Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قراردادبرائے کسان


 جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس کسانوں کی موجودہ معاشی صورتحال پراپنی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے انسانی اور مادی وسائل سے مالا مال کیاہے ۔سونا اگلنے والی زمین اور محنت کرنے والے کسان عطاکئے ہیں لیکن حکمرانوں کی نااہلی اورغلط پالیسوں کی وجہ سے آج ملک غربت ،بے روز گای ،مہنگائی ،کرپشن ،توانائی کے بحران اور قرضو ں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ۔ اس صورت حال سے کسان سب سے زیادہ متاثر ہے ۔مرکز مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ آج کسان مرکزی حکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے مہنگے مداخل خریدنے پر مجبور ہے ۔جبکہ کرپشن مافیاز کے زیر اثر غیرمو ¿ثر ادویات ،غیر تسلی بخش اور انتہائی ناقص بیج خریدنے کی وجہ سے اس کی فی ایکڑ پیداوار میں شدید کمی آئی ہے اور پچھلے چند سال سے اس کی فصل خریدنے کے لئے بھی کوئی مارکیٹ موجود نہ ہے ۔گندم ، چاول،کپاس،آلواور گنے کی فصل کو انتہائی کم لاگت پر خرید کیا گیا جس سے کسان کی کمر ٹوٹ گئی ہے ۔
حکومت نے کسان پیکیج کے نام سے جو کسان کی مدد کرنے کی کوشش کی ہے یہ اونٹ کے منہ میںزیرہ کے مترادف ہے مزید اس کے تکلیف دہ طریقہ کار نے کسانوں کو مزید ذلیل و رسوا کیا ہے اور سرکاری اہلکاروں کے لئے کرپشن کا نیا درواز ہ کھل گیا ۔ اس کے برعکس اگر اسی سبسڈی کو کھاد اور دیگر زرعی مداخل کی قیمت کم کر کے دیاجاتا تو تمام کاشتکار اس سے مستفید ہو سکتے تھے ۔اس پیکیج نے کسان کے مسائل حل کرنے میں کوئی کردارادانہیں کیا ہے۔ ہم حکومت کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر ملک کی 70فیصدآبادی معاشی پریشانیوں کا شکار ہو گی تو یہ ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔اس وقت گندم کی خریدار ی پر لوٹ کھسوٹ جاری ہے اور اعلان کردہ امدادی قیمت 1300/=روپے من کی بجائے گندم اوپن مارکیٹ میں 1100/=روپے من پر بھی خرید ار موجود نہیں نہ ہی حکومت مناسب مقدار میں گندم کی خریداری کررہی ہے۔
کسانوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے لئے ہم حکومت وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ !
۱۔17فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کا فوری خاتمہ کیا جائے ۔
۲۔زرعی اجناس کی قیمت کسان نمائندوں سے مل کر فصل کی کاشت کے وقت مقرر کردی جائے ۔اورپھر حکومت اسی قیمت پر کسان کی تمام فصل کی خرید کو یقینی بنائے ۔
۳۔اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اس ملک میں کسانوں کی حالت زار کو بہتربنانے کے لئے غیر سودی قرضے دے تاکہ کسان اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہو سکے ۔
۴۔تمام سرکاری مزارعین اور بے زمین کاشتکاروں کو مالکانہ حقوق دئیے جائیں ۔خوشحال کسان ،مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے اور پاکستان کی خوشحالی اسلامی نظام میں پنہاں ہے۔ اسلامی پاکستان ....خوشحال پاکستان
۵۔ کسان پیکیج سے پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں کے کسان ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔
۶۔ صوبہ سندھ میں باردانہ کرپشن کاذریعہ بن گیاہے ۔ باردانہ مخصوص مو ¿ثر لوگوں وزراء،اراکین اسمبلی اور حکومتی پارٹی کے قبضے میں ہے۔ عام کسان اور آبادگار باردانے سے محروم ہے۔ باردانہ نہ ملنے کے سبب گندم 1300/=روپے بن کے بجائے کسان 800/=سے 1000/=تک گندم فروخت کرنے پر مجبور ہے۔
۷۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی فراہمی اور تربیت کے ذریعے فصلوں کو بہتر بنانے کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی اور کسان اکیلا و تنہا ہی تمام مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس