Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

مجوزہ ٹیکس معافی سکیم کرپشن کی نئی صورت ہے


اسلام آباد18 نومبر 2012ء:نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان اور سابق سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے جلد ہی کابینہ سے توثیق حاصل کرنے اور پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے مجوزہ ٹیکس معافی سکیم کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔یہاں سے جاری اپنے بیان میں پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ اصل مسئلہ بے لگام کرپشن کا ہے جو موجودہ پی پی حکومت میں نہ رکنے والے تناسب کیساتھ بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔ ایک طرف حکومت نے گزشتہ ساڑھے چار سالوں کے دوران اندرونی اور بیرونی قرضے اس حد تک حاصل کیے ہیں کہ ملک پر قرضوں کے بوجھ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، اور وسیع پیمانے پر ٹیکسوں کی عدم ادائیگی معمول بن گیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ”ٹیکس میں چھوٹ کی کوششیں ماضی میں بھی کئی بار کی جاچکی ہیں، جن میں سے آخری کوشش سن 2008ءمیں ہوئی، لیکن اِن سب کا کوئی خاطر خواہ فائدہ برآمد نہیں ہوا۔ درحقیقت یہ تمام اقدامات کرپشن کو تحفظ دینے کا باعث بنے اور ان کے باعث ٹیکسوں سے انحراف کا راستہ کھلا۔ اس عمل کے ذریعے اُن لوگوں نے کالا دھن سفید کیا جو بلاخوف و خطر کرپشن میں ملوث ہیں۔“ انہوں نے استفسار کیا کہ ”کیا یہ وسیع پیمانے پر کرپشن کی ایک نئی کوشش نہیں ہے کہ ہماری تاریخ کی بدعنوان ترین سیاسی حکومت ملک پر ایک ایسے سکیم کو لاگو کرنا چاہتی ہے جس سے صرف اس عرصے کے دوران کالا دھن سفید کیا جاسکے؟“ انہوں نے زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کوکوئی بھی ایسی تجویز مسترد کردینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ”ملک کو فی الوقت فوری انتخابات کی ضرورت ہے جو صاف، شفاف اور آزادانہ بنیادوں پر منعقد ہوں اور جن کے نتیجے میں قوم کو ایک ایسی نئی قیادت کے انتخاب کا موقع میسر آجائے جوکہ ایماندار، باصلاحیت اور عوام کے سامنے پوری طرح جوابدہ ہو۔“
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس