Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد برائے انتخابی اصلاحات


 اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ24- 23ستمبر2016،منصورہ لاہور


 

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ،واضح کرتا ہے کہ ہمارے پیش نظر ایسا منصفانہ اور شفاف انتخابی نظام ہے،جس میں عوام کی اصل رائے سامنے آسکے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ فرسودہ انتخابی نظام کی جگہ ایک ایسا قابل اعتماد انتخابی نظام لایا جائے،جس میں عوام آزادنہ رائے دینے میں آزادہوں۔اسی کے نتیجے میں پاکستان میں نظریۂ پاکستان کے مطابق نظریاتی ، دیانت دار اور عوام کی خدمت کرنے والی ایسی قیادت اوپر آسکے گی جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کاخون چوسنے کی بجائے ، عوام کے بنیادی حقوق کاتحفظ کرے گی۔ پاکستان میں اب تک 10عام انتخابات ہوچکے ہیں لیکن ان میں سے ایک بھی مکمل طور پرآزادانہ نہیں تھا،جس سے عوام کی حقیقی رائے سامنے آسکتی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ’’پارلیمانی کمیٹی ‘‘ انتخابی اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔ لیکن ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کمیٹی نے ابھی تک انتخابی اصلاحات پر کام مکمل نہیں کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ صاحب بھی انتخابی اصلاحات کی اس کمیٹی کے ممبر ہیںاورجماعت اسلامی پاکستان کے پلیٹ فارم سے،اس کمیٹی میں 27صفحات پر مشتمل 90نکاتی تفصیلی تجاویزپیش کی جاچکی ہیں۔انتخابی اصلاحات کے لئے دی گئی ان تجاویز میں سے چند ایک نمایاںتجاویزدرج ذیل ہیں:۔
۱۔ الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر آزاد اور خودمختار ادارہ بنانے کے لئے قانون سازی کی جائے اس کے لئے ضرورت ہو تو نئے قواعدو ضوابط وضع کئے جائیں۔
۲۔ 18 سال سے خانہ شماری اور مردم شماری کا، رکا ہوا کام جلدازجلدمکمل کیا جائے۔
۳۔ اغلاط سے پاک نئی انتخابی فہرستوں کی تیاری کے کام کو منصفانہ انتخابات کے لئے آئین میںدیئے گئے تسلسل کے ساتھ بروقت مکمل کیا جائے۔
۴۔ پولنگ سکیم ، غیر جانبدارانہ طور پر،اتفاقِ رائے سے مستقل بنیادوں پر بنائی جائے۔
۵۔ سمندر پارپاکستانیوں کے ووٹ کے استعمال کا کوئی ایک قابل ِ عمل’’ میکنزم‘‘ بنایا جائے۔
۶۔ امیدواروں کی نامزدگی اور جانچ پڑتال، آئین کی شق 62اور63 کی روح کے مطابق کی جائے، باقاعدہ قواعدوضوابط وضع کئے جائیںاورسیاسی پارٹیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ دفعہ62 اور63کی روشنی میں اپنے امیدواروں کی نامزدگی یقینی بنائیں۔
۷۔ ہر امیدوار اور ہر جماعت کے انتخابی اخراجات کی نگرانی کا ایک نظام وضع کیاجائے۔
۸۔ انتخابی عذرداریوں کونمٹانے کے لئے زیادہ سے زیادہ 120دن کا وقت دیا جائے۔
۹۔ جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے لئےEVM(الیکٹرانک ووٹنگ مشین)سسٹم اور ووٹر کی شناخت کے لئے بائیومیٹرک سسٹم اختیار کیاجائے۔
۱۰۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزاؤںکے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔
۱۱۔ ’’نادرا ‘‘سے قومی شناختی کارڈ کے اجراء کے ساتھ ہی شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درج کر لیا جائے۔
۱۲۔ ووٹنگ کے لئے متناسب نمائندگی کے نظام کو متبادل کے طور پر متعارف کروایا جائے۔
۱۳۔ خواتین کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔حکومت کی طرف سے انتخابی نظام میں اصلاحات میں تاخیردرتاخیر پر ، جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس تشویش کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کے انتخابی نظام میں اصلاحات کا اہم کام جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس