Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قراردادبرائے سیاسی صورتحال


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک کی سا لمیت کو درپیش خطرات اور حکمرانوں کی بدترین کرپشن سے پیداہونے والے سیاسی حالات پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے یکم مارچ2016ءسے کرپشن فری پاکستان تحریک کاآغاز کرکے قوم کو آگاہ کیاتھا کہ روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن سے معیشت کھوکھلی اور ملک مقروض ہو رہاہے اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنے والے حکمران پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت سے بیرون ملک کھربوں روپے کے اثاثے بنا رہے ہیں۔ پانامہ پیپرزلیکس نے جماعت اسلامی کی اس تحریک پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے اور وزیراعظم کے خاندان سمیت دوسو سے زائد سیاست دانوں ، جرنیلوں ، ججوں اور صحافیوں کی آف شور کمپنیوں اور کرپشن سے بنائے گئے اثاثوں کا انکشاف مقتدر طبقہ کی ملک دشمن سرگرمیوں کی واضح دلیل ہے۔
پانامہ پیپرزلیکس کے ذریعے باری باری برسراقتدار رہنے والے حکمران طبقہ کے میگاکرپشن کیسز سامنے آنے سے ایک مرتبہ پھر واضح ہوگیا ہے کہ پاکستانی عوام پر مسلط غربت ، بے روزگاری اور قرضوں کی معیشت کی اصل وجہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ قومی دولت کی بدترین لوٹ مار اور وسائل کی غیر منصفانہ اور ظالمانہ تقسیم ہے۔ اس بدترین کرپشن اور حکمران طبقہ کی نا اہلی کی وجہ سے ملک کو بجلی و گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور ملک میں توانائی کابحران مسلسل بڑھ رہاہے ۔ حکومت عوام سے کیے گئے انتخابی وعدے نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔ عام آدمی کی زندگی میں کوئی انقلاب نہیں آیا جبکہ غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے حقیقی فوائد سے عوام کو محروم رکھا گیاہے۔ تمام تر حکومتی دعوﺅں کے باوجود معیشت مسلسل روبہ زوال ہے۔ اور قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے اور بحیثیت مجموعی کمزور معیشت نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں روز افزوں اضافے نے غریب ہی نہیں سفیدپوش طبقے کی بھی کمر توڑ دی ہے۔ مزدور طبقہ اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باوجود حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ایجنڈے پر عمل درآمدکرتے ہوئے پی آئی اے سمیت قومی اداروں اور منافع بخش یونٹس کی نجکاری پر بضد ہیں۔
لاہور میں سانحہ گلشن اقبال اور بعد میں ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات انتہائی افسوسناک اور المناک ہیں۔ ان واقعات میں بے گناہ شہریوں کی شہادتوں سے ہر آنکھ پُرنم اور ہر دل زخمی ہے۔ اس پس منظر میں را کے حاضر سروس فوجی افسر کل بھوشن یا دیو اور دیگر جاسوسوں کے نیٹ ورک کی گرفتاری اور اعترافات نے واضح کردیاہے کہ پاکستان کے طول و عرض میں بالعموم ا ور بلوچستان میں بالخصوص غیر ملکی دہشت گردوں کے کئی نیٹ ورک سرگرم عمل ہیں۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں ،بدترین مظالم اور پاکستان میں راءکی طرف سے ہونے والی تخریب کاری ،مداخلت اور دہشت گردی کے باوجود وزیراعظم پاکستان کی بھارت نوازی اور دوستانہ طرز عمل میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ بھارت کے پاکستان دشمن جارحانہ رویے اور مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں کے باوجود حکومت پاکستان کے معذر ت خواہانہ اور کمزور رویے کی وجہ سے پاکستان کی سا لمیت و سلامتی کو شدید خطرات درپیش ہیں۔ اسی طرح امریکہ کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے سلسلہ میں پاکستان پر ناجائز ناروا اور یک طرفہ دباﺅ بھی قابل مذمت ہے۔
پانامہ لیکس کے حوالہ سے سپریم کور ٹ کے ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کا قیام اگرچہ جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے مطالبے کی پذیرائی ہے لیکن اس کے TORکے سلسلہ میں حکومتی رویہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا مطالبہ ہے کہ !
۱۔ جوڈیشل کمیشن کے لیے TORتمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے طے کیے جائیں۔
۲۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے کمیشن پہلے مرحلہ میں وزیراعظم اور اس کے خاندان کی کرپشن کی تحقیقات سے آغاز کرے اور زیادہ سے زیادہ دو ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے ۔
۳۔ دوسرے مراحل پر دیگر سیاسی رہنماﺅں ،ججوں ،فوجی افسروں وغیرہ کی کرپشن کی تحقیقات بھی لازماً کی جائیںاور کسی کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہ ہو۔
۴۔ کرپشن کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن 2005ءUNCACجس پر پاکستان سمیت 130ممالک کے دستخط ہیں کو TORکا حصہ بنایا جائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے ہوئے میوچل لیگل اسٹنس ریکوئیسٹ (MLAR) کے ذریعہ بیرون ملک سے شواہد حاصل کرنے کے لیے جائنٹ انٹرنیشنل انویسٹی گیشن ٹیمیں بنوائی جائیںاور ٹاسک فورس قائم کی جائے۔
۵۔ پانامہ پیپرزلیکس کے سلسلہ میں بنیادی سوالات قائم کیے جائیں ۔ مثلاً آف شور کمپنیوںکا قیام اور ان میں حصہ ؟ کتنا سرمایہ کب اور کس ذریعہ سے بیرون ملک لے جایا گیا؟ اس سرمایہ پر اندرون ملک کتنا ٹیکس جمع کرایاگیا؟ان سوالات کے جوابات اور صفائی میں شواہد و دستاویزات کی فراہمی الزام علیہ کی ذمہ داری قرار دی جائے۔
۶۔ دستاویزات کافرانزک آڈٹ اور ماہرین کی معاونت لازمی قرار دی جائے۔
۷۔ 1956ءکے قوانین کے مطابق قائم انکوائری کمیشن کے دائرہ کار میں وسعت دے اور کو اس کے کورٹ آف لا ”قرار دے کر“ ۔ فیصلہ اور سزائیں دینے کے اختیارات کے لیے فوری طور پر پارلیمانی قانون سازی کی جائے۔
جماعت اسلامی یہ اعلان کرتی ہے کہ !
الف۔پاکستان کو مالی ،انتخابی ، نظریاتی ، انتظامی ،عدالتی اور اختیاراتی کرپشن سے پاک کرنے کے لیے اس کی کرپشن فری پاکستان تحریک جاری رہے گی اور اس سلسلہ میں پاکستان کے طول و عرض میں رابطہ عوام کی وسیع اور منظم مہم کو مزید تیز کیاجائے گا۔
ب۔ پاکستان کے اسلامی تشخص اور دینی اقدار ،خاندانی نظام اور اسلامی طرز زندگی کے تحفظ کے لیے دینی جماعتوں کو متحد کیاجائے گا۔ نیز ملک بھر میں بڑے بڑے علماءو مشائخ کنونشن منعقد کیے جائیںگے۔
جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ کرپشن کے خلاف تحقیقات سے جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اس سے جمہوریت زیادہ مضبوط ہوگی اورعوام کا اعتماد بڑھے گا۔ خود افواج پاکستان نے بھی اپنے ادارے میں بڑے افسروں کااحتساب کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ہے ۔ہم حکمرانوں سے مطالبہ کرتے ہیںکہ وہ جوڈیشل کمیشن کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے اور عدم تعاون کرنے سے اجتناب کریں ۔
ہم ایک مرتبہ پھر واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کا حل جمہوریت ، جمہوری عمل اور انتخابات کے تسلسل میں ہے اور کسی بھی طرح کے ماورائے آئین انتظامات و اقدامات ملک کو ایک مرتبہ پھر اندھیروں میں دھکیلنے کے مترادف ہوں گے۔
مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن عامہ کے قیام میں بہتری کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک بلوچ قائدین سے مقررہ ٹائم فریم میں بامقصد مذاکرات کیے جائیں تاکہ صوبے کی بلوچ آبادی بالخصوص نوجوانوں میں غصہ ،مایوسی و نفرت کاازالہ ہو اور آزادی کے تصور و نعروں کی بجائے وفاق سے دوستی و ترقی کے رشتہ کو از سر نو استوار کیاجاسکے۔ اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری میں 28مئی 2015ءکی اے پی سی اور وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق مغربی ترجیحی روٹ کو پہلے اور جلداز جلد مکمل کیاجائے۔
مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک میں امن و امان کی انتہائی ناگفتہ بہ صورت حال پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے ۔چھوٹوگینگ کے مقابلہ میں پنجاب پولیس کی ناکامی سے واضح ہوگیاہے کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں اور انہوںنے عوام کو چوروں ، ڈاکوﺅں ،رسہ گیروں ، اٹھائی گیروں،بھتہ خوروں اور راہزنوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے۔اسی لیے چوری ،ڈاکہ زنی ، اغوا برائے تاوان ، معصوم بچیوں سے درندگی جیسے جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ اکثر جرائم میں حکومتی بااثر شخصیات کی سرپرستی بے نقاب ہو رہی ہے۔ تھانہ کلچر سے نجات کے حکومتی دعوﺅں کے برعکس تھانہ کلچر میں بدترین اضافہ ہوچکاہے۔ اسی طرح بے گناہ افراد کو گھروں سے اٹھانے اور مہینوں غائب کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کراچی میں آپریشن کے ادھورا ہونے اور سانحہ بلدیہ ٹاﺅن فیکٹری سمیت مختلف واقعات پر جے آئی ٹی رپورٹس کو منطقی انجام تک نہ پہنچانے سے کراچی کے عوام میں یہ خدشات بجا طور پر جنم لے رہے ہیں کہ انہیں ایک مرتبہ پھر بھتہ خوروں ، ٹارگٹ کلرز ، قبضہ مافیا اور نو گوایریاز بنانے والوں کے حوالہ کیاجارہاہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں قوم کو گزشتہ سالوں کے مقدمات کی پیش رفت کی آڈٹ رپورٹ پیش کریں۔
جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر واضح کرتی ہے کہ مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی ، دہشتگردی ، بدترین لوڈشیڈنگ ،کسانوں ، مزدوروں پر مظالم جیسے مسائل میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ اپنے بہترین عوامی ایجنڈے کے مطابق بھر پور عوامی تحریک کے ذریعے پسے ہوئے اور محروم طبقات اور غریبوں کو منظم کریں گے اور ہم ان شاءاللہ اسلامی نظام کے ذریعے پاکستان کو ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس