Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد برائے قبائلی صورتحال



جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس منعقدہ 23,24,25ستمبرمیں فاٹا کی صورتحال پر غور و خوض کیا اور اس وقت قبائل کے جو بڑے بڑے مسائل ہیں انہیں زیر بحث لایاگیا۔
قبائل جو ملک کی طویل مغربی سرحد پر واقع ہیں، ہمیشہ اس ملک کے لئے قربانیاں دیتے رہے ہیں ۔بابائے قوم محمد علی جناح نے قبائل کو پاکستان کابازوئے شمشیرزن قرار دیا تھا ۔اسی طرح پاکستان سے ان کی محبت اور لگاؤ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ملک کے لئے ان کی قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں ۔1948ء میں انہوں نے کشمیر میں جرأت کی بے مثال داستان رقم کی اور اپنے خون سے کشمیر کو لالہ زار کرتے ہوئے ہندوؤں کے چنگل سے آزادو جموں کشمیرکا خطہ ان سے چھڑایا۔اس کے باوجودیہ قبائلی علاقہ جات خود بہت سی مشکلات سے دوچار ہیں ۔
مجلس بجا طور پر سمجھتی ہے کہ پاکستان کے یہ قبائلی علاقہ جات 1901ء سے لیکر آج تک سرزمین بے آئین چلے آرہے ہیں ۔انگریزوں نے1901ء میں ظالمانہ قانونFCRنافذ کیا تاہم قیام پاکستان کے بعد بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے دیگر حصوں سے یہ قانون ختم کیا گیا لیکن قبائل میں بدستور اسی کالے قانون کا راج ہے ۔ ایک کروڑ عوام آئینی ،قانونی،جمہوری ،سیاسی اور آئین پاکستان میں دئیے گئے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔فاٹا میں موجود بدامنی،انتشار،بے چینی ،کرپشن ،بے روزگاری اور افراتفری اسی کے برے اثرات ہیں ۔قبائلی عوام کے حقوق کے لئے جماعت اسلامی نے بنیادی کردار ادا کیا ۔ 2نومبر2015ء کو جماعت اسلامی کے زیر اہتمام محترم امیر جماعت سراج الحق صاحب کی سربراہی میں اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اور متفقہ اعلامیہ میں فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔
پھر8،نومبر2015ء کو وفاقی حکومت نے مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا ۔مذکورہ کمیٹی نے باجوڑ سے لیکر وزیرستان تک تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کئے ۔تمام مکاتب فکر کے لوگوں سے تجاویز اکٹھی کیں۔کمیٹی کو عوامی تائید دلانے کے لئے فاٹا کی تمام سیاسی پارٹیوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے اور بالآخر سرتاج عزیز کمیٹی نے تحریری دستاویز کی شکل میں مفصل اور جامع آئینی ،قانونی ،سیاسی اور معاشی اصلاحات کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کر کے قومی اسمبلی میں پیش کی۔ مذکورہ رپورٹ میں فاٹا کو مرحلہ وار پانچ سال کے عرصہ میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔تاہم قبائلی عوام کی غالب اکثریت اور تمام سیاسی جماعتوں نے کمیٹی کی دیگر تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے 5سال کی بجائے2018ء کے انتخابات سے پہلے فاٹا کو KPKمیں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔اسی صورت میں فاٹا کے عوام کو2018ء کے انتخابات میں KPKکی صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملنے کے ساتھ ساتھ قانونی،سیاسی اور آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کا حصول یقینی ہو سکتاہے ۔اسی کے نتیجے میں فاٹا کو پارلیمنٹ اور عدلیہ ،ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایاجائے گا ۔اجلاس نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آئین پاکستان کی روح کے مطابق آئینی اور قانونی خلاء کو پر کرنے کے لئے نیا اور سہل الحصول نظام عدل دیاجائے تاکہ فاٹا کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ ہو سکے ۔500ارب روپے کا ایک بڑا مالیاتی پیکج بھی دیاجائے تاکہ بدامنی سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ ہو سکے۔
مجلس مطالبہ کرتی ہے ک فاٹا کو مزید نظر انداز نہ کیاجائے اور فاٹا کے عوام کے مطالبات پر عمل کرکے FCRختم کر کے فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیاجائے اوروہاں پہ جلد بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس