Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار داد برائے خواتین مسائل


اسلام انسانی زندگی کے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے جس کے رہنما اصول معاشرے کو امن و امان اور تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر گامزن کر دیتے ہیں ۔قوموں کی زندگی میں عورت کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اسلام ہی خواتین کے حقوق کا سب سے بڑا ضامن ہے، خواتین کو جو منصب اور مقام اسلام نے عطا کیا ہے ،اس کا دنیا کے کسی اور مذہب یا تہذیب میں تصور نہیں ہے۔ اس سلسلے میں جہاں ایک طرف عورت کو مہر ،خلع اور وراثت جیسے حقوق عطا کیئے گئے ہیں وہیں دوسری طرف خواتین سے احسن سلوک کی بار بارتاکید کی گئی ہے ، کہیں انہیں نازک آبگینے قرار دیا گیا ہے تو کہیں ان کی پرورش پر بے پناہ اجر کی خوشخبری سنائی گئی ہے ، ایک اسلامی ریاست میں رہائش پذیر ہر عورت کی بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب، تکریم اور تحفظ کا فرض معاشرے کے تمام اداروں پر عائد ہوتا ہے البتہ عمومی معاشرتی رویہ دیکھا جائے تو یہی عورت دنیا بھر میں مختلف قسم کے تشدد کا شکار نظر آتی ہے اور دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں نت نئی قانون سازی کے باوجود اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق اس تشدد اور استحصال میں اضافہ ہی ہو رہا ہے، اس وقت اس اہم حقیقت کا ادراک کرنے کی فوری ضرورت ہے کہ آخر اتنی قانون سازی کے باوجود عورتوں کے خلاف جرائم میں کمی کیوں نہیں آتی ؟اور اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ریاست اور معاشرے کا کام صرف اور صرف قوانین بنا لینے سے ختم نہیں ہو جاتا بلکہ خاندان، تعلیم ادارے ،ذرائع ابلاغ اور مقننہ کو مل کر فرد کی تربیت کا بیڑہ اٹھانا پڑتا ہے ، پاکستان کی خواتین کے حقوق کے نام نہاد تحفظ کے لئے جو بل پنجاب اسمبلی میں منظور کیا گیا ہے وہ اپنے مندرجات کے لحاظ سے نہ صرف پاکستانی عورت بلکہ پورے معاشرے کی تباہی کا عنوان ہے ،خاندانوں کے مسائل کو چوک پہ لاکر اور مردوں کو گھروں سے بے دخل کر کے خاندان جیسی مضبوط اکائی کو بکھیرااور عورت کو مزید غیر محفوظ تو کیا جاسکتا ہے لیکن عورت کے مسائل کو ہرگز حل نہیں کیا جا سکتا۔ غور کیا جائے تو غربت، مہنگائی ، بے روزگاری ، کرپشن ،لوٹ مار اور سب سے بڑھ کر ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلایا جانے والا تشدد اور ہیجان خیزی، وہ وجوہات ہیں جو بالعموم پورے معاشرے اور بالخصوص عورت کے مسائل میں روز بروز اضافے کا باعث بن رہی ہیں ،حکومت کا فرض بل پیش کروانے اور منظور کروانے سے پورا نہیں ہو جاتا ، بلکہ اس کا فرض ہے کہ ریاست کی اصلاح اور تربیت کے لیئے بھرپور اقدامات کرے۔
لہٰذا ، یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ :
٭ حکومت پاکستان معاشرے کی اصلاح کے لیے مؤثراقدامات کرے۔
٭ ذرائع ابلاغ پراخلاق باختہ، حیا سوز اور پر تشدد مواد پیش کرنے پر پابندی لگائی جائے اور عوام کی اخلاقی تربیت پر مبنی پروگرامز تشکیل دیئے جائیں۔
٭ مردو زن کے لیئے تعلیم کو عام کرنے کی بھرپور منصوبہ بندی کی جائے ، تعلیم بالغاں مراکز بنائے جائیں۔
٭ نظام تعلیم اور نصاب تعلیم کو دینی فکر اور تعلیمی اداروں کو دینی ماحول سے ہم آہنگ کیا جائے۔
٭ تعلیمی اداروں میں پری میرج اور پوسٹ میرج کونسلنگ کا انتظام کیا جائے۔
٭ اسلامی عائلی قوانین کا عوام الناس کو فہم دیا جائے اس کے لئے نصاب میں شامل ہونے کے ساتھ ذرائع ابلاغ سے بھی مؤثر ترویج کو ممکن بنایا جائے ۔
٭ خاندان میں ہونے والے تنازعات کو گھر میں بزرگوں کے ذریعے حل کرنے کو اولیت دی جائے بصورت دیگر محلے کی سطح پر کمیٹیاں یا مصالحتی فورم بنائے جائیں۔
٭ ظلم و تشدد کرنے والے مردوں اور نشوز کرنے والی خواتین کے لیئے کانسلنگ کے ادارے بنائے جائیں۔
٭ ان تمام اقدامات کے بعد اگر گھریلو تشدد کا راستہ نہ رکے تو قانون ازدواج کے تحت عدالت کا رخ کیا جائے۔
٭ ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون ازدواج میں بہتری لائی جائے۔
٭ مجلس شوریٰ تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ایسے تمام ممالک جو اسلامی شعائر (حجاب، ناموس رسالت ) کا احترام نہیں کرتے ان پر سفارتی سطح سے سخت دبائو ڈالا جائے ، اس ضمن میں مسلمان ممالک کا مشترکہ اور متحدہ موقف اپنا کر مسلم خواتین سے متعلق اسلامی احکام کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ امت مسلمہ کے لیے یہی عزت و توقیر کا راستہ ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس