Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قراردادبرائے تعلیمی صورتحال


 جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ملک میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی اور حکومت کی مسلسل غفلت پر افسوس کا اظہار کرتاہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کاکوئی قبلہ ہی متعین نہ ہوسکا ،حالانکہ ایک نظریاتی ملک کانظام تعلیم مکمل طور پر اس کے نظریے کی روشنی میں متعین ہوناچاہیے تھا۔
وطن عزیز میں اب تک نوتعلیمی پالیسیاں تشکیل پا چکی ہیں، لیکن سب کا حاصل یہ ہے کہ نہ ہی خواندگی عام ہوپائی ہے ، نہ تعلیم کا معیار بہتر ہوا ، نہ آج تک قومی اُمنگوں سے ہم آہنگ نظام تشکیل پاسکا ۔ اس کے برعکس رنگار نگ نصاب اور نظام ہائے تعلیم نے پاکستان کے شعبہ تعلیم کو تضادات سے بھردیا ہے۔
٭ بیرونی دباﺅ پر نظام تعلیم اور نصاب تعلیم سے اسلامی و اخلاقی عناصر کو کھرچ کھرچ کر خارج کرنے کی بارہا کوششیں کی گئیں۔ خیبرپختونخوا اور صوبہ پنجاب میں قرآنی آیات کو نصاب سے خارج کیا گیا، جس کو بعد میں عوامی دباو پر واپس لیا گیا۔ پرائمری تعلیم جو کہ بنیادی اور اساسی حیثیت رکھتی ہے، مختلف حکومتوں کی غلط اور احمقانہ فیصلوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا مُلک ہے، لیکن تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 5سال سے16سال کی عمر کے ڈھائی کروڑ بچے تعلیم سے محروم، سکولوں سے باہر ہیں۔تعلیم سے محروم بچوں کی سب سے زیادہ شرح بلوچستان میں ہے جہاں 66فی صد بچے باقاعدہ کسی تعلیمی ادارے میں نہیں جاتے۔دوسرے نمبر پر فاٹاہے جہاں 62فی صد بچوں کو کسی تعلیم ادارے میں پڑھنے کی سہولت میسر نہیں۔اسی طرح سندھ میں 51فی صد،پنجاب میں 47 فی صد ،گلگت بلتستان میں 43فی صد،خیبر پختون خوامیں 34فی صد بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔
٭ 31دسمبر 2015ءتعلیم سے متعلق میلینیم ڈیویلپمنٹ گول کے حصول میں پاکستان بری طرح ناکام ہواہے۔2015ءکے ایجوکیشن فار آل ڈیویلپمنٹ انڈکس کے مطابق113ممالک میں سے پاکستان کا نمبر 106واں ہے۔یعنی تعلیم کے معاملے میں پاکستان سے صرف سات ممالک پست ہیں۔ بلند بانگ دعووں کے باوجود امسال بھی انرولمنٹ میں 2013ءاور 2014ءکے مقابلے میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہوسکا۔ انفراسٹرکچر کا عالم یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی پاکستان کے 43فی صد پرائمری سکول بجلی،36فی صد پانی،35فی صدواش روم اور32فی صد چاردیواری سے محروم ہیں اور 43فی صدکی عمارتیں اطمینان بخش نہیں ہیں۔ ہائرایجوکیشن کی صورت حال یہ ہے کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں 22خودمختار کیے گئے کالجوں میں بی ایس چار سالہ پروگرام کا اجرا کیا گیا تھا جو مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔ اب صوبے بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام سے 700 سے زائد کالجوں سے جان چھڑانے کی کوشش ہورہی ہے۔ بظاہر ان کالجوں کو کمیونٹی کالجز کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن درحقیقت غریب پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پالیسی سازی میں بدعنوانی کا دور دورہ ہے اور سنجیدہ طرزِ فکر ناپید ہے۔
٭ ملک میں کئی قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہونے کی وجہ سے ذہنی،سماجی اور معاشی طور پر قوم کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میںعدم توجہی، کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے معیارِ تعلیم خطرناک حد تک گرگیاہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ اور شاندار بنانے کے لےے حکومت کو درج ذیل امور پر فوری توجہ دینے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
(1) پاکستان کے اساسی نظریات ،قومی اُمنگوں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مستقل قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جائے۔
(2) سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں اسلام کی تعلیمات کے مطابق یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔
(3) پاکستان کے نظامِ تعلیم کی اسلامی تشکیل کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر31 کے مطابق اقدامات کیے جائیں اور ایجوکیشن ایکٹ 1976ءکو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، جس کی رو سے نصابات و درسی کتب میں اسلام کے خلاف کوئی مواد شامل نہیں کیا جا سکتا۔
(4) تعلیم کو بنیادی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے۔بہترین اور لائق افراد کو تعلیم کی وزارت اور محکموں کا چارج دیناور ہر سطح کے بجٹ میں تعلیم و تحقیق پر زیادہ سے زیادہ رقم مختص کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ جو جی ڈی پی کا تقریباً 5فیصدبنتا ہے۔
(5) آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت 5 تا 16 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوںکی لازمی مفت تعلیم کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں اور صوبوں کو اس فنڈ کے مجوزہ استعمال کا پابند بنایا جائے۔
(6) صوبوں کو اعتماد میں لے کر،نصاب سازی کا کام پہلے کی طرح وفاق کے سپرد کیاجائے۔
(7) جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ،ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو بچوں کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے۔
(8) میلینیم ڈویلپمنٹ گولز کے حصول میں ناکامی کی وجوہات سامنے لائی جائے اور ان کی روشنی میں100 فی صد بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لےے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے جس پر عمل درآمد کا ہر تین مہینے بعد جائزہ لیا جائے۔اس غرض کے لیے مسجد مکتب سکیم کا احیا کیاجائے جو خواندگی میں اضافہ کا فوری اور کم خرچ ذریعہ ہوسکتاہے۔
(9) 100فی صد انرولمنٹ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے انتظام و انصرام میں بہتری کے ساتھ ساتھ سکول میں پانی، بجلی، واش روم، چاردیواری، کھیل کے میدان اور تحفظ جیسی سہولیات کو یقینی بنانا ہوگا۔
(10) معیار تعلیم کی بہتری کے لیے پرائمری تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔اس مقصد کے لیے تربیت اساتذہ اورنصاب سازی کے ضمن میں انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔
قومی زبان کو اصل مقام دلانے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے پر دیانت اور تند ہی سے عمل کےاجائے اور اس مقصد کے لیے بنائے ہوئے اداروں کو فعال بنایاجائے اوراردو کو فوری طور پر ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے پہلے مرحلے پر مقابلے کے امتحانات اُردو میں لیے جائیں جبکہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کی کاروائی انگریزی کے ساتھ ساتھ اُردو میں بھی مرتب کی جائے۔
(11) صوبوں کی سطح پر علاقائی زبانوں کی ترقی وترویج کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ دور کے انگریزی کو جبری طور پر نافذ کرنے جیسے مہلک و مفسدانہ اقدامات کو واپس لیا جائے۔
12)) اساتذہ کے تقرر، مشاہروں، تربیت ،ترقی اور مراعات کا ایسانظام وضع کیا جائے جس کی رو سے معلم کو اس کا اصل مقام مل جائے اور نسل نو کے لیے پیشہ معلمی ترجیح اول قرار پائے۔
(13) خواتین کو بہتر اور آزادانہ تعلیمی ماحول مہیا کرنے کے لےے، ان کے الگ تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔
(14) اعلیٰ اور پیشہ وارانہ تعلیم کے اداروں میں غریب اور نادار طلبہ وطالبات کو مفت تعلیم فراہم کی جائے۔
(15) انٹری ٹیسٹ کی فیسوں میں کمی کی جائے اور اس مقصد کے لیے بنائی گئی اکیڈیمیوں پر پابندی لگا دی جائے تاکہ اس کی افادیت میں اضافہ ہو اور طلبہ اور ان کے والدین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
(16) پرائیویٹ تعلیمی اداروں کافروغ اور کامیابی متعلقہ مرکزی و صوبائی محکموں کی عدم اہلیت ، کمزور گورننس اور عوام الناس میں معیاری تعلیم کے لیے پائے جانے والے خلاکا ایک منطقی نتیجہ ہے ۔ اس عمل کو حکمت، احتیاط اور قومی تقاضوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم نصاب تعلیم، فیسوں، معیارِ تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے سلسلے میں قابل عمل اور متوازن قانون سازی کی جائے۔ فیسوں میں اضافے کے ایشوپرحکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مشاورت سے ایسے متوازن اقدامات طے کرے جو والدین اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں دونوں کے لیے قابل قبول ہوں۔
(17) تحقیق کے کلچر کو فروغ دینے کے لےے مناسب بجٹ کے ساتھ ہر صوبے میں اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ کی طرز پر اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔
(18) عالمی اداروں اور بیرونی ممالک سے آنے والی تعلیمی امداد کو اپنی حقیقی ضروریات اور قومی تقاضوں کے تناظر میں قبول کیا جائے۔
(19) تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرکے تعلیم کو کاروبار بنانے کی بجائے ریاست کی ذمہ داری قرار دی جائے
(20) اس وقت ہماری توجہ کا ارتکاز خواندگی، حساب اور سائنس وغیرہ کی تعلیم پر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری تعلیم کا مقصدمتعین کیا جائے۔ پھر اس مقصد کے حصول کے لیے جامع ایکشن پلان بنایا جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس