Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد برائے انتخابی اصلاحات


 

جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کے لیے موجودہ انتخابی نظام کسی طور بھی آئین کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔ جس کی وجہ سے موجودہ انتخابی نظام میں عوام رائے دہی میں آزاد نہیں ہیں۔

پاکستان میں الیکشن پیسے کاکھیل بن گیا ہے،جس میں دولت مند اشرافیہ نے دھونس اور دھاندلی کے ذریعے عوام کی رائے کویرغمال بنارکھاہے۔چند خاندانوں پر مشتمل اشرافیہ کاطبقہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنی طاقت اور دولت کے زور سے پولیس، انتظامیہ سمیت ٹی وی سکرین کے تجزیے تک خریدنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ انتخابی نظام کی خامی کے باعث ، مختلف دولت مند مافیاز نے سیاست میں سرمایہ کاری کرکے ، اسے مزید دولت کمانے اور اپنے تحفظ کاذریعہ بنا لیا ہے۔

اس ماحول میں اب تک 10عام انتخابات ہوچکے ہیں لیکن ایک بھی آزادانہ نہیں تھا۔جس سے عوام کی حقیقی رائے سامنے آسکتی۔جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ،واضح کرتا ہے کہ ہمارے پیش نظر ایسا منصفانہ اور شفاف انتخابی نظام ہے،جس میں عوام کی اصل رائے سامنے آسکے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ فرسودہ انتخابی نظام کی جگہ ایک ایسا قابل اعتماد انتخابی نظام لایا جائے،جس میں عوام کوآزادنہ رائے دینے کی آزادی دی جائے۔ تاکہ پاکستان میں نظریہ پاکستان کے مطابق نظریاتی ، دیانت دار اور عوام کی خدمت کرنے والی ایسی قیادت آسکے،جو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عوام کاخون چوسنے کی بجائے ، عوام کے بنیادی حقوق ادا کرے۔

یہ امر خوش آئند ہے کہ حکومت سے لے کر اپوزیشن کی ہر سیاسی اور سماجی جماعت نے موجودہ الیکشن سسٹم کو ناقابل اعتماد قراردیتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر اتفاق کیا ہے۔جس سے یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ پاکستان کاموجودہ انتخابی نظام سیاسی جماعتوں اور عوام کے اعتماد سے محروم ہے۔اس لیے حکومت نے انتخابی اصلاحات کافیصلہ کرتے ہوئے، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر قیادت 33رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی تھی ۔ لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس کمیٹی نے انتخابی اصلاحات پر کام مکمل نہیں کیا۔ انتخابی اصلاحات کی اس پارلیمانی کمیٹی میں جماعت اسلامی پاکستان کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ صاحب بھی ممبر ہیںاورجماعت اسلامی، 27صفحات پر مشتمل 90نکاتی تجاویزپیش کرچکی ہے۔جن پرعمل سے ملک میں ایک قابل اعتماد انتخابی نظام بنایا جاسکتا ہے۔

حکومت کی طرف سے انتخابی نظام میں اصلاحات میں تاخیر پر ، جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس تشویش کااظہار کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کے انتخابی نظام میں جلد ازجلداصلاحات کی جائیں اور اس کے لیے حکومت کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی انتخابی اصلاحات کاکام فوری طور پر مکمل کرے۔ الیکشن کمیشن مالیاتی اور انتظامی امور میں بااختیار بنائے بغیرمنصفانہ اور شفاف انتخابات کاخواب پورا نہیں ہوسکتا۔

ووٹر لسٹ،ووٹر کی شناخت، پولنگ اسٹیشن ، پولنگ سٹاف ، ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے اعلان تک پورے انتخابی سسٹم میں مکمل اصلاح کی ضرورت ہے۔ملک کے ہر حصے کی خواتین میں ووٹ ڈالنے کارحجان بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خواتین کے ووٹ ڈالنے کانظام باسہولت، محفوظ اور بہتر بناتے ہوئے، خواتین پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی کے امکانات کاسدباب کیا جائے۔2018ءکے انتخابی عمل سے پہلے ملک میں مردم شماری مکمل کرکے ووٹر لسٹیں اپ ڈیٹ کی جائیں۔

 

انتخابی مہم میں ہر سیاسی پارٹی اور امیدوار کے انتخابی اخراجات کی حد بندی کی جائے تاکہ الیکشن پیسے کاکھیل نہ رہے اور پاکستان کے ہر شہری کے لیے الیکشن میں حصہ لینا ممکن بنایاجائے۔ پارلیمانی کمیٹی میں جماعت اسلامی کی پیش کردہ تجویز کے مطابق متناسب نمائندگی کانظام اپنا کر الیکشن میں دولت کی ریل پیل کااثر روکا جاسکتا ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس