Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ایجنسیوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق بل


اسلام آباد20 فروری 2012ء:جماعتِ اسلامی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نےلاپتہ افراد کی بازیابی ،انٹیلی جنس ایجنسیاں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سےاحتیاطی حراست سے متعلق آئینِ پاکستان میں درج شقات کا غلط اور اختیار ات کا ناجائز استعمال اور عدالت کی اجازت کے بغیر حراست میں رکھنے سے متعلق3 صفحات پر مشتمل بل آج سینیٹ کے ایجنڈا ائیٹم 10پر ہے۔توقع ہے کہ جماعت اسلامی کا بل سینیٹ کی اجازت کے بعد قانون اور انصاف کی قائمہ کمیٹی کو چلا جائے گا۔ مذکورہ بل کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے سینیٹرز نے احتیاطی حراست سے متعلق خفیہ اداروں کے اختیارات میں کمی سے متعلق ترامیم تجویز کی ہیں جس کےمطابق کسی بھی پاکستانی شہری کوکسی دیگر ملک کوحوالگی متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کی پیشگی اجازت کے بغیرممنوع قرار دی گئی ہے۔ اس مقصد کےلئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 9 اور 10 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

بل کےساتھ منسلکہ ”بیانِ اغراض ووجوہ“ کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کے ذریعے یا کسی اور طریقہ سے ’جبری غائب کیے جانے‘ کے عمل نے ریاستی دہشت گردی کی شکل اختیارکرلی ہے اورسینکڑوں پاکستانی شہریوں کسی عدالتی فورم پرمقدمہ کی کارروائی کا موقع دیےبغیر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تحویل میں رکھے جاتے ہیں، جبکہ ان کے عزیزواقارب کو اپنے پیاروں کی کسی جگہ موجودگی سے متعلق کوئی اتہ پتہ نہیں ہوتا۔ حال ہی میں انتہائی ظلم پر مبنی واقعات سامنے آئے ہیں جن کی کڑیا ں خفیہ ایجنسیوں سے ملتی ہیں۔

انٹیلی جنس ایجنسیاں اورقانون نافذ کرنے والے ادارے احتیاطی حراست سے متعلق آئینِ پاکستان میں درج شقات کا غلط استعمال کرتی چلی آرہی ہیں، جبکہ مذکورہ شقات صرف غیرمعمولی صورتحال میں ہی قابلِ عمل ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ احتیاطی حراست سے متعلق انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اختیار ات میں مناسب حد تک کمی کی جائے اور زیرِ حراست ہرشخص کےانصاف پر مبنی مقدمہ کی کارروائی کے حق کو یقینی بنایا جائے۔

بل کے تحت مقدمہ کی کارروائی سنے بغیراحتیاطی حراست کی زیادہ سے زیادہ ’ایک ماہ‘ کی حدسے متعلق شق کو بحال کرنے کی بھی تجویز دی ہے، جیساکہ یہ 1973ءکے آئین کےاصل مسودےمیں 1975ءمیں کی گئی تیسری ترمیم سےپہلےموجودتھی اور مذکورہ ترمیم کےبعد یہ حد ’تین ماہ‘ کردی گئی تھی۔ اسی طرح بل کے تحت اسیرشخص کو اس پر قائم مقدمات سے جلد از جلد (جس کی حد ایک ہفتہ سے زائد نہ ہو) آگاہ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ آئین میں تیسری ترمیم کےتحت اس حد کو ’پندرہ روز‘ تک بڑھا دیا گیا تھا۔

بل کے تحت حراست میں لینے والے حکام کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہےکہ وہ زیرِ حراست شخص کااس کےاہلِ خانہ کےساتھ حراست میں لئےجانے کے ایک ہفتہ کے اندر رابطہ قائم کرے؛ نیز زیرِ حراست شخص کو اپنے دفاع کےلئے زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے عرصے کے اندرکسی مجاز عدالت میں پیشی کولازم قرار دیتا ہے۔ الفاظ ’اوّلیں موقع‘ موجودہ ٓحالت میں اپنے ابہام کی وجہ سے ریاستی ایجنسیوں کے غلط استعمال کا باعث بن رہے ہیں۔

اس بل کے ذریعے جماعتِ اسلامی کے سینیٹرز نے تجویز دی ہے کہ مکمل شفافیت اور غیرجانبداری کو یقینی بنانے کےلئے ”جائزہ بورڈ“ اعلٰی عدلیہ کےحاضر سروس ججوں پرمشتمل ہونا چاہئے۔ یہ بل اعلٰی عدلیہ کےحاضرسروس ممبر کی چیئرمین شپ میں قائم سپریم کورٹ یاہائی کورٹس کے ججوں پرمشتمل ”جائزہ بورڈ“ کےسامنے حقائق کی پردہ کشائی اورمتعلقہ دستاویزات کی عدم دستیابی کےغیرمنطقی طرز عمل کو ختم کرنے کا بھی متقاضی ہے۔

”ایسی صورت میں جب کسی شخص کو شفاف انداز میں مقدمہ دائر کئے بغیر یا ان کے خاندان کومطلع کئے بغیر یا ان کے حقوق میں سےکسی حق کو تلف کرکے حراست میں لیا گیا ہو، احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے والے حکام اور ایسے غیرقانونی حکم پر عملدر درآمد کرنے والے اہلکار اغواءیا حبسِ بے جا کےمرتکب قرار پائیں گے اور اُن کو عدالتی مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا،“ بل میں مندرج ہے۔

جماعتِ اسلامی کے سینیٹرز نے مزید کہا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 میں اضافہ کے ذریعے متعلقہ صوبے کےہائی کورٹ کی اجازت کےبغیرکسی پاکستانی شہری کا کسی دیگر ملک کےحوالے کئے جانا ممنوع قرار دیا گیاہے۔ اس تجویز سےمقصوداس شرمناک عمل کوختم کرانا ہے جو دنیا بھر میں وطنِ عزیز کی بدنامی کا باعث ہے اورجس نے پاکستانی قوم کے عزت و وقار کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایاہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس