Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

صدرمرسی نے تحلیل شدہ مجلس الشعب کا اجلاس طلب کرلیا


قاہرہ9جولائی2012ء: مصری صدر محمد مرسی نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر مجلس الشعب (پارلیمنٹ) کا فوری طور پر اجلاس بلانے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ مصر کی عدالت عظمیٰ نے مرسی کے اس فیصلہ کا جائزہ لینے کے لیے پیر کو اجلاس بلالیا ہے۔ صدر مرسی نے اپنے فرمان میں مزید کہا ہے کہ نئے آئین کو عوامی توثیق بذریعہ ریفرنڈم کے بعد 60 دن میں نئے انتخابات منعقد ہوں گے جس کے بعد نئی پارلیمنٹ وجود میں آئے گی۔ یاد رہے کہ تحلیل شدہ اسمبلی اسلام پسندوں کی اکثریت ہے جس میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے پا س 40 فیصد، جبکہ النور سلفی پارٹی کے پاس 20 فیصد سیٹیں ہیں۔گزشتہ ماہ مصر کی عدالتِ عظمیٰ نے نو منتخب پارلیمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا جس پر فوجی قیادت نے پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے قانون سازی کے اختیار پر قبضہ کر لیا تھا۔عدالت کا مؤقف تھا کہ پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدواروں کے لیے مختص نشستوں پر سیاسی پارٹی کے امیدواروں نے مقابلہ کیا ہے۔تاہم اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے نو منتخب صدر محمد مرسی نے نئے انتخابات کے انعقاد تک ایوان کو بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اخوان المسلمون کی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر کا فیصلہ فوجی قیادت کو براہِ راست چیلنج ہے۔ریاستی ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے منسوخ کیا گیا ہے۔ صدر مرسی کے جاری کردہ صدارتی حکم نامے نے پارلیمنٹ کو آئیں بنانے کے لیے کہا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ آئین کی تشکیل کے60 روز بعد دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ اپنی حلف برداری کے موقع پر محمد مرسی نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ایک آزاد اور منصفانہ طریقے سے منتخب کی گئی ہے اور فوج اپنے اصل کردار یعنی ملکی دفاع کی جانب واپس جا رہی ہے۔دوسری جانب امریکی صدر اوباما نے اپنے مصری ہم منصب کو ستمبر میں امریکا میں منعقد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کی دعوت دی ہے لیکن صدر مرسی نے اپنے پہلے بیرون ملک دورے کیلیے سعودی عرب کو منتخب کیا ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس