Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیرکی مرکزی شوریٰ کی قرارداد 8فروری2016


 جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس کشمیریوںسے یکجہتی کے لیے میاں نوازشریف کا مظفر آباد میں اسمبلی اور کونسل سے خطاب کو خوش کن قراردیتاہے مگر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پر اسرار دورے پر شدید تشویش کا اظہا رکرتا ہے جس کا نہ ایجنڈا طے ہوااور نہ کوئی اعلامیہ جاری ہوا اور جس کے نتیجے میں تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے ایسے موقع پر شکوک و شبہات کی فضا پیدا کر دی گئی ہے ۔جبکہ مقبوضہ ریاست جمو ں و کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی اور ریاستی دہشت گردی کے حوالہ سے بھارت زبردست بین الاقوامی دباؤ میں آچکا تھااورہر بین الاقوامی فورم میں حالات نے اسے کٹہرے میں کھڑا کر دیا تھا،اجلاس کے نزدیک بھارتی قیادت نے اس دباؤ سے نکلنے سلامتی کونسل کی رکنیت کے حصول کے لئے پاکستان کی طرف سے متوقع مزاحمت تحلیل کرنے ،وسطی ایشیاء تک راہداری حاصل کرنے اور بین الاقومی سطح پر اپنی استبدادی شبہہ درست کرنے کے لئے مذاکرات کا ڈول ڈالا ہے اور ایک مرتبہ پھر دو طرفہ جامع مذکرات کا نام دیکر آٹھ نکاتی ایجنڈامیں کشمیر کو سرفہرست رکھنے کی بجائے بالکل آخری ترجیح میں رکھا گیا ہے ۔مجلس شورٰیٰ کا یہ اجلاس یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر محض دو طرفہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حق خوداریت کا حصول ہی مسئلہ کا بنیادی اور دیر پاحل ہے۔ اس لئے حکومت مذاکرات میں بنیادی مسئلہ کی حیثیت سے مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لائے اور اس پر اسس کے حوالے سے حریت کانفرنس اور کشمیری قیادت کو اعتماد میںلیا جائے اور قوم اور پارلیمنٹ کو بھی حالیہ مذاکرت کی تفصیلات سے آگاہ کیا جائے ۔اجلاس یہ سمجھتا ہے کہ باہمی مذاکرات کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے اور اس پراسس کی ساکھ قائم کرنے کے لئے مقبوضہ ریاست جمو ں و کشمیرکی آبادیوں سے فوجی انخلاء،کالے قوانین کی واپسی سید علی گیلانی اوردیگر قائدین حریت کی مسلسل حراست کا خاتمہ ان کے نقل و حرکت اور عوامی رابطہ کے حق کی بحالی اور ہزاروں بے گناہ جوسالہا سال سے بھارتی جیلوں میں محبوس ہیں، کو رہائی کے عمل سے مشروط کیا جائے۔مقبوضہ کشمیر میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریائوں پر وولر ڈیم سمیت کئی ڈیم اور آبی منصوبوں کے ذریعہ پاکستان کے حصہ کے پانی میں رکاوٹیں پیداکردیں ہیں۔ بھارت کی آبی دہشت گردی پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لہٰذا بھارت کی آبی دہشت گردی مذاکرات اہم نکتہ ہوناچاہیے لیکن افسوس کہ حکومت پاکستان نے بھارتی آبی دہشت گردی پر مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے گزشتہ عرصہ میںوزیر اعظم پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف نے جس طرح ملکی اور بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کے قومی موقف کو واضح طور پر اجاگر کیا یہ حکمت عملی برقرار رکھی جائے اور مقبوضہ ریاست میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے کے لئے دوست ممالک کے ذریعہ دو طرفہ سطح پربھی بھر پور سفارتی مہم جاری رکھی جائے ۔مرکز مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ایک مرتبہ پھر اہل کشمیر کو یقین دلاتا ہے کہ ان کے بنیادی حق کے حصول تک جماعت اسلامی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔ اقوام متحدہ ،OICاور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ مقبوضہ ریاست میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے عمل کو ختم کرنے اور کشمیریوں کے حق خوداردیت کے لئے ہونے والی جدوجہد کی بھر پور تائید ومعاونت کریں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس