Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرار داد مسائل اُمت


مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی کا یہ اجلاس بنگلہ دیش میں ہندوستان کی سرپرستی میں جاری سنگین مظالم کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے پوری عالمی برادری ،حقوق انسانی کی تنظیموں ، مسلم ممالک بالخصوص حکومت پاکستان سے پُر زور مطالبہ کرتاہے کہ وہ ان مظالم کو رکوانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ 1974ء میں ہونے والے تین ملکی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے اوراپنے سیاسی مخالفین کے قتل عام پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائے ۔ بنگلہ دیشی حکومت کے مظالم بے نقاب کرنے اور اسے مزید جرائم سے باز رکھنے کے لیے خصوصی عالمی روابط اور حکمت عملی بروئے کار لائی جائے۔
سید میر قاسم علی اور ان سے پہلے نمایاں سیاسی قائدین کو پاکستان متحدرکھنے کے جرم میں پھانسیاں دی جارہی ہیں۔ لیکن مکتی باہنی کے ثابت شدہ جرائم کاکہیں نام تک نہیں لیاجارہا ،حالانکہ خود بھارتی وزیراعظم مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہو کر اپنے ان جرائم کا اعتراف کرچکاہے ۔ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ عالمی حقوق انسانی کے ادارے مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے مظلوم بہاری اور بنگالی شہداء کے ورثاء کو انصاف دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
یہ اجلاس فلسطین بالخصوص غزہ میں جاری مظالم اور محاصرے کی بھی شدید مذمت کرتاہے ۔ صہیونی قابض فوجوں اور مصر میں سیسی انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے لاکھوں فلسطینی شہری موت کے گھاٹ اتارے جارہے ہیں۔ یہ اجلاس سرزمین قبلہ اول کی آزادی کے لیے کوشاں اپنے فلسطینی بھائیوں سے مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ،دنیاکے ہر انصاف پسند شہری سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کو حق حیات دلوانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔
اجلاس مصر ، شام ،عراق اور افغانستان میں جاری حقوق انسانی کی خلا ف ورزیوں کو فوری روکنے اور وہاں کے شہریوں کوکامل بنیادی انسانی حقوق دینے کامطالبہ کرتاہے۔ 80لاکھ سے زائدشامی شہری پڑوسی ممالک میں قائم مہاجر کیمپوں میں سسک رہے ہیں۔ 3لاکھ سے زائد شہید ہوچکے ہیں اور ہزاروں بے گناہ بشار الاسد کے تعذیب خانوں میں موت سے بدتر حالات سے دوچار ہیں۔ مصر کی جیلوں میں بھی 40ہزار سے زائد بے گناہ قید اور تشدد کا شکار ہیں۔آئے روز نام نہاد عدالتی رسمی کاروائی کے بعد سینکڑوں بے گناہوں کو پھانسیوں اور عمر قید کی سزائیں سنادیتی ہیں۔ یمن کی جنگ خطے کے تمام ممالک کے وسائل بھسم کرتے ہوئے لاکھوں بے گناہ شہریوں کی زندگی جہنم زار بنائے ہوئے ہیں ۔ باغی حوثی قبائل، سابق یمنی ڈکٹیٹر اور ان کے علاقائی سرپرست اس آگ کے شعلوںکو مزید بھڑکا رہے ہیں۔ علاوہ ازیں خطے میں مذہبی منافرت بھی عروج پر ہے ۔ حج جیسے عظیم رکن اسلام کو بھی مزید اختلاف، لڑائی اور سخت ترین الزامات و بیانات کاذریعہ بنادیاگیا ۔ یہ اجلاس اپنے سب برادر اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں سرزمین اقصیٰ پر قابض صہیونی دشمن اور بشار الاسد ، جنرل سیسی ، شیخ حسینہ واجد اور بے نوا اراکانی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے ظالموں سے نجات حاصل کرنے کے لیے وقف کریں ۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس 15جولائی کو ترکی میں ہونے والی بغاوت ناکام ہونے پر اللہ کاشکر ادا کرتے ہوئے اپنے ترک بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرتاہے کہ اس نے لاکھوں کی تعداد میں نکل کر اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر اس بغاوت کو ناکام بنادیا۔ اجلاس اس امر پر بھی اللہ کاشکر ادا کرتاہے کہ پوری پاکستانی قوم سمیت دنیا کے ہر انصاف پسند شہری نے اس بغاوت کی مذمت کرتے ہوئے منتخب ترک حکومت کی تائید کی۔اجلاس اُمید کرتاہے کہ منتخب ترک حکومت کی یہ عالمی عوامی تائید جاری رہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس