Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

29 کھرب20 ارب کا خسارے کا بجٹ:جی ایس ٹی کم نہ ہوا


اسلام آباد2جولائی2012ء: مالی سال 2012-13ء کا 29 کھرب 60 ارب کا سالانہ بجٹ پیش کردیا جو گزشتہ سال سے 15.8فیصد زائد ہے۔بجٹ میں آمدنی 17کھرب75ارب روپے اورمالیاتی خسارہ11کھرب84ارب روپے ہے، بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس کم نہ ہوا،اسٹیل کی صنعت کے لیے بجلی 2روپے فی یونٹ مہنگی کردی گئی،15شعبوں کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹم کی مد میں دی جانے والی چھوٹ ختم کردی گئی۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20فیصد اضافہ کر دیا گیا،4لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا،وفاقی محاصل کا کل تخمینہ 3234 ارب روپے، ٹیکس وصولی کا ہدف 2381 ارب ، صوبوں کا حصہ 1459 ارب روپے ہو گا، بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے 183 ارب روپے مختص ،چائے ، سیمنٹ، ربڑ، ادویات ، کتب،ا سٹیشنری، ہائبرڈ گاڑیاں سستی ، سگریٹ مہنگے ، 10اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم ، ادویات کی تیاری میں استعمال ہونے والے 94 آئٹمز پرکسٹم ڈیوٹی ختم ، توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے 183 ارب روپے ،وزارت دفاع کے لیے 5 کھرب ‘کابینہ ڈویژن کے لیے 32 ارب ‘ کابینہ ڈویژن اور سیکرٹریٹ کے اخراجات کے لیے 2 کھرب اور ایک ارب اوربی آئی ایس پی کے لیے 70 ارب روپے مختص ، جنرل سیلز ٹیکس کی مختلف شرحوں کا خاتمہ کر کے16فیصد یکساں جی ایس ٹی لاگو، کسٹم ڈیوٹی 35 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد ،وزیراعظم ہائوس کو اعلیٰ تعلیمی ادارے میں تبدیل کیا جائے گا ،برآمدات 25 ارب ڈالرتک پہنچنے کی توقع ہے،ٹیکس دینے والوں کے لیے ٹیکس پیئر کارڈ بنایا جائے گا، پرائم منسٹر ہائوس کو انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانس سٹڈیز بنانے اور شمسی ٹیوب ویلوں پر سبسڈی دینے کا فیصلہ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 70 ارب روپے مختص، پروگرام کے کارڈ ہولڈرز کو یوٹیلٹی سٹورز پر 10 فیصد خصوصی رعایت،ایک لاکھ پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کوکام کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، ٹیکس سلیب کم کرکے 5 کر دیے گئے، پنشن اسکیمیں ٹیکس سے مستثنیٰ، مینوفیکچررز کو ود ہولڈنگ ایجنٹ بنانے کی تجویزدی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں حکومت نے سیلزٹیکس مساوی کرکے 16 فی صد کردیا ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشنرز کے لیے بیس فی صد ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے ایوان وزیر اعظم کو ایک تعلیمی انسٹی ٹیوٹ میں بدل دینے کا اعلان کیا ہے مالی سال 2012-13ء بجٹ میں سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 873 ارب روپے ہے،وفاق کاحصہ 360 ارب اور صوبوں کا 513 ارب روپے ہے، مجموعی ترقیاتی حجم فنانس بل 2012-13ء کا حصہ ہو گا ۔ 2012-2013ء کے لیے پی ایس ٹی پی کے تحت کابینہ ڈویژن کے لیے 2 ارب 17 کروڑ 78 لاکھ روپے ،پانی و بجلی ڈویژن (شعبہ آب)کے لیے 47 ارب 19 کروڑ 23 لاکھ روپے ،کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن کے لیے 79 کروڑ 15 لاکھ روپے ، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے 13 کروڑ 50 لاکھ روپے ، کامرس ڈویژن کے لیے 65 کروڑ 38 لاکھ روپے ،مواصلات ڈویژن (علاوہ این ایچ اے) کے لیے 14 کروڑ 21 لاکھ روپے ،دفاع ڈویژن کے لیے 3 ارب 20 کروڑ 52 لاکھ روپے ،دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے 2 ارب روپے ،اقتصادی امور ڈویژن کے لیے 21 کروڑ 17 لاکھ روپے اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لیے 80 لاکھ روپے ، وفاقی ٹیکس محتسب کے لیے 2 کروڑ 50 لاکھ روپے، فنانس ڈویژن کے لیے 13 ارب 61 کروڑ 60 لاکھ روپے ، خارجہ امور ڈویژن کے لیے 20 کروڑ روپے ، ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 15 ارب 80 کروڑ روپے ، ہائوسنگ و تعمیرات ڈویژن کے لیے 2 ارب 59 کروڑ 14 لاکھ روپے ،انسانی حقوق ڈویژن کے لیے 12 کروڑ 60 لاکھ روپے اور انڈسٹریز ڈویژن کے لیے 77 کروڑ 45 لاکھ روپے ،اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے 48 کروڑ 23 لاکھ روپے،انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن کے لیے 78 کروڑ 74 لاکھ روپے ،بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے لیے 19 کروڑ 50 لاکھ روپے ،داخلہ ڈویژن کے لیے 6 ارب 50 کروڑ 98 لاکھ روپے ،امور کشمیر و گلگت بلستان ڈویژن کے لیے 20 ارب 5 کروڑ 52 لاکھ روپے، قانون، انصاف و پارلیمانی امور ڈویژن کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے ،انسداد منشیات ڈویژن کے لیے 31 کروڑ 11 لاکھ روپے ،پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے لیے 39 ارب 16 کروڑ 74 لاکھ روپے ،پاکستان جوہری ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 40 کروڑ روپے ،پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈویژن کے لیے 26 کروڑ 81 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت آئندہ مالی سال 2012-13ء کے بجٹ میں چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان ‘ آزادکشمیر اور فاٹا کے لیے بہبودآبادی پروگرام کے لیے مجموعی طورپر تین ارب 45 کروڑ 60 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ۔صوبہ پنجاب میں بہبود آبادی پروگرام کے لیے ایک ارب 54 کروڑ 90 لاکھ روپے‘ صوبہ سندھ کے لیے 88 کروڑ 50لاکھ روپے ‘ خیبرپختونخوا کے لیے 47 کروڑ 70لاکھ روپے اور صوبہ بلوچستان کے لیے 39 کروڑ 10 لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح بہبود آبادی پروگرام گلگت بلتستان کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں چار کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ آزاد جموں کشمیر کے لیے سات کروڑ 80 لاکھ روپے اورفاٹا میں بہبود آبادی پروگرام کے لیے تین کروڑ 50 لاکھ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت آئندہ مالی سال برائے 2012-13ء کے وفاقی بجٹ میں فنانس ڈویژن کے مختلف جاری ونئے منصوبوں کے لیے 13 ارب 61 کروڑ 60 لاکھ 44 ہزار روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ۔ فنانس ڈویژن کے کل 74 منصوبوں کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیاگیا ہے جن کے مجموعی اخراجات کاتخمینہ ایک کھرب 36 ارب 90 کروڑ 21 لاکھ 55 ہزار روپے ہے جس میں 14 ارب 31 کروڑ 41لاکھ 29 ہزار روپے کے بیرونی امداد شامل ہوگی۔ پی ایس ڈی پی کے اعدادوشمار کے مطابق جون 2012ء تک ان منصوبوں پر 42ارب 42کروڑ 73 لاکھ 9 ہزار روپے کے اخراجات کئے جاچکے ہیں اورآئندہ مالی سال کے لیے بجٹ میں مجموعی 13ارب61کروڑ 60 لاکھ 44 ہزار روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں جن میں 12ارب 23کروڑ 11لاکھ 44 ہزار روپے کی بیرونی امداد بھی شامل ہے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال برائے 2012-13ء کے وفاقی بجٹ میں وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 20 ارب 5کروڑ 52 لاکھ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ۔ آزاد کشمیرمیں پن بجلی کے تین جاری منصوبوں سمیت 9 منصوبوں کیلئے12 ارب 90لاکھ روپے جبکہ گلگت بلتستان میں پن بجلی کے چارمنصوبوں سمیت 5 منصوبوں کیلئے 8ارب 3کروڑ90لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت وفاقی بجٹ میں وزارت اطلاعات ونشریات کے 30منصوبوں کیلئے 41 کروڑ 22لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق ملتان میں ٹی وی سنٹر کے قیام کیلئے 80 لاکھ روپے ، لانڈھی کراچی میں ٹرانسمیٹرکی تنصیب کیلئے 4کروڑ روپے، کی الیکٹرانک نیوز گیدرنگ سروس کیلئے 3 کروڑ روپے، مظفرآباد، حیدرآباد اورملتان میں 100 کلوواٹ کے تین ٹرانسمیٹرزکی تبدیلی کیلئے 5کروڑ 50 لاکھ روپے، گوادر بلوچستان میں ٹرانسمیٹرکی تبدیلی کیلئے ایک کروڑ روپے، میاں چنوں میں ری براڈ کاسٹ سٹیشن کیلئے دو کروڑ 50 لاکھ روپے، بدین میں ری براڈ کاسٹ سٹیشن کیلئے ڈیڑھ کروڑ روپے ، کیل آزاد کشمیرمیں ری براڈ کاسٹ سٹیشن کیلئے ایک کروڑ روپے، شگر گلگت بلتستان میں پی ٹی وی کے ری براڈ کاسٹ سٹیشن کیلئے ایک کروڑ روپے، استورکیلئے ایک کروڑ 40لاکھ روپے، چلاس کیلئے ایک کروڑ روپے، خاران بلوچستان کیلئے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے وفاقی بجٹ میں وزارت انسداد منشیات کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 31 کروڑ 10 لاکھ 55 ہزار روپے مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے، کالاڈھاکہ ایریا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیلئے 7 کروڑ 34 لاکھ 9ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 6 کروڑ روپے بیرونی امداد شامل ہے، کوہستان ایریا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کیلئے 5 کروڑ 17 لاکھ 19 ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 4 کروڑ بیرونی امداد شامل ہے۔ اس طرح خیبر ایریا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ فیز ٹو کیلئے 5 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں جس میں 4کروڑ بیرونی امداد شامل ہے ۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی کی تعمیر کیلئے 5 کروڑ ایک لاکھ 27 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20فیصد اضافہ کر دیا گیا، 2011-12 میں دیا جانے والا ایڈہاک الانس تنخواہ میں شامل نہیں ہوگا۔ گریڈ ایک کے ملازم کی بنیادی تنخواہ میں 1800 روپے اضافہ کیا گیا جس کے بعد گریڈ ایک کے ملازم کی بنیادی تنخواہ 4600 سے بڑھ کر 6600 ہوگئی ہے۔ گریڈ 2 کے ملازم کی تنخواہ 900 روپے اضافے کے ساتھ 5800 ہوگئی ہے۔ گریڈ 3 کے ملازم کی تنخواہ 2150 اضافے کے ساتھ 7100، گریڈ 4 کے ملازم کی تنخواہ بڑھ کر 7400، گریڈ 5 کی تنخواہ 7800، گریڈ 6 کی 8200، گریڈ 7 کی 8600، گریڈ 8 کی 9000، گریڈ 9 کی 9400، گریڈ 10 کی 9800، گریڈ 11 کی 10200، گریڈ 12 کی 11000، گریڈ 13 کی 12000، گریڈ 14 کی 13200، گریڈ 15 کی 14600، گریڈ 16 کی تنخواہ میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، گریڈ 16 کی تنخواہ 10 ہزار سے بڑھ کر 18 ہزار ہوگئی ہے، گریڈ 17 کی 26400، گریڈ 18 کی 34000، گریڈ 19 کی 49300، گریڈ 20 کی 64000، گریڈ 21 کی 70 ہزار اور گریڈ 22 کی تنخواہ بڑھ کر 80 ہزار ہوگئی ہے۔ ہائوس رینٹ بنیادی تنخواہ کا 45 فیصد دیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 15 تک کے ملازمین کا میڈیکل الائونس دو گنا کر دیا گیا ہے۔ ان ملازمین کا میڈیکل الاونس 1000 سے بڑھا کر 2000 کر دیا گیا ہے۔ گریڈ 16 سے اوپر کے سرکاری ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد میڈیکل الائونس ملے گا۔ گریڈ 1 سے 15 تک کا کنوینس الاونس 2270 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ گریڈ 16 سے اوپر افسران کو 5 ہزار روپے کنوینس الائونس ملے گا۔ 2011 -10 کے 15 اور 50 فیصد ایڈہاک الاونس کو تنخواہ سے نکال دیا گیا بجٹ میں دفاع ڈویژن کے لیے 3ارب 20کروڑ52 لاکھ روپے مختص کئے گئے جبکہ ختم ہونے والے مالی سال کے لیے تین ارب 84کروڑ57 لاکھ روپے مختص کئے گئے تھے اسی طرح دفاعی پیداوار ڈویژن کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 2ارب روپے مختص کئے گئے ہیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بندرگاہوں وجہازرانی ڈویژن کے دو منصوبوں کے لیے 32کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کئے گئے جن پر مجموعی لاگت کاتخمینہ 6 ارب 76کروڑ 96لاکھ روپے لگایاگیا ہے ۔ بندرگاہوں وجہاز رانی کے شعبہ کے جن دو بڑے منصوبوں کے لیے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں رقوم مختص کی ہے ان میں پہلا بڑا منصوبہ گوادر بندرگاہ کونیشنل روڈ نیٹ ورک سے ملانے کے لیے ایسٹ وے ایکسپریس وے کی تعمیر کا منصوبہ ہے جس کے لیے لاگت کا تخمینہ 6ارب 27کروڑ 40 لاکھ روپے لگایا گیا ہے بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے 9منصوبوں کیلئے ساڑھے19کروڑ روپے مختص کئے گئے آئندہ مالی سال کے دوران 100بنگلہ دیشی اور200 مقبوضہ کشمیرکے طالب علموں کو پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں سکالر شپ سمیت بین الصوبائی رابطہ ڈویژن کے مختلف 9منصوبوں کیلئے 19کروڑ 50لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں سرکاری شعبہ میں ترقیاتی پروگرام کے تحت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے مجموعی طور پر50 ارب 72 کروڑ 72 لاکھ 21 ہزار روپے فراہم کرنے کا پروگرام جاری کیا گیا لوک ورثہ میڈیا سینٹرکی اپ گریڈیشن کیلئے 5 کروڑ 90لاکھ ، پینٹنگز اورآرٹ ورکس کے ڈیٹا بیس کی تیاری کیلئے ایک کروڑ، نایاب اورخستہ حال پینٹنگز اور آرٹ ورکس کی بحالی کیلئے لیبارٹری قائم کرنے کیلئے 64 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ٹیلی کام کے تمام منصوبوں پرکل 7ارب 61کروڑ 99لاکھ 38 ہزار روپے خرچ کئے جائیں گے وزارت ریلویز کیلئے 22ارب 87کروڑ 72 لاکھ 77ہزار روپے مختص کئے گئے ۔ 150 نئے ڈی ای لوکوز خریدنے کیلئے 50 کروڑ روپے اور50 لوکوموٹوز کی خریداری اورمرمت و بحالی کیلئے دو ارب روپے مختص کئے گئے ۔ کراچی سرکلر ریلویز کیلئے 10 کروڑ اور شاہدرہ سے لالہ موسیٰ ٹریک کی بحالی کیلئے بھی 10کروڑ روپے ، 202 نئی مسافر کوچزکی خریداری اور پرانی بوگیوں کی مرمت و بحالی کیلئے 5 ارب 73 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ خانیوال سے رائونڈ تک ڈبلنگ آف ٹریک منصوبے کے لیے ایک ارب 50 کروڑ جبکہ شاہدرہ سے فیصل آباد تک ڈبلنگ آف ٹریک منصوبے کیلئے دو کروڑ 17 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، لودھراں، خانیوال سے شاہدرہ باغ میں لائن سیکشن سگنلز کی تبدیلی کیلئے دو ارب 50 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، ہائی کپیسٹی بوگی ویگنوں اور پاور وینز کی خریداری کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر37 کروڑ 80لاکھ 95 ہزار روپے مختص کئے گئے ہیں آئی ٹی کے ان منصوبوں پر مجموعی طور پر دو ارب 14 کروڑ 46 لاکھ 20 ہزار روپے خرچ ہونگے تاہم ان منصوبوں پر جون 2012 ء تک ایک ارب 42 کروڑ 84 لاکھ 6 ہزار روپے خرچ کئے جاچکے ہیںکابینہ ڈویژن کے 28منصوبوں کیلئے دو ارب 17کروڑ 78لاکھ روپے مختص کئے گئے ۔ 106فیملی سوٹس کے قیام کیلئے 51 کروڑ 25 لاکھ روپے، چراہ ڈیم کی تعمیرکیلئے 50کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے پینسل ،سیاہی اور کاپیوں سمیت سٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم کرنے اور مقامی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس کی شرح 16سے کم کر کے 6فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ 4 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والوں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے‘تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس سلیب 17سے کم کر کے 5کردی گئی ہے ۔بجٹ میں 94 اشیا کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی اور لائیو اسٹاک انشورنس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم اورلبریکنٹ آئل ،سیمنٹ اور مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کم کی گئی ہے وفاقی بجٹ میں 15 شعبوں کو انکم ٹیکس ،سیلز ٹیکس اور کسٹم کی مد میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2012-13کے وفاقی بجٹ میں 15 شعبوں کو انکم ٹیکس ،سیلز ٹیکس اور کسٹم کی مد میں دی جانے والی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،چار لاکھ تک آمدنی والے افراد ٹیکس سے مستثنی جبکہ بنک سے پچیس ہزار کے بجائے پچاس ہزار نکلوانے پر ٹیکس دینا ہو گا ۔ پینسل ،سیاہی اور کاپیوں سمیت سٹیشنری پر سیلز ٹیکس ختم کرنے اور مقامی مصنوعات میں استعمال ہونے والے خام مال پر ٹیکس کی شرح 16 سے کم کر کے 6 فیصد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس