Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد برائے بنگلہ دیش


 مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس برادر ملک بنگلہ دیش میںجاری قتل وغارت، اپنے تمام سیاسی مخالفین کو کچلنے اور90فیصد مسلم آبادی والے ملک کو اس کی اسلامی شناخت سے محروم کردینے پر مبنی حکومتی پالیسیوںپر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ بنگلہ دیش سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان انتقامی کارروائیوں کے دوران صرف جماعت اسلامی کے اسی ہزارسے زائد کارکنان مختلف عرصوں کے لیے جیلوں میںبھیجے جا چکے ہیں۔ سینکڑوں افراد شہید اور ۳۲ ہزار افراد مظاہروں کے دوران زخمی کیے جا چکے ہیں۔۵ رہنماوں کو پھانسیاں دئے جانے کے بعد اب مزید درجنوں سیاسی قائدین کو پھانسیاں دینے کی تیاریاں مکمل ہیں، بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر مولانا مطیع الرحمن نظامی اور اہم سیاسی وسماجی رہنما سید میر قاسم علی بھی ان میںشامل ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ جماعت سے وابستہ افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے اور ان کے اکاونٹ منجمد کرنے کا عمل جاری ہے۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگانے کا منصوبہ بھی تفصیلاً تیار کرلیا گیا ہے۔ بھارت کی براہ راست نگرانی میں جاری ان اقدامات کا بالآخر ہدف پاکستان اور افواج پاکستان ہیں۔ حسینہ واجد حکومت کے وزراءآئے روز اس بارے میں بیانات جاری کر رہے ہیں۔
تکلیف دہ اور باعث حیرت امر یہ ہے کہ مسلسل توجہ دلائے جانے کے باوجود حکومت پاکستان ، پاکستانی ذرائع ابلاغ، سول سوسائٹی اور اکثر سیاسی جماعتوں نے حسینہ حکومت اور اس کے بھارتی آقاوں کے ان تمام غیر انسانی اور پاکستان دشمنی پر مبنی اقدامات کے جواب میں مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل ، ہیومن رائٹس واچ اور انسانی حقوق کے دیگر اداروں نے تو بنگلہ دیش میں حقوق انسانی کی ان واضح خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا ہے۔ ان کی طرف سے مولانا نظامی سمیت دیگر سیاسی رہنماوں کی سزائے موت ختم کرانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان جو خود ان تمام انتقامی کارروائیوں کا اصل ہدف ہے اور جس کے خلاف منتقم مزاج حسینہ واجد کسی بھی انتہا تک جانے کے لیے تیار ہے‘ نے بے حسی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔
ہم حکومت پاکستان، عالم اسلام اور اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ بنگلہ دیشی نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کے ذریعے سیاسی مخالفین کے قتل رکوانے کے لیے حسینہ حکومت کو مجبور کریں۔ ICTکو کالعدم قرار دلوانے، تمام انتقامی کارروائیاں ختم کروانے اور سیاسی کارکنان کو رہا کروانے اور ملک میںحقیقی جمہوریت بحال کروانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاکہ ایک برادر ملک میں دیرپا امن واستحکام قائم ہوسکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس