Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد برائے عریانی وفحاشی


اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو نہ صرف اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا بلکہ جس کے نام اور دستور میں اسلام کا نام اور اسلامی دفعات شامل ہیں ۔پاکستان کی پارلیمنٹ نے نہ صرف اسلامی دفعات پر مشتمل دستور بنایا بلکہ کئی اسلامی قوانین بھی بنائے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکمران اور ریاستی ادارے اسلام مخالف اقدامات کر رہے ہیں ۔
سرکاری ادارے پیمرا نے چند دن قبل دو نجی چینلز کو قادیانیوں /احمدیوں کے غیرمسلم ہونے اور ختم نبوت پر ایک پروگرام کرنے پر نوٹس جاری کئے ہیں حالانکہ پاکستان کے 18کروڑ مسلمان ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتے ہیں ۔7ستمبر1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعہ 260ذیلی دفعہ 3شقAمیں مسلمان اور Bمیں ایک ترمیم منظور کی جس میں غیر مسلم کی تعریف بیان کی گئی ہے ۔ قادیانیوں /احمدیوں کو بھی غیر مسلم قرار دیاگیا ہے ۔دستور کی اس دفعہ اور پاکستان میں دیگر نافذو مروجہ قوانین کا ابلاغ کر کے مذکورہ چینلز نے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے ۔مرکزی مجلس شوریٰ پیمرا کے قادیانی نواز نوٹس کے اجرا اور حکمرانوں کی خاموشی پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے ۔اور مرکزی مجلس شوریٰ سمجھتی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے منکرین ختم نبوت کی حوصلہ افزائی ہو گی ۔
حکومت پنجاب نے تحفظ حقوق نسواں ایکٹ 2016ء پاس کروا کر ایک طرف ہمارے خاندانی نظام کو خطرات سے دوچار کیا ہے تودوسری جانب تمام مسالک کے علماء نے مذکورہ قانون میں غیر اسلامی دفعات کی نشان دہی کر کے اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون کو مکمل طور پر قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا ہے ۔مرکزی مجلس شوریٰ علماء و اسلامی نظریاتی کونسل کی آراء کے پیش نظر تحفظ حقوق نسواں ایکٹ2016ء کو فوری طور پر ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کرتی ہے ۔
حکومت سندھ کی جانب سے صوبہ بھر میں سرکاری خطبہ جمعۃ المبارک کے متعلق اعلان کو تمام علماء کرام نے مسترد کر دیا ہے اور اس کو مداخلت فی الدین قرار دیا ہے لہذا مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ تمام علماء کرام کے مشترکہ مطالبے کو فوراً تسلیم کرنے کا اعلان کرے ۔
حکومت سندھ نے چند ہفتے قبل دینی مدارس کی دوبارہ رجسٹریشن کے متعلق قانون سازی کا اعلان کیا ہے ۔چند دن قبل اس کے لئے قانون کے مسودہ کی تیاری کی چیزیں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ سامنے آگئی ہیں ۔دینی جماعتوں اور علماء کرام نے اس پر شدید احتجاج کیا ہے ۔عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ غیر رجسٹرڈ NGOSکی رجسٹریشن اوررجسٹرڈ NGOSکی دوبارہ رجسٹریشن کے لئے نئی پالیسی کیوںنہیں بنائی گئی ہے؟نیزصرف سندھ میں یہ پالیسی کیوں بنائی جا رہی ہے ؟صرف مدارس کو بدنام کرنے اور پریشان کرنے کی حکومتی پالیسی بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے بنائی گئی ہے ۔مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ مدارس کی دوبارہ رجسٹریشن کے فیصلہ کو واپس لیاجائے نیز مدارس کو بدنام اور ہراساں کرنا بندکیاجائے۔
سینٹ آف پاکستان کی فنکشنل کمیٹی برائے حقوق انسانی نے اپنے اجلاس 16اگست 2016ء میں ناموس رسالت کے قانون پر کاروائی کے طریقہ کار میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے ،جس سے 18کروڑ غلامان مصطفیٰ ؐ پاکستانیوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔قانون رسالت ؐ میں کسی بھی ترمیم کی گزشتہ ربع صدی سے شدید عوامی مزاحمت ہوئی ہے ۔لہذا اب اس کے طریقہ کار میں تبدیلی کر کے اس کو غیر مؤثر بنانے کی سازش کی گئی ہے ۔کسی قانون پر عمل درآمد انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ،نیز کونسا قانون ہے جس پر عمل درآمد اور طریقہ کار کے متعلق الجھنیں نہیں ہیں؟ لہذا صرف ناموس رسالتؐ کے قانون کے طریقہ کارکی تبدیلی کا اعلان کرنے سے نہ صرف بدنیتی ظاہرہوتی ہے بلکہ اس سے توہین رسالت کرنے والوں کی ہمت افزائی بھی ہورہی ہے ۔مرکزی مجلس شوریٰ ناموس رسالت ؐ کے قانون میں یا اس کے طریقہ کار میں کسی تبدیلی کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس طرح کی باتوں اور کاروائیوں کو بند کیاجائے نیز یہ بھی بتادینا چاہتی ہے کہ پاکستان میں رہنے والے غلامان مصطفیؐ ایسی حرکتوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔
نصاب تعلیم سے پرویز مشرف کے سیاہ دور حکومت میں قرآن وسنت کے اسباق اور مواد کو نکالاگیا تھا اور اب پھر نئے درسی کتب اور نصاب تعلیم کے نام پر NGOSاور بیرونی اداروں کے ذریعہ قرآن و سنت کی تعلیم و سیرت رسولؐ ،صحابہ و بزرگان کی سوانح حیات کے اسباق و مواد کو حذف کیاجا رہاہے ۔اس مذموم حرکت سے ہمارے بچوں کو سچا مسلمان بنانے کے بجائے مغربی تہذیب میں رنگا ہوا آدمی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ صوبائی و مرکزی حکومت اور ان کے متعلقہ ادارے اس طرح کی تبدیلی کو فورا ختم کریں اور درسی کتب و نصاب تعلیم میں قرآن وسنت کے اسباق و مواد میں اضافہ کرے تاکہ آج کا پاکستانی بچہ کل کا اچھا مسلمان اور اچھا پاکستانی شہری بن سکے۔
مرکزی مجلس شوریٰ میڈیا پر بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ دستور پاکستان کے باب دوم میں مذکور پرنسپلز آف پالیسی و دیگر اسلامی دفعات و قوانین پر الفاظ و روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنائے تاکہ ہمار املک حقیقی معنیٰ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس