Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قراردادبرائے سیاسی صورتحال


 جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک کی سلامتی و سا لمیت کو درپیش خطرات ،بھارت کی طرف سے جنگ مسلط کرنے کی دھمکیوں اور پانامہ پیپر ز لیکس وکرپشن کی وجہ سے پیداشدہ سیاسی بحران پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔
اگرچہ پانامہ پیپرز لیکس کے بعد وزیراعظم نے قوم سے اپنے تین خطابات میں خود کو سب سے پہلے احتساب کے لیے پیش کیا تھالیکن جوڈیشل کمیشن اور ٹی اوآرز پر عدالت عظمیٰ کے تحفظات پر پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک ڈیڈلاک بدستورموجودہے جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم کی ہر قیمت پر خود کو احتساب سے بچانے کی خواہش اور کوشش ہے۔ حکمران اپنی ہٹ دھرمی سے 70ارب ڈالر کے بیرونی اور 20ہزار ارب روپوں کے مجموعی قرضوں میں جکڑی قوم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ نہ صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت کی ایک پائی بھی قوم کو واپس کرنے کو تیار نہیں ۔ بلکہ 350ارب ڈالر کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے راستے میں بھی عملاً رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جب کہ حالت یہ ہے کہ 12ارب روپے کی روزانہ کرپشن کی وجہ سے معیشت کھوکھلی ہوچکی ہے ۔ غربت و بے روزگار ی ، بجلی و گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ اور توانائی کے بحران میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ بدترین مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔
سانحہ گلشن اقبال لاہور ،سانحہ کوئٹہ بار، چارسدہ ، مردان مہمند ایجنسی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے انتہائی افسوسنا ک والمناک واقعات واضح کررہے ہیںکہ حکمران عوام کی جان و مال کے تحفظ سے مجرمانہ چشم پوشی اختیار کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اپنے خطاب میںمسئلہ کشمیر کو مثبت انداز میں پیش کرکے قومی و ملی جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ اس کے ساتھ یہ امر باعث تشویش ہے کہ راکے حاضر سروس سینئر فوجی افسر کل بھوشن یادیو و دیگر جاسوسوں کے نیٹ ورک اور دہشت گردکاروائیوں کے اعترافات بھارتی وزیراعظم نریند ر مودی کی طرف سے پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش بنانے اور 15۔ اگست کی لال قلعہ تقریر کے ذریعہ بلوچستان و گلگت بلتستان میں مداخلت کے اعتراف اور سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران کے مرکزی کردار جیسے معاملات کو عالمی رائے عامہ کے سامنے پیش کرنے کے بہترین موقع کو ضائع کرکے پاکستانی مؤقف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔
اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا کے 38فیصد نادرا شناختی کارڈ بلاک ہونے سے وہاں کے عوام میں شدید اضطراب ہے نیز بلوچستان اور فاٹا کے عوام کی محرومیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ افغانستان بارڈ ر کی پابندیوں نے اس اضطراب کو مزید بڑھادیا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملات میں حکومتی بے تدبیری کی وجہ سے برادر اورہمسایہ اسلامی ملک افغانستان میں بھارت کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستان کی حمایت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہاہے۔اسی طرح حکومت پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے معاملات پر بھی صوبوں اور سیاسی جماعتوں کی عدم یکسوئی دور کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔
جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ایک مرتبہ پھر اس پالیسی کا واشگاف الفاظ میں اظہار کرتاہے کہ :
۔جماعت اسلامی پاکستان اپنی کرپشن فری پاکستان تحریک کو لوٹی ہوئی دولت کی پائی پائی واپس آنے تک جاری رکھے گی۔ ہم سمجھتے ہیںکہ کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جو معیشت ومعاشرت اور قومی زندگی کو مسلسل زہر آلود کررہاہے۔اس لیے پانامہ لیکس کے معاملات کو منطقیٰ انجام تک نہ پہنچانا بدترین قومی غداری ہوگی۔ جماعت اسلامی نے ریلیوں ، دھرنوں ،جلسوں ، مظاہروں اور ملک گیر رابطہ عوام کا ایک مربوط پروگرام تشکیل دیا ہے جو انتخابات 2018ء تک ہی نہیں اس کے بعد بھی جاری رہے گا۔
جماعت اسلامی پارلیمنٹ میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اسی طرح ہم نے سپریم کورٹ میں آئین پاکستان کے آرٹیکل (3)184کے تحت جورٹ دائر کررکھی ہے ۔ عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون کاایک پینل ہماری رہنمائی کررہاہے۔ہم اس عزم کااظہار کرتے ہیںکہ ہم مہنگائی غربت ، بیروزگاری دہشت گردی اور قرضوں کی معیشت کے خاتمے اور وطن عزیز میں خوش حالی اور امن و سلامتی کے قیام کے لیے اپنے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان مشن کو ان شاء اللہ پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے نیز پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کا قدم قدم ،لمحہ لمحہ ساتھ دے گی ۔
ہم بھارت کو خبردار کرتے ہیںکہ وہ پاکستان کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ اور پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کی کاروائیاں بند کرے اور یہ بھی واضح کرتے ہیںکہ اگر بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو تمام تر سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستانی قوم یکجا ہو کر اپنی جرأت مندافواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی اور بھارت کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادے گی۔ ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیںکہ اس اہم مرحلہ پر قومی جذبے کو تقویت دینے کے لیے متحدہ پاکستان کے وقت افواج پاکستان کا ساتھ دینے والے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنمائوں کے خلاف بنگلہ دیشی حکومت کی انتقامی اور ظالمانہ کاروائیاں بند کرائے اور اس مقصد کے لیے1974ء کے سہ فریقی معاہدہ کے حوالہ سے عالمی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائے۔اسی طرح ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ بھارتی دھمکیوں اور جارحانہ عزائم کے تناظر میں مطلوبہ قومی یکجہتی پیداکرنے کے لیے پانامہ پیپرز لیکس کے معاملات پر ہٹ دھرمی کا رویہ فوری طور پر ختم کرے اور وزیراعظم جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی از خود پیش کش کرکے موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک ختم کریں۔
اسی طرح ہم اپوزیشن جماعتوں سے بھی اپیل کرتے ہیںکہ وہ حکمرانوں سے سیاسی اختلافات کے باوجود اپنے اعلانات و اقدامات سے قوم کو یہ پیغام دیں کہ بھارت کے مقابلے میں پوری قوم ایک ہے۔ عالم اسلام کے موجودہ حالات ،پاکستان میں سیکولر و بے دین طبقہ کے ناپاک عزائم تحفظ ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت کے مقاصد اور مغربی تہذیبی یلغار کے مسائل تقاضا کرتے ہیںکہ دینی جماعتیں متحد اور فعال ہوں اور اسلام وپاکستان سے محبت کرنے والے عوام کو زیادہ سے زیادہ منظم کیاجائے۔ اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مختلف عملی اقدامات کی منظوری بھی دی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس