Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

توہین عدالت بل قومی اسمبلی میں پیش ہوتے ہی منظور


اسلام آباد10جولائی2012ء: قومی اسمبلی نے توہین عدالت ترمیمی بل 2012ء کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا ‘توہین عدالت قانون کے تحت صدر‘ وزیراعظم‘ وفاقی و صوبائی وزراکو سرکاری امور کی انجام دہی میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ‘بل کے تحت توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیا شخص 30 کے بجائے 60 دن میں اپیل کرسکتا ہے اور سزا کے خلاف اپیل ہوتے ہی یہ سزا معطل ہوجائے گی۔چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت توہین عدالت کا ازخودنوٹس لینے والے جج مقدمے کی سماعت کے دوران اس بنچ میں نہیں بیٹھ سکیں گے۔ جس جج کی توہین کی گئی ہوگی‘ وہ بھی توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے بننے والے بنچ کا حصہ نہیں ہوگا۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے توہین عدالت ترمیمی بل پیش کیا ۔ ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بل کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔ پرویز مشرف کا توہین عدالت کا قانون ختم کرنا چاہتے ہیں، اگر اپوزیشن جنرل پرویز مشرف کا قانون قائم رکھنا چاہتی ہے تو بتائے ۔بل کے تحت جو کوئی کسی عدالت کے کسی حکم ‘ہدایت یا کارروائی کی عدم تعمیل یا اس سے بے اعتنائی برتے جس کی اطاعت کرنے کا وہ قانوناًپابند ہو ‘یا عدالت سے کیے گئے باضابطہ وعدہ کی قصداً خلاف ورزی کرے یا کوئی ایسا کام کرے جس کا مقصد عدالت کی اتھارٹی یا نظم ونسق قانون کی بے عزتی کرنا یا اسے بدنام کرنا ہو یا قانون کی کارروائی یا کسی عدالتی کارروائی میں مداخلت کرے یا اس کے مانع ہو یا اس میں خلل ڈالے یا تعصب پھیلائے یا کسی عدالت کی اتھارٹی کو کمتر ظاہر کرے یا کسی جج کو اس کے عہدے سے متعلق رسوا کرے یا عدالت کے مراتب یا اس کے آداب میں خلل ڈالے تو کہا جائے گا کہ ’’توہین عدالت‘‘ ہوئی ہے مگر شرط یہ ہے کہ حسب ذیل کا ارتکاب توہین عدالت شمار نہ ہوگا ۔ ایک سرکاری عہدیدار کی جانب سے اپنے عہدے کی بابت دستور کے آرٹیکل248 کی شق 1 کے تحت ان اختیارات کے استعمال اور ان فرائض منصبی کی انجام دہی کے لیے کسی بھی کیے گئے کام یا جس کا کیا جانا مترشح ہو‘ عدالتوں کے عمومی کام سے متعلق مناسب تبصرہ جو مفاد عامہ اور مہذب زبان میں نیک نیتی سے کیا گیا ہو‘ عدالت کے کیے گئے فیصلے کی حقیقی کیفیت پر مناسب تبصرہ ‘کسی بھی دوسرے قانون کے تحت کسی بھی عدالتی کارروائی کی شفاف اور معقول حد تک درست اشاعت کرنا ‘کسی شخص کی جانب سے کسی بھی معاملے کی اشاعت جو کسی عدالتی کارروائی کے دوران زیر تجویز ہونے کی وجہ سے توہین عدالت کے زمرے میں ہو‘ جس کے پاس یہ باور کرنے کی معقول وجہ نہ ہو کہ مذکورہ عدالتی کارروائی معاملے کی اشاعت کے وقت زیر سماعت تھی‘ کسی جج کے خلاف کسی کارروائی کے آغاز کے لیے یا انضباطی کارروائی کے دوران ‘عدالت عالیہ کے چیف جسٹس ‘چیف جسٹس آف پاکستان ‘اعلیٰ عدالتی کونسل‘ وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کے سامنے نیک نیتی اور مہذب الفاظ میں دیا گیا حقیقی بیان صالح۔ توہین عدالت کی کارروائی میں 6 کے مفہوم میں بطور صفائی لی گئی سچائی کی دلیل جو کہ ابتدا کے بیان صالح سے پیدا ہوئی بجز اس کے کہ وہ جھوٹی ہو ‘عدالتی حیثیت میں جیسا کہ اعلیٰ عدالت کی جانب سے کسی اپیل یا نظرثانی یا مقدمے کی منتقلی کی درخواست پر عدالت کی جانب سے عدالتی کارروائی کے دوران کسی جج کے خلاف دی گئی۔ متعلقہ عدالتی آرا ‘کسی اتھارٹی کی جانب سے انتظامی حیثیت میں کسی سرکاری کام بشمول انضباطی انکوائری یا معائنہ جاتی نوٹ یا کردار نامہ یا خفیہ رپورٹ کے دوران دی گئی۔ ذیلی دفعہ 2 کے تابع کوئی شخص جو توہین عدالت کا مرتکب ہو‘ وہ چھ ماہ تک قید محض یا ایک لاکھ روپے جرمانے یا دونوں سزائوں کا مستوجب ہوگا ۔کوئی شخص جو توہین عدالت کے ارتکاب کا ملزم ہو‘ کسی بھی مرحلے پر معافی کی درخواست دائر کرسکے گا اور عدالت اگر مطمئن ہو کہ یہ نیک نیتی پر مبنی ہے تو وہ اسے رہا کرسکے گی یا اسے معاف کرسکے گی۔ کسی کمپنی کی طرف سے ارتکاب کی صورت میں یا یہ الزام ہو کہ اس کا ارتکاب کیا گیا ہے تو اس کی ذمہ داری کمپنی میں موجود اشخاص پر بالواسطہ یا بلاواسطہ عائد ہوگی اور وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے جو بجز سزا کے بھی مستوجب ہوں گے۔ کسی بھی فیصلے میں موجود کسی امر کے باجود کسی عدالت کو یہ اختیار نہیں ہوگا کہ وہ بجز اور ماسوائے ذیلی دفعہ کی مطابقت میں توہین کے کسی فعل کے لیے یا اس سے متعلق سزا کا کوئی حکم جاری کرے۔ بل کے تحت عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ‘ ازخود اپنی اطلاع پر یا کسی شخص کی جانب سے اس کے سامنے پیش کی گئی اطلاع پر مظہرہ توہین عدالت کے ارتکاب پر اختیار سماعت کرسکے گی۔عدالت عظمیٰ کو یہ اختیار ہوگا کہ کسی بھی جگہ پر اپنی یا عدالت عظمیٰ کے کسی بھی جج کی توہین پر اختیار سماعت کرے گی‘ جس کا ارتکاب واضح طور پر کیا گیا ہو اور عدالت عالیہ کو یہ اختیار ہوگا کہ کسی بھی جگہ پر اپنے یا اس کے کسی جج کی یا کسی دوسری عدالت عالیہ کی یا اس کے کسی جج کی توہین پر اختیار سماعت کرسکے گی جس کا ارتکاب اس کے اختیار سماعت کی علاقائی حدود کے اندر واضح طور پر کیا گیا ہو۔ بل کے تحت عدالت عالیہ اس ایکٹ کے تحت اختیار سماعت نہیں کرسکے گی جس پر اس کی ماتحت عدالت کی توہین کے ارتکاب کا الزام ہو جبکہ مذکورہ توہین مجموعہ تعزیرات پاکستان کے تحت قابل سزا جرم ہو۔ کوئی عدالت ‘اعلیٰ عدالتی کونسل کے روبرو بیان صالح پر جس کی بابت اعلیٰ عدالتی کونسل نے یہ تجویز کیا ہو کہ بیان صالح دفعہ 3 کے فقہ شرط کی شق 6 کی مقتضیات کو پورا کرتی ہے‘ بطور توہین عدالت اختیار سماعت نہ کرسکے گی۔ کوئی عدالت ‘مرافعہ ‘نگرانی ‘نظرثانی کی کارروائی کے دوران باضابطہ دیے گئے بیان صالح پر توہین عدالت بل کے تحت جہاں مقدمہ جس میں جج دفعہ 7 کی ذیلی دفعہ کے تحت کوئی حکم صادر کرے تو اس دفعہ کی ذیلی دفعہ (4) میں مجولہ مقدمہ کا شکار نہ ہو رہا ہو جو مظہر و توہین عدالت میں مذکورہ جج کی ذات کی رسوائی میںملوث ہو اور عدالت کی رسوائی بطور کل یا تمام عدالت کے جج صاحبان کے نہ ہوتی ہو تو جج مقدمہ کا ریکارڈ اور مذکورہ آرا‘ اگر کوئی ہوں جیسا کہ وہ موزوں خیال کرے، چیف جسٹس کو ارسال کرے گا۔ چیف جسٹس کی جانب سے تشکیل کردہ ججوں کے بنچ سے کون سا جج جو جرم کی پہلے اختیار سماعت کر رہا ہے اس کا رکن نہیں ہے اور تب مقدمہ کی سماعت بحسبہ کی جائے گی۔ اگر مقدمہ کے کسی مرحلے پر جس میں چیف جسٹس نے ذیلی دفعہ (2) کی شق (الف) کے تحت کوئی حکم صادر کیا ہو ‘ چیف جسٹس کی رائے ہو کہ انصاف کے مفاد میں ہے کہ مقدمہ دوسرے جج کو منتقل کر دیاجائے اور وہ اس طرح سے حکم جاری کرسکے گا اور تب مقدمہ کی مذکورہ دوسرے جج کی جانب سے سماعت کی جائے گی۔ جب ذیلی دفعہ (2 ) کے تحت کسی حکم کی پیروی میں جج جو پہلے مقدمے کی سماعت کر رہا ہو، مقدمے کی سماعت نہ کرے تو (الف) دوسرا جج یا جیسی بھی صورت ہو ‘ ججوں کا بنچ جو مقدمے کی سماعت کر رہے ہوں اس جج سے جو جرم کی پہلے اختیار سماعت کر رہا ہو سے کوئی بھی مزید آرا طلب یا حاصل کریں گے اور کسی بھی گو اہ کو طلب اور اس کی سماعت کریں گے۔ جس کی مذکورہ جج جرح کرنے کا خواہش مند ہو اور (ب) پہلی اختیار سماعت جرم کرنے والے کسی جج کی جانب سے فراہم کردہ تمام آرا کو مقدمے میں بطور شہادت لیا جائے گا اور مذکورہ جج کو شہادت دینے کے لیے طلب نہیں کیاجائے گا۔ جب کہ جرم کی پہلے اختیار سماعت چیف جسٹس کی جانب سے کی جانے کی صورت میں ‘ چیف جسٹس کے ذیلی دفعات (1)‘(2)اور (3) کے تحت کارہائے منصبی کی اگلے انتہائی دو متقدم ترین دستیاب ججوں مشتمل ججوں کے بنچ کی جانب سے تعمیل کی جائے گی۔ دفعہ ایک کے تحت سماعت کی منتقلی کیلئے قانونی کارروائیوں کی صورت میں یا کسی بھی قانونی کارروائی جس میں دفعہ تین کے فقرہ شرطیہ کی شق(2) کے مفہوم میں سچ بطور صفائی استدلال ہو‘ عدالت ‘ اگر مفاد عامہ میں موزوں متصور کرے ‘ مقدمے کی یا اس کے کسی حصے کی بند کمرے میں سماعت کر سکتی ہے اور مقدمے کی یا اس کے کسی حصے کی کارروائیوں کی اشاعت کو روک سکتی ہے۔ کوئی مواد جو حسب ذیل کے احکامات کے تحت ریکارڈ میں حذف کیا گیا ہو۔(ایک)اختیار سماعت کی مجاز عدالت یا(دو) سینیٹ یا قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کی صدارت کرنے والا افسر‘ شہادت کے طور پر قابل قبول ہو گا۔ اس ایکٹ کے تحت عدالت عالیہ کی جانب سے ابتدائی حکم صادر کرنے کی صورت میں اگر حکم ایک جج کی جانب سے صادر کیا گیا ہو تو اپیل ڈویژن بنچ میں کی جائے گی اور اگر یہ بنچ کے دو یا اس سے زائد ججوں کی جانب سے صادر کیا گیا ہو تو یہ اپیل عدالت عظمیٰ میں دائر کی جائے گی۔ کسی بھی مقدمے میں عدالت عظمیٰ کے بنچ کی جانب سے صادر کردہ اظہار وجوہ یا کسی ابتدائی حکم بشمول عبوری حکم کے اجرا کے خلاف ‘ اس میں زیر التوا مقدمہ شامل ہے‘ انٹرا کورٹ اپیل ملک کے اندر عدالت کے باقی ماندہ دستیاب ججوں پر مشتمل بڑے بنچ میں دائر کی جائے گی۔ (4 ) ذیلی دفعہ(1 ) یا ذیلی دفعہ (2 ) کے تحت اپیل دائر کی جائے گی۔ (الف) عدالت عالیہ کے بنچ میں اپیل کی صورت میں تیس دنوں کے اندر اور (ب) عدالت عظمیٰ میں اپیل کی صورت میں کی گئی اپیل کے خلاف حکم کی تاریخ سے ساٹھ دنوں کے انٹراکورٹ اپیل یا ازسر نو جانچ کے لیے درخواست اظہار و جوہ نوٹس یا حکم ‘جیسی بھی صورت ہو‘ کی تاریخ سے تیس دنوں کے اندر دائر کی جائے گی۔ وفاقی حکومت قواعد ‘جو اس ایکٹ کے احکامات سے متناقص نہیں ہوں گے ‘اپنے دستور العمل سے متعلق کسی معاملے کی فراہمی کے لیے وضع کرسکے گی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس