جائے ۔کیونکہ انسانیت کے خلاف کھلی دہشت گردی ہے ۔اس کے لیے قومی اور صوبائی اسمبلیاں فوری قانون سازی کریں اور اس جرم کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور ان کے مقدمات کا فیصلہ 30دن میں کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں سپریم کورٹ میں جاری کاروائی میں بھی یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس گھناﺅنے کاروبار میں بڑی بڑی کمپنیاں ملوث ہیں اور شاید یہ بڑی مچھلیاں بڑی رشوتوں کے عوض انسانیت کے خلاف جاری اس بھیانک کاروبار میں ملوث ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 2015میں اسمبلی میں پاس ہوا ہے لیکن آج تک اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا اور کنزیو مر کورٹس قائم نہ ہو سکیں ۔اس سے سندھ حکومت کی اس بھیانک جرم سے عدم دلچسپی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی پبلک ایڈ نے عوام اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے صلاح الدین کی نگرانی میں خصوصی سیل قائم کر دیا ہے اور سیل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پوری تندہی اور قوت سے ملاوٹ کے خلاف اپنی جدو جہد کو آگے بڑھائے اور ہرسطح پر اس مسئلے کو اُٹھائے ۔اگر ضرورت پڑی تو جماعت اسلامی اس بھیانک جرم کے خلاف سڑکوں پر آنے سے گریز نہیں کرے گی ۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس